فلمی صحافت کی مفلوک الحالی اور پسماندگی کے یوں توکئی اسباب سطح پر تیرتے اور سطح کے نیچے بہتے نظر آتے ہیں لیکن اصل سبب اور سبب کی اصلیت میڈیم کے تئیں ہمارے بنیادی رویے میں کہیں پنہاں ہے۔
EPAPER
Updated: October 15, 2023, 4:06 PM IST | Muhammad Aslam Parvez | Mumbai
فلمی صحافت کی مفلوک الحالی اور پسماندگی کے یوں توکئی اسباب سطح پر تیرتے اور سطح کے نیچے بہتے نظر آتے ہیں لیکن اصل سبب اور سبب کی اصلیت میڈیم کے تئیں ہمارے بنیادی رویے میں کہیں پنہاں ہے۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں صحافت اور سنیما ذرائع ابلاغ کے پُراثر ،طاقتور اور مقبول میڈیم رہے ہیں ۔ رائے عامہ کو بنانے ، بگاڑنے، سُدھارنے اور سنوارنے میں دونوں کا کردار اہم اور کلیدی رہا ہے۔ اپنے اپنے میدان اورحدود میں دونوں کی حیثیت ایک مقبول میڈیم اور طاقتور انجن کی رہی ہے اورکہنے کی ضرورت نہیں ہر طاقتور میڈیم اور انجن اپنی بنیاد میں ہوش مند ڈرائیور کا طلب گارہوتا ہے۔ وگرنہ اُس پُراثر ،طاقتور اور مقبول میڈیم اور انجن کو پورس کے ہاتھی میں تبدیل ہونے میں زیادہ دیری نہیں لگتی۔
’’صحافت اورسنیما‘‘اس موضوع کے دو چھور ہیں اوربادی النظر میں اِن کا سمبندھ تو روٹی بیٹی کا معلوم پڑتا ہے،مگرحقیقت میں برسوں سےیہ دونوں ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کئے ہوئے ہیں ۔ ایک wave lengthپر نہ آنےکی وجہ سے اِن کے درمیان بامعنی مکالمہ قائم ہونے کی صورت دن بہ دن معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ ادھر الیکٹرانک اور دوسرے سوشل میڈیا کے آنے کے بعد اور باعث دونوں کے مابین چھتیس کا ناطہ اس تیزی سے فروغ پانے لگا ہے گویایہ دونوں دشمن دیشوں کی طرح ایک دوسرے کے مقابل آکر کھڑے ہو گئےہوں ۔
عبادت سے شروع ہوکر تجارت تک پہنچنے والی اردو صحافت نےاپنے دو سو سالہ سفر میں جو نشیب و فراز دیکھے اور بھوگے ،وہ ایک طرف اُس کی شاندار روایت کے چشم دید گواہ ہیں تو دوسری طرف بجائے خوداُس کا ثبوت بھی ہیں ۔ اس بات کو کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ سب جانتے ہیں کہ اردو صحافت کا آسمان کتنے روشن ستاروں کے کاموں اور کارناموں سےآج بھی جگمگا رہا ہے لیکن جہاں تک فلم جرنلزم کا تعلق ہے ، اردو صحافت کی یہ انتہائی کمزور کڑی رہی ہے۔ شاید سب سے کمزور … فلمی صحافت کی مفلوک الحالی اور پسماندگی کے یوں توکئی اسباب سطح پر تیرتے اور سطح کے نیچے بہتے نظر آتے ہیں ،جن کا تجزیہ علاحدہ مضمون کا متقاضی ہے۔لیکن اصل سبب اور سبب کی اصلیت میڈیم کے تئیں ہمارے بنیادی رویے میں کہیں پنہاں ہے۔ ایک زمانے تک تفریح اور تعلیم کے اس اثر آفرین میڈیم کو ہم شیطان کا چرخہ کہتے رہے اور فلم بینی کوشجرِ ممنوعہ سمجھتے رہے۔ مجھے نہیں پتا وہ کیا تھا، ہمار ی تہذیبی نرگسیت ، مذہبی تنگ نظری، خود پسندی ،علاحدگی پسندی اور جارحانہ فخر،اخلاقی اقدار کے مسخ ہونے کا خوف یا ثقافتی غربت ،جس کے تحت آرٹ کی ترویج،سماجی تبدیلی،تعلیم کا فریضہ اور ذوق کی نشو نما کرنے والے میڈیم سے ہم نےنئی نسل کو پلیگ کے چوہوں کی طرح بچائے رکھنے کی کوشش کی۔ستم یہ نہیں کہ اتنے احتیاط کے باوجود فلم کے میڈیم کے خد و خال متعین کرنے کےسلسلے میں اس نسل نے بڑا نام کمایا ، بحیثیت فلم کار بھی اور بحیثیت فلم بین بھی۔ستم یہ بھی نہیں کہ جس زبان نےاس بدنام زمانہ میڈیم کوبرسوں تلک اپنا اسیرِ زلف بنائے رکھا اور کئی سطحوں اور معنوں میں اُسے ثروت مند کیا، اسی میڈیم سے متعلق ٹھوس موادسے اُس کا دامن یکسر خالی ہے۔ستم ظریفی تویہ ہے کہ ہمیں اپنے خالی دامن کا احساس تک نہیں ۔ زبیر رضوی مرحوم کومحرومی کے اِس احساسِ نے زندگی بھر مضطرب رکھا ۔ اپنی تحریروں میں اس ا ضطراب کا اظہار انہوں نے صاف ،شفاف اور واشگاف لہجے میں کیا اور جابجا کیا ۔ ’’ہندوستانی سنیما کے سو برس‘‘ میں ایک جگہ وہ لکھتےہیں :
’’اردو میں فنونِ لطیفہ سے لاعلمی اور بے خبری دوسری زبانوں ہی کی طرح ہے۔ حالانکہ فنونِ لطیفہ کے قومی منظر نامے میں وہ فن کار زیادہ بھی ہیں جن کی زبان اردو رہی اور اب بھی ہے۔دیکھا جائے تو فلم کی دنیا میں تخلیقی ذہانتیں کافی ہیں ،مگر فلم سے وابستہ ان ذہانتوں نے کم ہی اس تخلیقی فن پر اظہارِ خیال کی ضرورت محسوس کی۔ اردو میں اظہارِ خیال پر قدرت رکھنے والے بے شمار افراد نے فلموں کے لئے لکھنے کی ہر چیز لکھی مگر نہیں لکھا تو اپنے عصر کی فلم سازی اور سنیما پر۔‘‘
اردو میں اگرفلم جرنلزم کو ٹھیک سے سمجھا نہ گیا اور سنجیدگی سے لیانہ گیاتو اُس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف اشارہ کیا گیا۔زبیر رضوی جو کہہ رہے ہیں اُس میں وزن اور معقولیت دونوں نظر آتی ہے۔لیکن میں اُن سے اور اپنے آپ سے یہ سوال کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اردو میں اظہارِ خیال پر قدرت رکھنے والے بے شمار لکھاریوں میں سے کچھ نےجو لکھا ہے وہ کیفیت اور کمیت کے اعتبار سے ایسا بھی تو نہیں ہے کہ اُسے سرے سے خارج کر دیا جائےکہ یہ اردو فلم صحافت کا اٹوٹ حصہ اورسرمایہ ہے۔ فلمی صحافت کے ابتدائی برسوں اور مرحلوں میں صورتحال بے شک اتنی تشویش ناک نہ تھی ۔ادبی رسائل کی پُرانی فائلوں کوبھی کھنگالہ جائے تو ہمیں کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، خواجہ احمد عباس، عادل رشید، قتیل شفائی، بلراج ساہنی، عزیز قیسی، محافظ حیدر، راہی معصوم رضا جیسے فلم کے پیشے سےبراہ راست تعلق رکھنے والے ادیبوں کا فلم کے متنوع موضوعات پر مواد بھی گاہے بہ گاہے مل جاتا ہے۔اس کے علاوہ قیصر تمکین، افتخار اعظمی، ذالفقار مصطفیٰ ،عابد سہیل، شمس کنول ،واقف صدیقی ،ایس ایس بھٹنا گر، وشوناتھ طائوس ،نند کشور وکرم ،دت بھارتی ،اختر مسعود، پریم پال اشک، رشید انجم، زبیر رضوی اور انیس امروہوی نےبھی فلم کے الگ الگ پہلوئوں پرلکھ کرفلم صحافت کو جونئے افق عطا کئے ہیں اُس سے انکار ممکن نہیں ۔(اور بھی بہت سے نام ذہن میں آرہے ہیں لیکن یہاں فرست سازی مقصود نہیں۔)
خواجہ احمد عباس نے تو اپنی فلمی زندگی کا آغاز ہی فلم صحافت سے کیا تھا ۔اُن کے بے لاگ تبصروں نے فلم انڈسٹری میں نہ صرف دھوم مچا دی تھی بلکہ فلم انڈسٹری کے دروازےبھی اُن پر وا کر دیے تھے ۔چونکہ خواجہ احمد عباس کی زندگی کا ایک بڑا حصّہ فلمیں لکھنے اور فلمیں بنانے میں صرف ہوااس لیے اُن کے تحریر کردہ صحافتی مضامین میں بھی first hand experienceکی تمازت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ’’’فلمی سماج‘‘،’’فلم میں جینا فلم میں مرنا‘،’’آرٹ روپیہ اور فلم‘‘،’’چارسو تیس فلمیں یا چار سو بیس فلمیں ‘‘،’’’’پردہ سمیں پر اندھیرا اُجالا‘‘،’’نئے فلم نئے انداز ‘‘جیسے مضامین کی قرأت سے پتہ چلتا ہے کہ خواجہ احمد عباس کے ہاتھ میں قلم ہو یا کیمرہ سماجی تبدیلی کا خیال اور خواب اُن کے ذہن و دل سے محو نہیں ہوتا۔سنیما کو عباس صاحب سماجی تبدیلی کا ایک موثر اور کارگرہتھیار مانتے تھے۔یہی وجہ ہےکہ ۱۹۳۷کوانڈین کائونسل میں ایک سوال کے جواب میں جب مہاتما گاندھی نے ہندوستانی سنیما کے تعلق سے منفی بیان جاری کیااور کہا کہ سنیما کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے ،صرف یہ جانتے ہیں کہ یہ ایک قسم کی بُرائی ہے جو ہمارے سماج میں پھیلائی جا رہی ہےتو اس بیان پر خواجہ احمد عباس نے گاندھی جی کو خط لکھ کر سنیما کے میڈیم کی اہمیت کا احساس دلانے کی کوشش کی۔اُن کا یہ خط بابو رائو پٹیل کی ادارت میں نکلنے والے جریدے ’’فلم انڈیا ‘‘ میں بھی شائع ہواتھا۔ مہاتما گاندھی نے فلموں کے تعلق سے جو کہااُس پر ہنگامہ ہونالازمی تھا۔خود منٹو نے بھی اس پر اپنا ردّعمل درج کرتے ہوئے کہیں لکھا تھا کہ ’’ مہاتما گاندھی فلم نہیں دیکھتے اور میں اخبار نہیں پڑھتا ۔دونوں ہی غلطی کرتے ہیں ۔اصل میں گاندھی جی کو فلم دیکھنی چاہیے اور مجھے بھی اخبار پڑھنا چاہیے ‘‘
خواجہ احمد عباس کی طرح منٹو کو بھی فلمی دُنیا میں داخلے کا ویزافلمی صحافت نے ہی فراہم کیا تھا۔ افسوس کہ ہفت روزہ ’’ مصور ‘ ‘ کے وہ شمارے جن میں منٹو نے معاصر فلموں اور فلم کاروں پر تبصرے اور کالم لکھے تھے،منٹو تحقیق اُس کے قلمی یا مطبوعہ نسخے ابھی تک دریافت اور فراہم نہیں کر سکی ۔ لیکن کلیات ِ منٹو میں ہمیں ’’ہندوستانی فلم سازی پر ایک نظر‘‘، ’’میں فلم کیوں نہیں دیکھتا‘‘ ، ’’شریف عورتیں اور فلمی دنیا‘‘ جیسے مضامین کے علاوہ اُس وقت کی مشہور فلم ’’زندگی‘‘ پرتبصرہ منٹو کی فلم سےدلچسپی اور گہری نظرکا پتہ دیتا ہے۔سب جانتے ہیں کہ منٹو نے بمبئی کی فلمی زندگی کےتجربے ، ماحول اور کرداروں کو اپنے متعدد افسانوں میں بخوبی سمیٹا ہے۔اس کے علاوہ اشوک کمار، شیام، نرگس ،دیویکا رانی ر ستارہ دیوی بابو رائو پٹیل ،پری چہرہ نسیم،اور رفیق غزنوی جیسے گنجے فرشتوں کا مونڈن بھی اپنے خاکوں میں بڑےسلیقےسے کیا ہے۔ لیکن ادھر راجندر سنگھ بیدی نے جو قلمی مرقعے وجینتی مالا، گیتا بالی ،خواجہ احمد عباس جیسی فلمی ہستیوں پر لکھے وہ منٹو سے یوں الگ ہیں کہ یہ کرداروں کی نفسیاتی اور باطنی کیفیات کو بیان کرتے ہوئے فلم اسٹیڈیو کے اندرونی حالات اور ماحول سے بھی پڑھنے والوں کو روبروکراتے ہیں ۔
ان خاکوں کے علاوہ بیدی نے فلم کاری اور فلم سازی پر’’سوانحی اور تاریخی فلمیں ‘‘، ’’ہولی فلموں میں‘‘،’’فلم بنانا کھیل نہیں‘‘ ،’’سچ ،نہ کسی کے حلق سے اُترا ہے نہ اترے گا‘‘ جیسے ٹھوس مضامین بھی لکھے ،جن میں فلم کاری اور فلم سازی کے دوران آنے والی روکاوٹوں کوحقیقت پسندانہ اسلوب میں بیان کیا۔
سنیما ایک ایسا میڈیم ہے جو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں لوگوں کے دلوں کو مسخر کرنے کا ہُنر جانتا ہے۔سنیماکے اسی رینج کو دیکھ کر راہی معصوم رضااُسے تعلمی نصاب میں شامل کرنا چاہتے تھے ۔وہ اصل میں فلم بنانے اور دیکھنے والوں میں سنیما کا شعور بیدار کرنے کے متمنی تھے ۔کہتے ہیں علی گڑھ سے جب راہی صاحب سپنوں کی نگری بمبئی آئے تو اُن کے پاس زیادہ سامان نہ تھا ،وہ صرف ایک قلم لے کر چلے تھے ۔اسی قلم سے انہوں نے کتنی ہی فلموں کی کہانیاں ،اسکرین پلے اور مکالمے تحریر کئےاورمزے کی بات یہ ہے کہ سنیما پر اُن کے مضامین بھی اُسی قلم کا کرشمہ تھے۔ شاید اسی لیےان مضامین میں لطف و لذت اور ذہنی رغبتوں کا وہی سامان اورskill کا وہی احساس پایا جاتا ہےجو اُن کے مکالموں کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ راہی معصوم رضا ایک بھرپور شخصیت اور بے پناہ صلاحیت رکھنے والے لکھاری تھے۔ ’’مہابھارت ‘‘کے مکالموں میں انہوں نے زبان کا نیا blend تیار کیاجس نے عوامی مکالموں میں بھی اساطیری لب و لہجے کے ٹھاٹ کوبرقرار رکھا۔ فلموں میں راجندر کرشن،پنڈت مکھرام شرما، وجاہت مرزا، اخترالایمان، ابرار علوی ،علی رضا، اندراج آنند، بی آر اشارہ،وجے آنند، گلزار، ساگر سرحدی، سلیم جاوید، قادر خان،جاوید صدیقی کے لکھے مکالمے ہی اس فن کی شعریات متعین کرتے ہیں ، لیکن شاید ہی کسی نے مکالمہ نگاری کے فن پرخامہ فرسائی کی ضرورت کومحسوس کیا ہو۔اس حوالے سےراہی صاحب کاایک اہم مضمون ’’مکالمہ نگاری کا فن‘‘ میرے خیال میں ادب اور سنیما کے ہر طالب علم کو پڑھنا چاہئے۔
فلم صحافت کے حوالے سے ایک اہم نام زبیر رضوی کا بھی ہے ۔ان کی اولین شناخت ایک شاعر اور ’’ذہن جدید‘ ‘ کے مدیر کی ہے لیکن رقص ، موسیقی، تھیٹر، مصوری اور سنیما پر جو مضامین اُنہوں نے لکھے اور لکھوائے، اُس نے اُردو کی ادبی صحافت کو ایک نئی سمت عطا کی۔ سنیما پراُن کے مضامین اور تبصروں کا ایک انتخاب ’’ہندوستانی سنیما کے سو برس ‘‘کے عنوان سے تخلیق کار پبلی کیشنز نے نومبر ۲۰۱۶ میں شائع کیا۔ کتاب میں سنیما کا ادب سےرشتہ، فلمیں ہندوپاک کےتناظر میں ، کمرشیل اور آرٹ فلمیں ، فلم اسٹوڈیو سسٹم، فلم سنسر شپ، انوکھے موضوع انوکھی فلمیں ، فلم فیسٹیول اور فلم پروموشن جیسے اہم موضوعات پر مضامین ملتے ہیں جو کم سے کم اُردو رسم الخط میں کہیں نظرنہیں آتے۔ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب اُس کمی کو پورا کرتی ہے جس کا شکوہ وہ ہمیشہ اُردو والوں اور اُردو کے فلم والوں سے کرتے رہے تھے۔
شمس کنول کا شمار اپنے وقت کے بے باک اور صاحب ِ طرز صحافیوں میں ہوتا ہے۔ اپنی اسی بے باکی اورصاف گوئی کی وجہ سے وہ بااثر علمی و ادبی منظر نامے سے الگ کر دیئے گئے تھے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز فلمی صحافت سے کیا تھا۔ تیز و طرار’’فلم انڈیا‘‘ کے تیز و طرار مدیربابو رائو پٹیل کی صحافت اور اسلوب سے متاثر ہو کر فلم صحافت کے میدان میں اُترنے والے شمس کنول کے تبصروں کا اہم وصف یہ ہے کہ وہ استدلال کو تاثر پر حاوی ہونے دیتے ہیں نہ اپنے دعوے کو غیر متعلق جزئیات میں گم ہونے دیتے ہیں ۔’’بچے اور فلمیں ‘‘، ’’فلمیں ناکام کیوں ہوتی ہیں ‘، ’’کیا فلموں میں گیت ضروری ہے‘ ‘ یہ عنوانات ہی اُن کی سنیما فہمی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں ۔ شمس کنول کی فلمی صحافت پر اسیم کاویانی پور ی ایک کتاب مرتب کرنے جا رہے ہیں ۔ شمس کنول کی ادارت میں نکلنے والے ماہنامہ ’’گگن‘‘ کے انتخاب میں شمس کنول کی فلمی صحافت کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں :
’’پکار‘‘ کی مدح میں اور ’’پاکیزہ‘‘ کی قدح میں مدیر ’’گگن‘‘ نے جو تبصرے لکھے ہیں اور کمال(امروہوی)کے زوالِ فن کا جس طرح تجزیہ انہوں نے پیش کیا ہے اور ’’شہر اور سپنا‘‘،’’گرم ہوا‘‘، ’’نکاح‘‘ اور’’بازار‘‘ جیسی فلموں کا جس فنی اور سماجی بصیرت کے ساتھ جائزہ لیا ہے، اُسے تنقیدِ فلم کے باب میں حرفِ آخر کہا جا سکتا ہے۔‘‘
سال کے آخر میں شمس کنول اپنے جریدے ’’گگن‘‘ میں معاصر فلموں کی سالانہ رپورٹ پیش کیا کرتے اور سال بھرمیں ریلیز ہونے والی اہم فلموں کاجس طرح جائزہ لیتے، وہ عام ڈھرے سے بالکل مختلف ڈسکورس کے باب وا کرتا اور نئی نہج پر پڑھنے والوں کی ذہن سازی کرتا تھا۔ شمس کنول قارئین میں اچھی اور بری فلموں کا شعور پیدا کرنا چاہتے تھے اوریوں اپنی ذات میں وہ کسی فلم سوسائٹی سےکم نہ تھے۔ بے شک اور بھی فلم صحافی ہیں جنہوں نے اپنے اپنے طور پر فلم کو دیکھنے، سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی لیکن ان سبھی کا ذکر اس مضمون میں نہ ممکن ہے نہ ضروری ۔ لیکن اُن تمامی کا ذکر اگرکر بھی دیا جائے تو یہ حقیقت بدل نہیں جائیگی کہ فلم صحافت نے اپنی سو سالہ زندگی میں اچھے دن کم اور برے دن زیادہ دیکھے ہیں ...بلکہ آج بھی دیکھ رہی ہے۔ ظاہر ہے اس کی وجہ فلمی صحافت سےوابستہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کیلئے فلم passion نہیں ، پیشہ ورانہ مجبوری ہے۔ سنے جرنلسٹ کا شناختی کارڈ گلے میں لٹکائے یہ نہ تو فلم کی تکنیک اور اُس کے جمالیاتی پہلوئوں کے پارکھ ہیں نہ ہی شمس کنول اور زبیر رضوی جیسا فلم فہمی کا رچا ہوا مذاق رکھتے ہیں۔
فلموں سے متعلق جو content اخبارات اور فلمی رسائل میں عموماً شائع ہوتا ہے، اُس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ رسالے یا اخبار کے جس صفحہ پر وہ جنم لیتا ہےوہیں اُس کا وسرجن ہو جاتا ہے کہ بیشتر تحریریں ’’لکھواور پھینکو‘‘ کی نفسیات کے تحت وجود میں آتی ہیں۔ اداکاروں ، ہدایت کاروں کے ہلکے پھلکے انٹرویو، فلم کی کہانیاں ، شوٹنگ کا آنکھوں دیکھا حال، اُچٹتے قلم سے نئی فلموں پر لکھے تبصرے، فلم گوسپ، رنجش، پارٹیوں کے مناظر، ہیرو ہیروینوں کے وارڈ روب اور نجی زندگی میں تاک جھانک، اُن کے رومانس اور اُن کی عیاشیوں کی تفصیلات اور انکشافات میں سارے مسالے موجودہوتے ہیں۔ اگر کچھ نہیں ہوتاہے تو وہ ہے صحافی کا زاویۂ نظر۔ عام طور پر فلم کو ایک ایسا موضوع جانا، مانا اور گردانا گیاجس کے بارے میں زیادہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ افسوس یہ کہ منوں اور ٹنوں کاغذ اور سیاہی خرچ کر کے تیار کئے جانے والے ان تبصروں اور تجزیوں کے انبار میں فلم کی جمالیات اور فلم شعریات پر طبع زاد مضامین اور insight سے بھرے فلمی تبصرے آنکھوں میں لگانے کے لئے بھی نہیں ملتے اور اس سلسلے میں تاویل یہ دی جاتی ہے کہ عام قاری کے سامنے جو پروسا جائے اُسےوہ بصد شوق پڑھتا اور پچاتا ہے۔ یہ بات عموماً فراموش کر دی جاتی ہے کہ فلم صحافت کا کام سنیماکے فکری و فنی پہلوئوں کو مانیٹر کرنابھی ہے۔ فلم کے تبصروں کاجہاں تک تعلق ہے ،یہ سچ ہے کہ فلم دیکھنے والے تبصرے پڑھ کر فلم دیکھنے نہیں جاتے۔ فلم تبصروں کی تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو ہمیں ایسی بہت سی فلمیں ملیں گی جن پر اتنے سخت تبصرے کئے گئے کہ اگر ان تبصروں کو ہی کسوٹی مان لیا جاتا تو ممکن تھا کہ تبصروں کی اشاعت کے بعد اُن فلموں کو ٹین کے گول ڈبوں میں بند کرکے رکھ دیا جاتا۔ مگر جیسا کہ سب جانتے ہیں ان منفی تبصروں کے بعد اور باوجود فلمیں ہٹ ہوئیں اورسپر ہٹ ہوئیں ۔ ’’شعلے‘‘ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ بعض فلمیں superlative اورadjectives کا سہارا لے کر سراہی گئیں لیکن شائقین نے اُنہیں ہفتہ پورا ہونے سے پہلے ہی تھیٹرنکالا دے دیا۔ یہاں فلمی تبصروں کی اہمیت اور افادیت کو کم کرکے آنکنا نہیں ہے، بس کہنا یہ مقصود ہے تبصرہ فلم کو ہٹ یا فلاپ کرنے کاکوئی جادوئی منتر نہیں اور نہ کوئی گیارنٹی یا وارنٹی کارڈ ہے۔ تبصرہ مثبت ہو یا منفی یہ اصل میں فلم فہمی اور فلم شناسی کا ہی ایک قرینہ ہے ... جاننے والے جانتے ہیں ،جو نہیں جانتے وہ جان لیں کہ اردو اور دوسری زبانوں میں عموماً فلموں پر تبصرے کرنے کیلئے جس بندے کو assign کیا جاتا ہے وہ نہ فلم کی جمالیات سے کماحقہ واقف ہوتا ہے نہ تبصروں کی شعریات سے...فکری و فنی اعتبار سے اِن پھوہڑ اور ناقص تبصروں نے سنیما کو کم فلم صحافت کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ بےشک سنیما کو مقبول اورپاپولرکلچر کا حصہ بنانے میں فلمی رسائل اور اخبارت کے فلمی Supplements نے اہم رول ادا کیا ہے۔ اب تو خیرسے اردو میں نئے فلمی رسائل نکلنا لگ بھگ بند ہو گئے ہیں اور جو کچھ ادھر اُدھر سے نکلتے ہیں وہ بھی بس برسات کی چاندنی کی طرح اپنی جھلک دکھاتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے ہر رسالے کے پاس اُسے بند کرنے کی اپنی وجہیں ہوں گی مگردلچسپ بات یہ ہے کہ اردو میں فلمی رسائل بغیرمناسب پلاننگ، ریسرچ، تیاری اور فنڈ کے ہی نہیں ، زاویۂ نظرکے بغیر بھی دھڑلے سے نکلتے اور بکتے رہے۔
ایک زمانے میں یعنی آج سے تین چار دہائی پہلے اردو میں فلمی رسائل کی فصل لہلہا تی نظر آتی تھی۔ شمع، فلمی ستارے، روبی ، گلفام، نرالی دنیا، فلم انڈسٹری، کہکشاں ،فلم سنسار، گُلفشاں ، اداکار، عکّاس، فلم ویکلی، مووی ٹائمز، سنے ایڈوانس، فلم دیش، پائل، شیبا وغیرہ، غرضیکہ ایک لمبی فہرست ہے۔لطف یہ ہے کہ زیادہ تر رسائل بالی ووڈ یعنی بمبئی سے ایک ہزار چار سو کلو میٹر دور پرانی دلی سےشائع اور طبع ہو رہے تھے اورسب شمع کے obsession میں تھے۔ جبکہ شمع جس کی اشاعت چار لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی اور بیشتر رسائل اس کی ایک چوتھائی مقبولیت اور کھپت تک رسائی پانے میں ناکام تھے ۔ یہ الگ بات ہے کہ شمع کی مقبولیت کا سبب اُس کے انعامی معموں میں بھی پوشیدہ تھا۔ اس بات کا اعتراف سب کریں گے کہ شمع کےفلمی اورغیر فلمی مواد کی سطح اُس کے معاصر رسائل سے کافی بلند تھی ۔ ایک طرف نوشاد ، راہی معصوم رضا ،جانی واکر اور دھرمیندر کی ہمقدمی اُسے نصیب تھی تو دوسری طرف اردو کے صف اول کے ادیبوں مثلاً قرۃ العین حیدر ،عصمت چغتائی، خواجہ احمد عباس ،کرشن چندر جیسے لکھنے والوں کاتعاون بھی حاصل رہا۔لیکن و قت کے تیزی سے گھومتے پہیوں نے زندگی اور زمانے کے تقاضوں اور ضرورتوں کو بھی بدل کر رکھ دیاتھا،جن سے مفاہمت نہ کرنے کے باعث اردو کے بیشترفلمی ر سائل شیروں کی نسل کی طرح کم ہوتے ہوتے گُم ہونے لگے۔
اور پھر یوں ہوا کہ نئی صدی کے طلوع ِآفتاب کےساتھ اطلاعات اور معلومات سے لدا پھندا سوشل اور ڈجیٹل میڈیا بلڈوزر کی طرح ہماری سماجی، سیاسی، ذہنی اور جذباتی زندگی میں داخل ہوا۔ اُس کے پہیوں کی دھمک نے ۹۰ء کی دہائی میں ہی ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ جیسے دیو ہیکل پبلشنگ ہائوس کو السٹریٹیڈ ویکلی ، دھرم یُگ،ساریکا اور پراگ جیسے مقبول رسائل کو بند کرنےپر مجبور کر دیا۔اب تو خیر سے انفارمیشن تکنالوجی کا بھوت بوتل سے باہر آچکا ہے اور جسے دیکھو وہ ہاتھوں میں اسمارٹ فون اور کانوں میں Ear Bud ٹھونسےجگالی میں مصروف ہے اورسیاسی، سماجی، فلمی اور غیر فلمی خبریں اوراُن کے ویڈیوزpolaroid کیمرہ سے بر آمد ہونے والی تصویروں سے بھی زیادہ سُرعت سےفیس بُک، یوٹیوب، واٹس اَپ، انسٹا گرام ، ٹیلی گرام اور دوسرے سوشل میڈیاپر تیرتے ہیں اور یہ سلسلہ 24x7 جاری ہے۔ خبروں کی اس موسلادھار بارش نے اردوہی نہیں انگریزی، ہندی، مراٹھی، بنگالی اور دوسری زبان کے پرنٹ میڈیا کو ہی Out Of Palce کر کے رکھ دیاہے ۔
آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ آج کوئی بھی زبان، تہذیب اور ثقافت ، سنیما کو اپنےنصاب سے خارج کرنا Afford نہیں کر سکتی۔تمام تر اُتھلے،سطحی اور سستے تفریحی عناصر کی موجودگی کے باوجود سنیما ہماری سماجی زندگی کے خوف اور خواب کا آئینہ دار ہونے کا دعویٰ دار رہا ہے اور اُس کےدعوے کو جھٹلانا آسان بھی نہیں ۔ اجتماعی نفسیات پر اس کے گہرے اور ہمہ گیر اثرات نے ہی اردو کے بلند مرتبہ نقاد حسن عسکری تک کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا تھا کہ ’’فلم کے اداکار ہمیں معاشقہ ہی نہیں سکھاتے جینا بھی سکھاتے ہیں ،بلکہ جی کر دکھاتے ہیں ۔‘‘
ظاہر ہے جو میڈیم اپنے بہترین لمحات میں ہمارے انفرادی اور اجتماعی احساس اور جذبات سے بلند ترین اور عمیق ترین حصوں سے مخاطب ہوتا ہے، اُسے ’’ٹھلوئے پن‘‘ سے Conductکرنا سانپ کو دُم سے پکڑنے کے مترادف ہوگا۔ اس تناظر میں صحافت کو سنیما کی فنی جہتوں اور پنہائیوں کو منکشف کرنے کے لئے زیادہ حساس ہونا پڑے گا اور ظاہر ہے زیادہ اسمارٹ بھی بننا پڑے گا۔