چین میں لاک ڈاؤن کیخلاف احتجاج

Updated: November 28, 2022, 1:09 PM IST | Agency | Beijing

ملک کے دارالحکومت بیجنگ کی مشہور’ چینہوا یونیورسٹی‘ کے طلبہ نےآزادی کی فتح ہوگی ،مزید لاک ڈاؤنز نہیں اور ہمیں آزادی چاہئے جیسے نعرے لگائے۔ شنگھائی پولیس نے۳؍سو مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے مرچ پاؤڈرکا استعمال کیا

A similar arrangement was made in Shanghai to stop the protestors. Picture: AP/PTI
شنگھائی میں مظاہرین کو روکنے کیلئے کچھ ا س طرح کا انتظام کیا گیا۔ تصویر :اےپی / پی ٹی آئی

چین کے دارالحکومت بیجنگ  اور شنگھائی میں کورونا وائرس سے تحفظ کیلئے نافذ سخت لاک ڈاؤن کے خلاف سیکڑوں طلبہ نے مظاہرہ کیا اور آزادی رائے کے حق میں نعرے بازی کی۔  خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل چین میں ۶؍ماہ بعد کورونا وائرس سے پہلی موت کی تصد یق کی گئی  تھی ۔اس کے بعد بیجنگ  اور  ملک  کے دیگر شہروں میں سخت حفاظتی اقدامات  کئے  گئے تھے جس کیخلاف آواز بلند کی جارہی ہے۔  میڈیارپورٹس کے مطابق بیجنگ کی مشہور چینہوا یونیورسٹی کے طلبہ نے اتوار کو مظاہرے میں حصہ لیا جبکہ دارالحکومت میں واقع دیگر تعلیمی اداروں  کے طلبہ کا احتجاج سنیچر کی رات  ہی سے   جاری تھا۔ چینہوا یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے کو بتایا کہ  اتوا رکی صبح ساڑھے ۱۱؍ بجے طلبہ یونیورسٹی کی کینٹین کے سامنے بینر لے کر کھڑے ہوئے تھے ۔ اسی دوران زیادہ سے زیادہ طلبہ ان کے ساتھ  شامل  ہو گئے ۔ا توار کی شام تک ۲؍ سے۳؍ سو تک طلبہ نے مظاہرہ کیا۔  مظاہرے میں شامل ایک   طالبہ  نے خالی کاغذ  دکھا کر اپنا احتجاج درج کروایا جو دراصل سینسرشپ کی جانب اشارہ تھا۔  اس دوران  طلبہ نے بتایا کہ انہوں نے چین کے قومی ترانے کے علاوہ بائیں بازوں کی جماعتوں کا ’ترانہ انٹرنیشنل‘ بھی گایا اور آزادی کی فتح ہوگی  ،مزید لاک ڈاؤنز نہیں اور ہمیں آزادی چاہئے  جیسے نعرے لگائے۔ مظاہرے کے ویڈیوز آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی شیئر کئے گئے جن میں طلبہ کو کہہ رہے ہیں،’’یہ  معمول کی زندگی نہیں ہے۔ ہم نے بہت  برداشت کر لیا۔ اس سے پہلے ہماری زندگیاں ایسی نہیں تھیں۔‘‘ ایک اور ویڈیو بھی شیئر کیا گیا تھا جس میں طلبہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی اور حق آزادی رائے کے نعرے لگا رہے تھے لیکن یہ ویڈیو کچھ ہی دیر بعد ہٹا لیا گیا۔  امریکی خبر رساں ایجنسی اسوسی ایٹیڈ پریس (اےپی) کے مطابق چین میں گزشتہ اتوار کو۲۴؍ ہزار سے زائد کورونا کے نئے مریض ملے تھے جن میں سے اکثریت ایسے مریضوں کی ہے جن کی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔چین کے دارالحکومت بیجنگ  کے باشندوں کو شہر کے مختلف اضلاع کے درمیان سفر کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ ہوٹل، دکانیں، شاپنگ مالز اور کثیر منزلہ عمارتوں کو بند کیا گیا ہے۔چین میں کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے  سخت اقدامات کیخلاف مظاہرے شنگھائی اور دوسرے شہروں تک پھیل گئے ہیں  ۔ ایک عینی شاہد کے مطابق شنگھائی پولیس نے تقریباً ۳؍سو مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے مرچ پاؤڈرکا  استعمال کیا۔ یہ افراد سنیچر کی رات شمال مغرب میں سنکیانگ کے علاقے ارومچی میں گزشتہ ہفتے ایک کثیر منزلہ عمارت  میں لگنے والی آگ میں کم از کم۱۰؍ افراد کی ہلاکت پر سوگ کیلئے جمع ہوئے تھے۔ یاد رہےکہ چین کے صدر شی جن پنگ کی حکومت  اپنی ’ کورونا سے پاک چین (زیرو کووڈ پالیسی) کی وجہ سے عوام کے غصے کا سامنا کررہی ہے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا کی دوسری حکومتیں پابندیوں میں نرمی کر رہی ہیں اور وائرس کے ساتھ جینے  عادت ڈال   رہی ہیں۔ دوسری طرف چین کا  معاشی نقصا ن ہو رہا  ہے کیونکہ کاروبار بند ہیں ۔ کورونا سے متاثر خاندان بھی ہفتوں  الگ تھلگ رہنے پرمجبور ہیں  ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK