آن لائن ویب نارکامستقبل کتنا روشن ؟

Updated: January 11, 2021, 12:49 PM IST | adabnama desck

منتظمین کیلئے آن لائن ویب نار کا انعقاد بالکل نیا تجربہ تھا اور کئی لحاظ سے انوکھا بھی ، اب چونکہ لاک ڈائون میں بڑی حد تک نرمی دی جاچکی ہے اسی لئے ہم نے چند منتظمین سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ آن لائن ویب نار کی افادیت کو اب بھی کتنی اہمیت دیتے ہیں

Picture.Picture :INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

  کورونا نامی عالمی وباء کے ہولناک دور میں بھی انسان اپنی ذہانت وصلاحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔چو نکہ آج کا عہد سائنس وٹکنالوجی کا عہد ہے اور جدید ٹکنالوجی نے پوری دنیا کو ایک گائوںمیں تبدیل کردیا ہے  اس لئے وباء کا اثر بھی  پوری دنیا میں ایک ساتھ اور ایک جیسا محسوس کر رہی ہے۔اس وبائی دور میں جہاں دیگر شعبۂ حیات کے افراد اپنی اپنی فطری صلاحیتوں اور ذہانت کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہیں اردو کے ادباء اور شعراء بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ اس لئے اردو کے ادباء اور شعراء جدید ترین سہولتو ں کے سہارے نہ صرف اپنی تخلیقات کو  دوسروں تک پہنچا رہے ہیں بلکہ اس معاملہ میں ان کی فعالیت قابلِ رشک ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کے علاوہ انفرادی طورپر بھی اردو کے ادباء اور شعراء اپنی تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعہ اردو معاشرے کو  وباء سے ماحول سے باہر نکالنے اور نفسیاتی طورپراس میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت سوشل میڈیا کی اہمیت غیر معمولی ہو گئی ، وہاٹس ایپ ، فیس بک، انسٹا گرام ، ٹویٹر ، یو ٹیوب وغیرہ کے ذریعہ اردو کے ادباء اور شعراء اپنی علمی وادبی فعالیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن ان سب سے بڑھ کر جو طریق کار سخت لاک ڈائون کے دنوں میں اپنایا گیا وہ آن  لائن  ویب نار ہیں۔ قومی سطح پر تو اسےمسلسل فروغ دیا جاہی رہا ہے نجی ادارے بھی سمینار ، مذاکرے ، مشاعرے اور انٹرویوز وغیرہ فیس بک لائیو کے ساتھ  ویب نار کی مدد سےمنعقد کررہے ہیںبلکہ یہ کہا جائےتو غلط نہیں ہو گا کہ لاک ڈائون کے دوران ویب نار کے ذریعے ہی مختلف ادبی پروگرام منعقد کئے گئے۔ منتظمین کیلئے یہ بالکل نیا تجربہ تھا لیکن اس لحاظ سے انوکھا بھی تھا کہ وہ ایک نئے دور میں قدم رکھ رہے تھے جو ان کے لئے ہر لحاظ سے سود مند ثابت ہونے والا تھا ۔ اب چونکہ لاک ڈائون میں بڑی حد تک نرمی دی جاچکی ہے ، کچھ جگہوں پر پروگرام منعقد بھی کئے جارہے ہیں ، توسوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا ویب نار کا مستقبل تاریک ہو گیا یا پھر یہ سلسلہ پروگراموں کے انعقاد کے ساتھ ساتھ جاری رہے گا۔ ہم نے اس سلسلے میں ایسے ہی پروگراموں کا انعقاد کرنے والے  چند منتظمین سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ آن لائن ویب نار کی افادیت کو اب بھی کتنی اہمیت دیتے ہیں اور اسے برقرار رکھنے کے لئے وہ کیا اقدامات کریں گے ۔
 اردو کارواں کے روح رواں فرید خان نے جنہوں نے گزشتہ ۶؍ ماہ کے دوران مسلسل اس ضمن میں کام کیا ہے اور مختلف موضوعات پر ویب نار منعقد کئے ہیں ، بتاتے ہیں کہ ویب نار ،ہال میں منعقد کئے جانے والے پروگراموں کا متبادل تو نہیں ہو سکتے لیکن ان کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ویب نار کی وجہ سے منتظمین کوکئی طرح کے فوائد حاصل ہو جاتے ہیں جن میں مالی اور انتظامی امور سے متعلق باتیں اہم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آن لائن ویب نار کا اہتمام بالکل اس کہاوت جیسا ہے کہ ’  ہینگ لگے نہ پھٹکری ، رنگ چوکھا آئے۔‘  فرید خان کے مطابق آن لائن پروگرام کا انعقاد کرنے میں لاجسٹکس کا سب سے بڑا فائدہ ہو تا ہے کیوں کہ اس کے لئے ہمیں نہ ہال بک کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ وہ تمام انتظامات کرنے پڑتے ہیں جو دیگر پروگراموں کے لئے ناگزیر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ آن لائن ویب نار کا سب سےبڑا فائدہ یہ ہو تا ہے کہ ہمیں بین الاقوامی شائقین مل جاتے ہیں۔ فرید خان کے مطابق انہوں نے جب اس مرتبہ اردو کارواں کے عشرہ اردو کا انعقاد کیا تو یہ پورا پروگرام آن لائن منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں ہمیں بین الاقوامی شائقین  اورمہمانان میسر آگئے جو بصورت دیگر ممکن نہیں تھے۔ ہمارے اپنے محدود وسائل کی وجہ سے بین الاقوامی سطح کی کسی ادبی شخصیت کو مدعو کرنا  ہمارے لئے تقریباً نا ممکنات کے زمرے میں آتا ہے لیکن آن لائن ویب نار کے ذریعے سے یہ کام بھی ہوا اور بحسن و خوبی انجام پایا۔ 
 معروف ادبی تنظیم ’ ادبی کارواں ‘ کے روح رواں  اور صمدیہ جونیئر کالج کے لیکچرار فہیم  احمد عبد الباری مومن نے ویب نار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے  اسے موجود ہ دور کی ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ویب نار اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ  برقرار رہیں گے کیوں کہ یہ ایسا ذریعہ بن گیا ہے جس کے ذریعے بین الاقوامی ناظرین تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔  اس کے علاوہ لاجسٹکس کے معاملے میں اس سے کافی مدد مل جاتی ہے جو سمینار کے انعقاد میں ممکن نہیں ہے۔فہیم مومن کے مطابق بات صرف اتنی نہیں ہے کہ اس سے محدود وسائل میں بھی آسانی سے بہتر سے بہتر پروگرام ترتیب دیا جاسکتا ہے بلکہ اس کا اسکوپ دیکھا جانا چاہئے اور اس معاملے میں یہ میڈیم دیگر تمام ذرائع ابلاغ کو شکست دیتا ہوا  محسوس ہو تا ہے۔ اسی وجہ سے ہم اسے برقرار رکھنے اور اپنے دیگر پروگراموں میں استعمال کرنے پر بھی آمادہ ہیں۔ فہیم مومن کے مطابق حال ہی میںآل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس ایسو سی ایشن (آ ئیٹا) کے زیر اہتما م ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا جو نہایت کامیاب رہا اور اس کامیابی کی ایک بڑی وجہ ویب نار کے طریقے سے اس کا انعقاد بھی تھا ۔ اس پروگرام میں ملک و بیرون ملک سے ادب میں دلچسپی رکھنے والے افراد جڑے اور پروگرام کے انعقاد کی ستائش کی ۔ 
 بچوں کے مشہور ادیب ، صحافی اور کریئر کونسلر اشفاق عمر نے بتایا کہ آن لائن میڈیم  نے انہیں توقع سے کہیں  زیادہ کامیابی عطا کی ہے کیوں کہ اس میڈیم کے ذریعے سے انہوں نےپورے ملک کےطلبہ کی کریئر کونسلنگ کرنے کے علاوہ ان کے لئے مختلف موضوعات پر ویب نار بھی منعقد کئے ۔ اشفاق عمر کے مطابق انہوں نے گزشتہ ۳؍ سے ۴؍ ماہ کے دوران  بچوں کے ادب کے تعلق سے مختلف موضوعات ، کریئر کونسلنگ اورسول سروسیز امتحان کی تیاریوں کے تعلق سے اپنے اخبار اور ادبی تنظیم کے بینر تلے  ۳۰؍ سے زیادہ ویب نار منعقد کئے ہیں  ۔  یہ تمام اپنے  اثرات اور نتائج کے لحاظ سے کامیاب ترین ثابت ہوئے ہیں۔  اشفاق عمر کے مطابق اب لاک ڈائون میں نرمی ہوچکی ہے اور دھیرے دھیرے ادبی و تعلیمی سرگرمیاں بھی بحال ہو رہی ہیں لیکن ہمیں محسوس ہو تا ہے کہ اتنی بڑی وباء کے دوران  میں ہمیں جو مواقع ویب نار کی وجہ سے میسرآئے ہمیں لاک ڈائون میں نرمی کے بعد بھی اس کا استعمال جاری رکھنا چاہئے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی پروگرام کو آف لائن کے ساتھ ساتھ آن لائن بھی منعقد کیا جائے جیسا کہ فیس بک لائیو کے طریقے سے اب تک ہو رہا تھا لیکن  اب اسے زوم میٹنگ اور گوگل میٹ جیسے بہترین میٹنگ ایپس کا استعمال کرتے ہوئے بھی منعقد کیا جاسکتا ہے اور یہ بہت آسانی سے منعقد بھی ہو جاتا ہے۔

lockdown Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK