چین میں کورونا پابندیوں کیخلاف جابجا مظاہرے

Updated: November 29, 2022, 11:30 AM IST | Agency | Beijing

بیجنگ ا ور دیگر ۷؍ شہروں نیز درجنوں یونیورسٹی کیمپس میں کورونا پابندیوں کیخلاف نعرے بازی کی گئی۔چین کے طاقتور ترین صدر شی جن پنگ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ، مظاہرین کوگرفتار کیا گیا۔ شنگھائی میں برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے صحافی کو احتجاج کور کرنے پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا اور اسے حراست میں لیا گیا

An attempt to stop the protesters in Beijing, the capital of China.Picture:AP/PTI
چین کے دار الحکومت بیجنگ میں مظاہرین کو روکنے کی کوشش۔ تصویر :اےپی / پی ٹی آئی

 چین کو کورونا سے پاک بنانے کیلئے کورونا پابندیوں میں اضافے کیخلاف عوام سڑکوں پر اتر ائے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں عوام نے   نعرے لگائے اور پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران  چین کے طاقتور ترین صدر شی جن پنگ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ادھر پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔ اس دوران شنگھائی پولیس نے برطانوی نشریاتی ادارے  بی بی سی کے صحافی کو احتجاج کور کرنے پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور اسے حراست میں لیا ۔   میڈیار پورٹس کے مطابق اتوار اور پیر کو   بیجنگ اور شنگھائی میں سیکڑوں افراد نے کورونا پابندیوں کیخلاف مظاہرہ کیا۔ اتوار کی شب شنگھائی میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات کئے۔ علاقہ خالی نہ کرنے پر پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار بھی کیا ۔   میڈیارپورٹس میں بتایا گیا کہ بیجنگ ہی نہیں بلکہ ۷؍ شہروں میں مظاہرے ہوئے جبکہ درجنوں یونیورسٹی کیمپس میں بھی کورونا پابندیوں کے خلاف مظاہرین نے نعرے بازی کی۔بیجنگ میں احتجاج کرنے والے شہریوں نے صدر شی جن پنگ سے اقتدار سے علاحدہ ہونے کے مطالبات کئے۔
 ماہرین کے مطابق چین سے متعلق یہ تاثر عام ہے کہ وہاں اختلاف رائے بہت مشکل ہوتا ہے ، عوامی آواز کو دبایا جاتا ہے جہاں بڑے پیمانے پر مظاہرے کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن دہائیوں بعد ملک کے سب سے طاقتور  لیڈر اور موجودہ صدر شی جن پنگ کیخلاف احتجاج غیر معمولی واقعہ ہے۔یہ مظاہرے ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب چین میں کورونا  کے مریضوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے  اضافہ ہورہا ہے۔ قبل از یں گزشتہ جمعہ کو سنکیانگ کی ایک عمارت میں آگ لگنے کے نتیجے میں۱۰؍ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔متاثرہ عمارت میں اموات سے متعلق الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ یہ اموات عمارت میں جزوی طور پر عائد کردہ کورونا پابندیوں کی وجہ سے ہوئی ہیں کیونکہ وہاں پابندیوں کے سبب فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا جا سکا لیکن حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔  خبر رساں ادارے `اسوسی ایٹیڈ پریس (اےپی) کی جانب سے جارہ کردہ ایک ویڈیو میں مظاہرین کو صدر شی جن پنگ اور کمیونسٹ پارٹی کے استعفیٰ دینے کے مطالبات کو واضح طور پر سنا جا سکتا ہے۔  واضح رہے کہ صدر شی کو ماؤزے تنگ کے بعد چین کے مقبول ترین  لیڈر کی حیثیت حاصل ہے جن کا نام حال ہی میں تیسری مرتبہ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کیلئے سامنے آیا تھا ۔ ماؤز ے تنگ سے پہلے کوئی بھی لیڈرتیسری مرتبہ پارٹی کا سربراہ نہیں بنا تھا  ۔چین کے بعض  لیڈروں کا خیال ہے کہ صدر شی کو تاحیات ملک کا صدر رہنا چاہئے۔ مظاہرے میں شریک ایک نوجوان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین میں احتجاج کے سبب  ایسا ماحول پیدا  ہوگیا ہے جس   میں ان موضوعات پر  تبادلۂ خیال کا حوصلہ مل رہا ہے  جن کے بارے میں عام دنوں کچھ کہنے سننے کی اجازت نہیں ہے   ۔ ایک شخص نے  یہ بھی کہا ،’’ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ چین کے عوام میں گھروں سے باہر نکلنے اور احتجاج کرنے کی ہمت نہیں ہے  اور ان میں احتجاج کا حوصلہ ہی نہیں ہے، ہم یہ احتجاج کر کے اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘  اس شخص کا مزید کہنا تھا،’’ میں پہلی مرتبہ احتجاج میں شریک ہوا تھا اور میرے بھی وہی جذبات تھے لیکن جب میں مظاہرے میں شریک ہوا تو وہاں موجود ہر شخص کو بہادر پایا۔‘‘ مظاہرے میں شریک زاؤ نامی ایک شخص نے بتایا کہ ان کے ایک ساتھی کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور دو پر مرچ پاؤڈر کا  چھڑکاؤ کیا۔زاؤ کے بقول مظاہرین مختلف نعرے لگا رہے تھے اور ایک نعرہ تو یہ تھا کہ ہم کورونا کا پی سی آر ٹیسٹ نہیں بلکہ آزادی چاہتے ہیں۔سوشل میڈیا پر دستیاب ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ مظاہرین آرمچی سے لاک ڈاؤن ختم کیا جائے،سنکیانگ سے لاک ڈاؤن ختم کیا جائے اور پورے چین سے لاک ڈاؤن ختم کیا جائے ، جیسے نعرے لگا رہے ہیں۔چین میں حالیہ دنوں کے دوران ریکارڈ کورونا مریض ملے ہیں  جبکہ  اتوار کو  گزشتہ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران لگ بھگ۴۰؍ ہزار کورونامریض ملے تھے۔چین کورونا وبا سے نمٹنے کیلئے سخت ’زیرو کووڈ   پالیسی‘ پر عمل کررہا  ہے جبکہ دنیا کا بیشتر حصہ عالمی وبا کے ساتھ رہنے کا عادی ہوچکا  ہے۔  دریں اثناءچینی پولیس کی جانب سے   لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کی رپورٹنگ کرنے والے برطانوی نشریاتی ادارے بی سی سی کے صحافی کو حراست لیا گیا اور اس پر تشدد بھی کیا گیا ۔ مذکورہ صحافی شنگھائی  میں  مظاہرین  سے جھڑپوں کے دوران احتجاج کی رپورٹنگ میں  مصروف تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK