اُردو زبان و ادب میں تحقیق کی ضرورت و اہمیت اورمعیار

Updated: March 02, 2020, 1:10 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

ریسرچ یا تحقیق کیا ہے ؟ اس کے معنی ہیں کسی مسئلے یا کسی بات کی کھوج لگا کر اس کی تہہ تک پہنچنا اور کوشش کرنا کہ وہ بات اصل شکل اور حقیقی روپ میں پوری طرح سامنے آ جائے۔

اُردو زبان و ادب میںتحقیق کی ضرورت و اہمیت اور معیار ۔ تصویر : آئی این این
اُردو زبان و ادب میںتحقیق کی ضرورت و اہمیت اور معیار ۔ تصویر : آئی این این

 ریسرچ یا تحقیق کیا ہے ؟ اس کے معنی ہیں کسی مسئلے یا کسی بات کی کھوج لگا کر اس کی تہہ تک پہنچنا اور کوشش کرنا کہ وہ بات   اصل شکل اور حقیقی روپ میں پوری طرح سامنے آ جائے۔ انگریزی لفظ ریسرچ  دو لفظوں سے مرکب ہے۔ تحقیق یا ریسرچ کو ہم  بار بارتلا ش کرنے سے بھی مراد لے سکتے ہیں تاکہ  بار بار تحقیق کی جائے جس سے مشاہدہ یقین اور سچائی کی منزل پر پہنچ جائے ۔ بقول ڈاکٹر حامد اشرف ’’تحقیق کا مطلب  حقائق کا از سر نو جائزہ لے کر نئے نتائج تک پہنچنے کی کوشش کرنا بھی ہے۔‘‘ اردوکی یہ خوش نصیبی ہے کہ اس زبان میں کئی جید اور نامور محققین گزرے ہیں جنہوںنے زبان کے تہذیبی ورثے سےلے کر  اس کی تاریخ ، ادب ، پس منظر اور  ماضی اور حال تک کے مختلف موضوعات کو یوں کھنگالا ہے کہ ان کا ایک ایک ذرہ ہم پر واضح ہے۔ ابھی حال حال تک ریسرچ کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی تھی جو یونیورسٹی کی سطح پر مختلف موضوعات پر انتہائی عرق ریزی سے اپنے مقالے تحریر کرتے تھےجو معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ زبان و ادب میں گرانقدر اضافہ تصور کئے جاتے تھے لیکن اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔ اب ہم بطور اردو معاشرہ اس بات کے شاکی ہیں کہ تحقیق کا وہ معیار برقرار نہیں رہا ہے بلکہ اب ریسرچ کرنے والوں کی بڑی تعداد بھی موجود نہیں ہے۔ اس سوال کو لے کرہم نے معروف  ادباءسے گفتگو کی جو  پی ایچ ڈی کے لئے طلبہ کے گائیڈ اور رہنما کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔
  ملک کےسینئر محقق ، ادیب اوراستاذ پروفیسر عبدالستار دلوی نے  ہمیں بتایا کہ ایسا نہیں ہےکہ اب ریسرچ کے میدان میں طلبہ کم ہو گئے ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ طلبہ  اس جانب رخ کررہے ہیں کیوں کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نےکالجوں اور یونیورسٹیوں میں ملازمت کیلئے پی ایچ ڈی کی شرط عائد کردی ہے اس لئے جو اس شعبے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں انہیں پی ایچ ڈی کرنی ہی ہے لیکن جہاں تک بات ہے معیار کی تو یہ بالکل حقیقت ہے کہ ریسرچ کا معیار متاثر تو ہوا ہے لیکن اس کی ذمہ داری اگر طلبہ پر عائد ہو تی ہے تو ریسرچ گائیڈس پر بھی ہوتی ہے۔بقول ڈاکٹر عبدالستار دلوی  اب جن موضوعات پر ریسرچ ہو رہی ہے وہ برائے نام ہے، اس کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا ہے، تحقیق کےذریعے کوئی نئی بات پیدا کرنا نہیں ہے۔ ڈاکٹر دلوی نے کہا کہ آج کل تو یہ فیشن بن گیا ہے کہ پی ایچ ڈی گائیڈس اپنی نگرانی میں زیادہ سے زیادہ افراد کو پی ایچ ڈی کروارہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالستار دلوی نے اپنے اساتذہ پروفیسر نجیب اشرف ندوی  اور ڈاکٹر ظہیر الدین مدنی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان صاحبان نےکبھی زیادہ سے زیادہ افراد کو پی ایچ ڈی  یافتہ بنانے کی کوشش نہیں کی بلکہ معیار پر توجہ دی۔ یہ صاحبان کہتے تھے کہ معاشرے میںضرورت سے زیادہ پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں بلکہ چند ہوں لیکن انہوںنے معیاری کام کیا ہو ۔
 معروف ادیب و شاعر اور سابق پی ایچ ڈی گائیڈ ڈاکٹر کلیم ضیا ءنےبھی یہ تسلیم کیا کہ اب ریسرچ میں زیادہ افراد آرہے ہیں لیکن وہ معیار اب نہیں رہا ہے جو اس شعبے کا تقاضا ہے۔انہوں نے معیار کے متاثر ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑی پریشانی محکمہ جاتی ریشہ دوانیاں ہیں، ان کے علاوہ اقرباء  پروری  اور اساتذہ کی جانب سے انفرادی ترقی پر زیادہ زور دیا جانا بھی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ریسرچ کا معیار متاثر ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر کلیم ضیاء کے مطابق ادھر گزشتہ ۱۰؍ سے ۱۵؍ برس میںجو کھیپ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آئی ہے ان کی اردو زبان و ادب اورعام معلومات کی بنیاد اتنی کمزور اور خام  ہے کہ ہمیں پی ایچ ڈی کی سطح تک انہیں درست کرتے رہنا پڑتا ہے ۔ایسے میں آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ان کی ریسرچ کا معیار کیا ہوگا۔
 معروف ادیب  اورپروفیسر ڈاکٹر اظہر حیات، جوناگپور یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی گائیڈ ہیں ، نے بتایا کہ یوجی سی کے حکم نامہ کے سبب ہمارے یہاں پی ایچ ڈی  یا ایم فل کرنے والوں کی تعداد کم نہیں ہے بلکہ بڑھ رہی ہےلیکن مسئلہ وہی معیار کا آتا ہے جس کے ہم سب شاکی ہیں۔ ڈاکٹر اظہر حیات کے مطابق تحقیق کا کام صحیح معنوں میں دقت طلب ہے اورمستقل مزاجی کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ نئی نسل کے ریسرچ اسکالرس اس کے متحمل نہیں ہوتے۔ انہیں جلد از جلد تھیسیز مکمل کرنی ہو تی ہے اسی لئے معیار بھی متاثر ہو رہا ہے اورمختلف موضوعات پر جس طرح سے تحقیق کے در وا ہوتے تھے اب وہ بند ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر اظہر نے بتایا کہ اس وقت ان کی کوشش کی ہے کہ خطہ کے موضوعات پر ریسرچ کا کام ہو ورنہ آج کل تو شخصیات پر پی ایچ ڈی کرنے کا رواج عام ہوتا جارہا ہےجو برا تو نہیں ہے لیکن اس کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کی جانی چاہئے۔
 معروف کالم نگار اورممبئی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر جمال رضوی  نے تحقیق کی بنیادی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ریسرچ کا بنیادی کام  نئی چیزیں سامنے لانا ہے لیکن فی زمانہ اردو زبان و ادب میں جو تحقیق ہو رہی ہے وہ شخصیت پرستی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ شخصیات پر ریسرچ نہیںہونی چاہئے لیکن  جو موضوعات اب منتخب ہو رہے ہیں وہ وہی گھسے پٹے اور فرسودہ موضوعات ہیں جن پرکئی کئی  ریسرچ پیپر تحریر کئے جاچکے ہیں۔ اس لئے اب ریسرچ کے ذریعے کوئی نئی بات سامنے نہیں آرہی ہے اور جب کوئی نئی بات سامنے آنے کا تجسس نہیںہو گا تو  معیار بھی متاثر ہو گا اور زبان و ادب بھی ۔ڈاکٹر جمال رضوی کے مطابق معیار متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ محقق کی سہل پسندی  اور گائیڈ کا سبھی اصناف میں ماہر ہونے کا زعم بھی   ہے ۔ چونکہ تحقیق کیلئے سخت محنت و ریاضت درکار ہو تی ہے اور ہمارے نوجوان محقق اس سے جی چراتے ہیں اس لئے وہ معیار قائم نہیں رہ پاتا جو تلاش و جستجو کےبعد حاصل ہو تا ہے جبکہ گائیڈ حضرات کسی موضوع پر دسترس نہ ہونے کے باوجو گائیڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو معیار کو متاثر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK