عرب لیگ نے رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے بند رکھنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو مسلمانوں کو اس مقدس مقام پر عبادت سے روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 6:06 PM IST | Jeddah
عرب لیگ نے رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے بند رکھنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو مسلمانوں کو اس مقدس مقام پر عبادت سے روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
عرب لیگ نے اتوار کو جاری ایک سخت بیان میں مسجد اقصیٰ کی بندش کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ علاقائی تنظیم نے خبردار کیا کہ ایسے فیصلوں کے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یروشلم کے مقدس مقامات پر عبادت کی آزادی بنیادی مذہبی حق ہے اور اسے محدود کرنا ناقابل قبول ہے۔ عرب لیگ نے زور دیا کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ کو بند کرنا مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسلامو فوبیا مخالف عالمی دن پر او آئی سی کا انتباہ: مسلم مخالف نفرت میں اضافہ
عرب لیگ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ یروشلم میں مقدس مقامات کے حوالے سے اپنے ’’غیر قانونی اقدامات‘‘ بند کرے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے عبادت کی آزادی کو یقینی بنائے۔ تنظیم نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں موجود مقدس مقامات کی حیثیت کو تبدیل کرنے یا وہاں عبادت پر پابندیاں لگانے کی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے ۲۸؍ فروری سے مسجد اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے بند کر رکھا ہے۔ یہ پابندیاں اس وقت لگائی گئیں جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ اسی دوران مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں واقع ابراہیمی مسجد میں بھی نماز ادا کرنے والوں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہاں صرف ۵۰؍ مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دبئی اور دوحہ کیلئے ایرانی فوج کی وارننگ، خلیج میں کشیدگی بڑھی
عرب لیگ نے خبردار کیا کہ اگر مقدس مقامات تک رسائی پر پابندیاں برقرار رہیں تو اس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور صورتحال زیادہ حساس ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ سے متعلق فیصلے ہمیشہ انتہائی حساس ہوتے ہیں کیونکہ اس مہینے میں ہزاروں مسلمان عبادت کے لیے اس مقدس مقام کا رخ کرتے ہیں۔