Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت نے گیس کی بد عنوانی میں ریلائنس اور بی پی سے ۸۱ء۲؍ ارب ڈالر طلب کئے

Updated: March 16, 2026, 7:25 PM IST | New Delhi

حکومت نے ہندوستان کے مشرقی ساحلی کی جی بی بیسن میں واقع او این جی سی کے تیل کے علاقے سے مبینہ طور پر گیس کی ہیراپھیری کرنے کے الزام میں ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (آر آئی ایل) اور برطانیہ کی تیل کمپنی بی پی سے۸۱ء۲؍ ارب ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا ہے۔

ONGC.Photo:INN
او این جی سی۔ تصویر:آئی این این

حکومت نے ہندوستان کے مشرقی ساحلی کی جی بی بیسن میں واقع او این جی سی کے تیل کے علاقے سے مبینہ طور پر گیس کی ہیراپھیری  کرنے کے الزام میں ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (آر آئی ایل) اور برطانیہ کی تیل کمپنی بی پی سے۸۱ء۲؍ ارب ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معلومات پیر کو پارلیمنٹ میں دی گئی۔
پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر مملکت، سریش گوپی نے راجیہ سبھا میں تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت نے ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ اور بی پی سے۸۱ء۲؍ ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ فی الحال ہندوستان کی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
وزیر کا یہ جواب راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ دیپک پرکاش کے سوال کے جواب میں آیا۔ رکن پارلیمنٹ نے پوچھا تھا کہ کیا یہ درست ہے کہ حکومت نے او این جی سی کے مشرقی ساحل کے گیس بلاکس سے مبینہ گیس چوری یا نکاسی کے معاملے میں نجی کمپنیوں سے ۲؍ ارب ڈالر سے زیادہ کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:شان پین کا تیسرا آسکر، مگر تقریب میں غیرحاضری نے سب کو حیران کر دیا

رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی پوچھا تھا کہ اس معاملے میں شامل نجی کمپنیوں کے نام اور اب تک ان سے وصول کی گئی رقم کی صورتحال کیا ہے۔معلومات کے مطابق، مارچ ۲۰۲۶ء تک ہندوستان کی حکومت نے ریلائنس انڈسٹریز اور اس کی شراکت دار کمپنی بی پی سے تقریباً ۸۱ء۲؍ارب ڈالر (تقریباً۲۵۹۸۳؍کروڑ روپے) کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ فروری ۲۰۲۵ء میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا گیا، جس میں ۲۰۱۸ء کے اس ثالثی ایوارڈ کو منسوخ کر دیا گیا تھا جس نے پہلے ریلائنس کو اس معاملے میں ذمہ داری سے آزاد کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:رافینہ کی ہیٹ ٹرک؛ بارسلونا کی سیویلا کے خلاف بڑی جیت

پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزارت کا الزام ہے کہ ۲۰۰۴ءسے ۱۴۔۲۰۱۳ء کے درمیان ریلائنس کے کے جی ڈی۶؍بلاک سے قریب کے او این جی سی بلاکس کی گیس نکل گئی، جس سے کمپنی کو ۵۵ء۱؍ ارب ڈالر سے زیادہ کا غیر مناسب فائدہ ہوا، جس پر سود بھی شامل ہے۔دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے۱۴؍ فروری ۲۰۲۵ء کو حکومت کے حق میں فیصلہ سنایا تھا اور پہلے دیے گئے اس سنگل جج کے فیصلے کو پلٹ دیا تھا جس میں ریلائنس کے حق میں فیصلہ دیا گیا تھا اور حکومت کے مطالبے کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا گیا تھا۔تاہم، ریلائنس کا کہنا ہے کہ یہ گیس ’’مائگریٹری‘‘ تھی، یعنی قدرتی طور پر ایک بلاک سے دوسرے بلاک میں منتقل ہو گئی تھی، اس لیے کمپنی اس کے لیے ذمہ دار نہیں ہے۔ کمپنی نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جہاں اس معاملے کی سماعت جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK