بے گناہی کی غیر معمولی سزا

Updated: March 10, 2021, 11:29 AM IST | Editorial

ہمارا وہ قومی میڈیا جو کورونا کی وباء پھیلانے کیلئے تبلیغی جماعت کے لوگوں کے خلاف طومار باندھ رہا تھا، گزشتہ دنوں اُس وقت خاموش خاموش سا رہا جب ممنوعہ تنظیم سیمی سے تعلق یا اُس کی سرگرمیوں کے فروغ کے الزام میں ۱۲۷؍ افراد ہر الزام سے بَری کردیئے گئے۔

Tablighi Jamaat - Pic : INN
تبلیغی جماعت ۔ تصویر : آئی این این

 ہمارا وہ قومی میڈیا جو کورونا کی وباء پھیلانے کیلئے تبلیغی جماعت کے لوگوں کے خلاف طومار باندھ رہا تھا، گزشتہ دنوں اُس وقت خاموش خاموش سا رہا جب ممنوعہ تنظیم سیمی سے تعلق یا اُس کی سرگرمیوں کے فروغ کے الزام میں ۱۲۷؍ افراد ہر الزام سے بَری کردیئے گئے۔ فیصلہ ۱۹؍ سال بعد آیا مگر واضح اور دوٹوک ہے۔ اس کی وجہ سے تمام ملزمین راحت کا سانس لے سکیں گے اور نئے سرے سے معمول کی زندگی گزار سکیں گے، یہ الگ بات کہ اُن کی عمر عزیز کی کم و بیش دو دہائیاں کسی صورت اُنہیں واپس نہیں دلائی جاسکتیں جن کا ایک ایک دن اور رات کرب و اضطراب میں گزری ہے۔ سورت کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت نے صاف لفظوں میں کہا کہ ۲۸؍ دسمبر ۲۰۰۱ء کو سورت کے نوساری بازار ہال سے گرفتار کئے گئے افراد اور چند دیگر جو وہاں موجود نہیں تھے مگر ملزم بنائے گئے، ایک تعلیمی جلسے میں شرکت کیلئے یکجا ہوئے تھے، اُن کے پاس کسی کوئی اسلحہ نہیں تھا، اُن کے خلاف پیش کئے گئے شواہد قابل اعتبار ہیں نہ ہی اطمینان بخش، یہ ثابت نہیں ہوا کہ وہ ممنوعہ تنظیم کے بینر تلے جمع ہوئے تھے، پولیس کا چھاپہ پڑنے کے بعد اُن میں سے کسی نے بھاگنے کی کوشش نہیں کی، اُن کے پاس سے جو لٹریچر  برآمد کیا گیا اُس کا سیمی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، وغیرہ۔ مجسٹریٹ امیت کمار دوے نے اُنہیں مکمل طور پر بے گناہ پایا اور باعزت بری کردیا۔
 ملزمین کی تعداد: ۱۲۷۔ قصور: کچھ نہیں، مگر (غیر عدالتی) سزا؟: دو چار دن نہیں، دوچار مہینے یا دوچار سال بھی نہیں بلکہ انہیں کم و بیش ۲۰؍ سال کی شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہونا پڑا، روزگار چھن گیا، الزام لگنے کے بعد اپنے بیگانوں نے منہ موڑ لیا اور اس طرح اُن کے اہل خانہ کو سماجی بائیکاٹ جیسی صورتحال سے دوچار ہونا پڑا۔ ان میں سے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سنجیدہ فکر لوگ ہیں۔ اس پورے پس منظر میں دو سوال بہت اہم ہیں: انہیں اگر کسی شک میں گرفتار کیا گیا تو پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑ کیوں نہیں دیا گیا، کیا انہیں پھنسانے ہی کا منصوبہ تھا؟ دوسرا سوال: عدالتی عمل میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی جبکہ کیس میں کچھ دم نہیں تھا۔ 
 پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں یہ چلن عام ہوگیا ہے کہ پولیس لوگوں کو گرفت میں لے لیتی ہے، اُن پر الزام عائد کردیا جاتا ہے، چارج شیٹ بھی داخل ہوجاتی ہے مگر نہ تو انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہوا ہوتا ہے نہ ہی اُن کے خلاف کوئی قابل قبول ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔ سنیچر ۶؍ مارچ کو اگر مذکورہ ملزمین بَری کئے گئے ہیں تو اس سے چار روز پہلے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر وشنو تیواری نامی ایک ایسا شخص آگرہ سینٹرل جیل سے رہا ہوا ہے جس پر آبروریزی جیسا سنگین الزام عائد تھا۔ وشنو کو ۱۹؍ سال جیل میں گزارنے پڑے۔ اس سے قبل پرانی دلی کا ایک نوجوان محمد عامر خان ۱۴؍ سالہ قیدوبند کے بعد رِہا ہوا۔ اس کیخلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ ایسے بہتیرے کیسیز ہیں ۔یہ ہمارے سسٹم کا قصور ہے۔ 
 دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ عدالتوں میں مقدمات کا انبار ہے، ججوں کی تعداد کم ہے، تفتیشی ادارے خود بھی کیس کے جلد نمٹارے میں دلچسپی نہیں لیتے،  تاریخ لیتے رہتے ہیں چنانچہ مقدمات کے فیصل ہونے میں اکثر اوقات صرف تاخیر نہیں، غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے۔ چنانچہ سسٹم کو ٹھیک کرنا، تفتیشی اداروں کی جوابدہی طے کرنا، عدالتوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا اور نوعیت کے اعتبار سے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ کس قسم کا کیس زیادہ سے زیادہ کتنے وقت میں فیصل ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK