Inquilab Logo Happiest Places to Work

آخرکار بھارتیہ جنتا پارٹی کو بہار میں اس کا پہلا ’سمراٹ‘ مل ہی گیا

Updated: April 15, 2026, 1:37 PM IST | Patna

سمراٹ چودھری نے بہار کے ۲۴؍ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے لیا ہے اور اس کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی اس بڑی خواہش کو حاصل کر لیا ہے، جس کے پیچھے وہ طویل عرصے سے کوشاں تھی۔

Samrat And Nitish Kumar.Photo:PTI
سمراٹ چودھری اور نتیش کمار۔ تصویر:پی ٹی آئی

سمراٹ چودھری نے بہار کے ۲۴؍ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لے لیا ہے اور اس کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی اس بڑی خواہش کو حاصل کر لیا ہے، جس کے پیچھے وہ طویل عرصے سے کوشاں تھی۔ 
بی جے پی نے ۲۰۲۳ء میں سمراٹ چودھری کو پارٹی کا بہار ریاستی صدر بنا کر جو سیاسی سرمایہ کاری کی تھی، تین سال بعد اس کی سود سمیت وصولی ہو گئی ہے۔ ۴۶؍ سال پرانی اس پارٹی کو طویل جدوجہد کے بعد بہار میں اپنا پہلا وزیر اعلیٰ مل گیا ہے۔ 
بہار میں نتیش کمار جب ۲۶؍ سال پہلے محض سات دنوں کے لیے وزیر اعلیٰ بنے تھے، اس وقت سمراٹ چودھری مخالف راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ٹکٹ پر پربتّا اسمبلی حلقہ سے منتخب ہو کر آئے تھے۔ اس انتخاب میں ان کے والد اور نتیش کمار کی پرانی سمتا پارٹی کے بانی اراکین میں شامل شکونی چودھری بھی مخالف خیمے میں تھے۔ ۲۰۰۰ء کے انتخابات میں نتیش کی پارٹی کو صرف ۳۴؍ سیٹیں ملی تھیں جبکہ بی جے پی نے ۶۷؍ سیٹیں جیتی تھیں۔ اس کے باوجود اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے اپنی کابینہ میں شامل ایک اتحادی جماعت کے رہنما نتیش کمار کو ریاست کی سیاست میں وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا۔ واجپئی کی یہ کشادہ دلی اتحادی جماعتوں کے تئیں ان کے رویے کی مثال سمجھی گئی۔ اس تجربے میں نتیش صرف سات دن وزیر اعلیٰ رہے، لیکن بہار کے عوام کو مستقبل کے لیے ایک نیا چہرہ مل گیا۔ بعد میں نومبر ۲۰۰۵ء میں نتیش کمار وزیر اعلیٰ بنے اور ۱۶؍جون ۲۰۱۳ء تک بی جے پی کی حمایت سے اس عہدے پر برقرار رہے۔ 
یہ وہی دور تھا جب سمراٹ چودھری سیاست کے ایک طالب علم کے طور پر ابھر رہے تھے۔ ۲۰۰۰ء میں پربتّا اسمبلی سیٹ سے پہلی بار راشٹریہ جنتا دل کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی بننے کے بعد وہ ۲۰۰۵ء کا انتخاب ہار گئے تھے، لیکن ۲۰۱۰ء میں واپسی کرتے ہوئے ایک بار پھر اسی نشست سے جیت کر اسمبلی پہنچے۔۲۰۱۴ء میں انہوں نے آر جے ڈی کے ساتھ اپنی طویل سیاسی وابستگی ختم کر دی اور نتیش کمار کی جنتا دل (یونائیٹڈ) میں شامل ہو گئے۔ اس وقت انہیں وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی کی کابینہ میں شہری ترقی اور رہائش کے وزیر کا عہدہ ملا۔ اس سے قبل ۱۹۹۹ء میں وہ رابڑی دیوی کی کابینہ میں بھی شامل رہ چکے تھے، تاہم وہ دور مختصر تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:روس چین تعلقات عالمی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں: لاوروف


جب سمراٹ چودھری جنتا دل (یونائیٹڈ) میں آئے تو بہار کی سیاست ایک تجرباتی دور سے گزر رہی تھی۔ سن ۲۰۱۴ء کے لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی نے نریندر مودی کو وزیر اعظم کا چہرہ بنایا، جس کے خلاف نتیش کمار نے ۲۰۱۳ء میں ہی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔۲۰۱۴ء میں نریندر مودی وزیر اعظم بنے اور یہیں سے بی جے پی نے بہار میں اپنے لیے وزیر اعلیٰ کے چہرے کی تلاش شروع کی۔ اس سلسلے میں پارٹی نے سشیل مودی پر بھی داؤ لگایا، لیکن نتیش کمار کے دوبارہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) میں شامل ہونے کے بعد ان کی حیثیت بہار کابینہ میں دوسرے نمبر تک محدود ہو گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے:ونئے پاٹھک کھانے کے بہت شوقین ہیں


جس بی جے پی نے ۲۰۰۰ء سے۲۰۱۳ء تک مضبوطی سے نتیش کمار کا ساتھ دیا تھا، وہی اب مسلسل ایسے متبادل کی تلاش میں تھی جو بہار میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے اس کا چہرہ بن سکے اور نتیش کمار کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عوامی بنیاد تیار کر سکے۔ انہی حالات میں سمراٹ چودھری نے ۲۰۱۸ء میں جنتا دل (یونائیٹڈ) چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اسی سال پارٹی نے انہیں بہار میں ریاستی نائب صدر بھی بنا دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK