• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گھر کچا تھا، دیواریں مٹی کی تھیں، چھت کمزور تھی، مگر یہی لوگوں کی دنیا ہوتی تھی

Updated: September 29, 2026, 10:00 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

واقعی پہلے گاؤں کی زندگی میں بڑی سادگی تھی۔ کسی کے گھر ایک سائیکل آجاتی تو وہ صرف اس کے گھر کی سائیکل نہیں رہتی تھی، پورا گاؤں اس کا مالک بن جاتا تھا۔

The rains are now drawing to a close, but many mud houses in the village have borne the brunt of the weather. Photo: INN
بارش اب رخصت ہونے کو ہےمگر گاؤں میں بہت سے کچے مکانوں  کی شامت آئی ہوئی ہے۔ تصویر: آئی این این

بارش جاتے جاتے اپنے ساتھ بہت کچھ بہا لے جاتی ہے۔ کہیں کھیتوں کےمینڈ مٹ جاتے ہیں، کہیں پگڈنڈیاں کیچڑ میں گم ہوجاتی ہیں اور کہیں برسوں سے کھڑے پرانے درخت بھی زمین بوس ہوجاتے ہیں۔ وہ درخت جو نہ جانے کتنی نسلوں کو اپنی چھاؤں دیتے رہے، جن کے نیچے دوپہر کی تھکن اتاری گئی، جن کی شاخوں پر بچوں نے جھولے ڈالے، وہ بھی کبھی کبھی ایک تیز آندھی اور بارش کے سامنے ہار جاتے ہیں۔ درختوں  کے ساتھ کتنے ہی ایسے کچے مکان بھی بارش کی نذر ہو رہے ہیں۔ روزی روٹی کے چکر میں گائوں  کے اکثر مکانوں  میں  تالے لگے ہیں۔ ان میں  کچے بھی ہیں اور پکے بھی، لیکن بارش میں ایسے بند پڑے کچے مکانوں پر افتاد پڑی ہے۔ وہ مکان جہاں کبھی بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں۔ صبح ہوتے ہی چولہے سے دھواں اٹھتا، دروازے پر بزرگ چارپائی ڈال کر بیٹھتے اور شام ڈھلتے ہی گھر کے سب لوگ اسی آنگن میں جمع ہو جاتے تھے۔ اس چوکھٹ نے جانے کتنے سرد و گرم دن دیکھے ہوں گے۔ کتنی خوشیاں اسی دروازے سے اندر داخل ہوئی ہوں گی اور کتنے غم اسی دہلیز پر بیٹھ کر آنکھوں سے بہے ہوں گے۔ کبھی اس گھر کے مکینوں کو اس سے ایسی محبت تھی کہ انہیں پردیس کا خیال بھی نہیں آتا تھا۔ گھر کچا تھا، دیواریں مٹی کی تھیں، چھت بھی کمزور تھی، مگر یہی ان کی دنیا ہوتی تھی۔ بارش نے تنہا کھڑے گھروں کی دیواریں  ہلا دی ہیں اوراب وہ رفتہ رفتہ گِر رہے ہیں۔ 
پہلےگھر کے سب لوگ شہر کمانے نہیں  جاتے تھے۔ اگر کبھی اتفاق سے گھر کے سبھی افراد کو شہر جانا پڑتا تو گھر کی چابی کسی پڑوسی کے سپرد کرکے جاتے تھے۔ وہ پڑوسی گھر کی صفائی بھی کر دیتااور اس کی اپنے ہی گھر کی طرح دیکھ بھال کرتا تھا اور کبھی اس کے اپنے گھر میں مہمان زیادہ ہوجاتے تو ضرورت کے وقت اس بند پڑے مکان کو بھی استعمال کر لیتا تھا، لیکن اب صورتِ حال مختلف ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ لوگوں کا ایک دوسرے پر پہلے جیسا اعتماد نہیں رہا، اور دوسری یہ کہ اب چابی کس پڑوسی کے حوالے کی جائے... جب پڑوس کے مکان پر بھی پہلے سے تالا لٹک رہا ہو۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ گاؤں کے سب لوگ گاؤں چھوڑ کر شہر کا رخ کرچکے ہیں، لیکن اب ایک بڑی تعداد ایسی ضرور ہے جو گاؤں میں رہنا نہیں چاہتی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ گاؤں میں شہروں جیسی سہولتیں نہیں ہیں۔ معیاری تعلیمی اداروں کی کمی ہے اور روزگار کے مواقع بھی محدود ہیں، لیکن ان سب کے درمیان ایک بڑی وجہ ہماری بڑھتی ہوئی خواہشیں بھی ہیں۔ 
پڑوسی شہر میں کما کر ایک نئی کار خرید لایا تو دوسرے پڑوسی کے دل میں بھی کار کی خواہش جاگ اٹھی۔ اس نے بھی سوچا کہ آخر میں کیوں پیچھے رہوں، اور یوں وہ بھی شہر کی طرف دوڑ پڑا۔ پہلے لوگوں کے اندر قناعت تھی، جو ملا اسی میں خوش رہنے کا ہنر آتا تھا، لیکن اب خواہشیں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ ’ہل من مزید‘ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ قناعت پر ایک واقعہ یاد آیا۔ لکھنؤ میں ایک بڑا جلسۂ عام تھا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی علی میاں ؒ صاحب خطاب فرما رہے تھے۔ حضرت کی عادت تھی کہ اپنی گفتگو مکمل کرنے کے بعد سوال و جواب کیلئے بھی کچھ وقت رکھتے تھے۔ اسی سوال و جواب کے وقفے میں ایک صاحب کھڑے ہوئے اور حضرت کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے...حضرت والا! میرے پاس اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے۔ مالی آسودگی ہے، ہر ضرورت پوری ہورہی ہے، لیکن پھر بھی زندگی میں سکون نہیں ہے۔ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے... مولانا علی میاں ؒ نے صرف ایک لفظ میں  جواب دیا...’قناعت‘بس اتناسننا تھا کہ وہ شخص مطمئن ہوکر بیٹھ گیا۔ 
واقعی پہلے گاؤں کی زندگی میں بڑی سادگی تھی۔ کسی کے گھر ایک سائیکل آجاتی تو وہ صرف اس کے گھر کی سائیکل نہیں رہتی تھی، پورا گاؤں اس کا مالک بن جاتا تھا۔ کوئی گیہوں رکھ کر چکی پر لے جاتا، کوئی رشتہ داری میں جانے کیلئے مانگ لیتا۔ غرض یہ کہ ہر دوسرے تیسرے دن وہ سائیکل کسی نہ کسی کے کام آتی اور سائیکل رکھنے والا مجال کیا تھی کہ اُف تک کرتا۔ پھر آہستہ آہستہ گاؤں میں سائیکلیں بڑھنے لگیں مگر سائیکل میں ہوا بھرنے کا پمپ کسی ایک ہی گھر میں ہوتا تھا۔ دن بھر میں دو چار بار ضرور کوئی نہ کوئی آواز دیتا...’بھیا پمپیا لاوا، ہوا بھرے کا ہے۔ ‘اور یہ معاملہ بھی بڑا دلچسپ تھا۔ اگر کبھی گھر میں مرد نہ ہوتے تو گھر کی عورتیں بچوں کے ہاتھ پمپ باہر بھجوا دیتیں۔ حالانکہ وہ چاہتیں تو صاف انکار کرسکتی تھیں۔ ان کے پاس ایک بالکل معقول بہانہ تھا کہ گھر میں کوئی مرد نہیں، پمپ کس کے ہاتھ باہر بھجوایا جائے...لیکن اُس زمانے کی عورتیں بھی ایک دوسرے کے دکھ سکھ اور ضرورت کا بڑا خیال رکھتی تھیں۔ کئی بار وہ جھنجھلا کر کہتیں ...پمپ نہ ہوئی مصیبت ہوگئی ہے، جب دیکھو گھر کے باہر کوئی سائیکل لئے کھڑا ہے... لیکن یہ غصہ صرف گھر کی چار دیواری تک محدود رہتا۔ باہر کھڑے شخص کو اس کا ذرا بھی احساس نہ ہونے دیا جاتا۔ اندر جی بھر کر اپنی بھڑاس نکالنے کے بعد بھی پمپ باہر بھجوا دیا جاتا تھا۔ یہی تو اُس زمانے کے گاؤں کی خوبصورتی تھی۔ چیزیں کم تھیں، مگر دل بڑے تھے، سہولتیں محدود تھیں، مگر ایک دوسرے کا بڑا خیال ... اس لئے زندگی میں سکون بھی زیادہ تھا۔ 
ہاں تو بات کچے مکان کی ہو رہی تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ شاید پانچ دس برس بعد گاؤں میں کچا مکان ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ نئی نسل کچے مکانوں کو صرف تصویروں میں ہی دیکھ پائے۔ وقت کی رفتار نے گاؤں کے نقشے کو بھی بدلنا شروع کر دیا ہے اور کچے مکان، جو کبھی گاؤں کی پہچان ہوا کرتے تھے، آہستہ آہستہ یادوں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ خیر اَب کوئی کچا مکان کیوں بنانا چاہے گا اور اگر کسی کو شوق ہوا بھی تو یہ شوق اب آسان نہیں رہا۔ کچے مکانوں کے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ اُس کے کاریگر بھی اب نظر نہیں  آتے ہیں۔ بارش اب رخصت ہونے کو ہےمگر بہت سے کچے مکانوں  کی شامت آئی ہوئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK