ڈوبنے کے واقعات کو روکنے کیلئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا اہم قدم۔ضلع کے مزید۲؍ ساحلوں پر روبوٹک لائف گارڈز تعینات کئے جائیں گے۔
ناگاؤں ساحل پر روبوٹک لائف گارڈ کے پاس گرام پنچایت کی سرپنچ ہرشدہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اورپولیس کے اہلکار نظر آرہے ہیں- تصویر:آئی این این
علی باغ کے ساحلوں پر ڈوبنے کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر رائے گڑھ ضلع میں سیاحوں کی حفاظت کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا گیا ہے اور علی باغ تعلقہ کے ناگاؤ ں گرام پنچایت کو روبوٹ گارڈز اور حفاظتی کٹس مہیا کرائی گئی ہیں۔ ناگاؤں اس طرح کے اقدام کو نافذ کرنے والی ضلع کی پہلی گرام پنچایت بن گئی ہے۔
رائے گڑھ سیاحت کے لحاظ سے ریاست کا ایک اہم ضلع سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً ۲۴۰؍کلومیٹر کی وسیع ساحلی پٹی پر مشتمل یہ ضلع علی باغ، ناگاؤں، اکشی، کاشد، مروڈ، مانڈوا، شریوردھن اور دیویاگر کے ساحلوں پر ہر سال سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاہم سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ سیکوریٹی کا مسئلہ بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ضلع کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے علی باغ کے قریب واقع ناگاؤں ساحل پر روبوٹک لائف گارڈ سسٹم شروع کر دیا ہے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ایک ذمہ دار نے بتایا کہ اگر یہ سسٹم کامیاب ہو گیا تو رائےگڑھ ضلع کے مزید۲؍ ساحلوں پر اس طرح کے روبوٹک گارڈز تعینات کرئے جائیں گے۔
یہاں کانیلا سمندر ، کھاڑیاں ،صاف و شفا ف پانی، سفید و نرم ریت، ناریل اور سپاری کی باڑیاں، کاجو اورآموں کے باغات اور سمندری قلعے، ریاست کے مختلف حصوں سے آنے والے سیاحوں کے پسندیدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال لاکھوں سیاح کوکن کے مختلف ساحلوں پر آتے ہیں۔ تاہم پانی کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے سیاح اکثر ڈوب جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں لائف گارڈز تعینات نہیں ہیں جس کی وجہ سے سیاحوں کی جان کو خطرہ رہتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں رائے گڑھ ضلع کے کاشد، دیویاگر، ہری ہریشور، مروڈ اور علی باغ کے ساحلوں پر سیاحوں کے ڈوبنے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ مقامی گرام پنچایتیں دیہی علاقوں میں ساحلوں پر لائف گارڈز کی تعیناتی کا خرچ برداشت نہیں کر سکتیں۔ اس کے پیش نظر اب روبوٹک واٹر کرافٹ کو رائے گڑھ کے ساحلوں پر تعینات کیا جائے گا۔
فی الحال یہ روبوٹک گارڈز کو رائے گڑھ ضلع کے تین ساحلوں پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ ان میں علی باغ تعلقہ میں ناگاؤں کا ساحل، مروڈ تعلقہ کا کاشد اور شریوردھن تعلقہ کا ہری ہریشور شامل ہیں۔بتایا گیا ہے کہ آئندہ دنوں میں زندگی بچانے والے مزید۱۵؍روبوٹک واٹر کرافٹس دستیاب کرائے جائیں گے۔ اس سے رائے گڑھ کے ساحلوں کو سیاحوں کیلئے محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔
یہ روبو ٹک گارڈ کیسے کام کرتا ہے؟
مکمل طور پر خودکار روبوٹک واٹر کرافٹ ساحل سمندر پر اونچی لہروں کے دوران ہنگامی صورتحال میں فوری مدد فراہم کرنے کیلئے بہت مفید ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ اسے ریموٹ کنٹرول کی مدد سے آسانی سے چلایا جا سکتا ہے۔ یہ مشین پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں تک تیزی سے پہنچنے اور انہیں محفوظ طریقے سے ساحل تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ مشین ایک وقت میں۲۰۰؍ کلو وزن کھینچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس لئے اس سے ایک وقت میں دو لوگوں کو بچانا ممکن ہو گا۔یہ روبوٹک لائف گارڈ سمندر میں۸۰۰؍ میٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ناگاؤں کی سرپنچ ہر شدہ میکر کا مطالبہ
ناگاؤں کی سرپنچ ہر شدہ میکر نے کہا کہ ’’ناگاؤں جیسے سیاحتی مقام پر ہمیشہ سیاحوں کی بڑی تعدادآتی ہے۔ ایسے حالات میں روبوٹ گارڈز بہت مفید تصویر کیا جارہا ہے۔ تاہم حکومت کو اس ڈیوائس کو موثر طریقے سے استعمال کرنے کیلئے تربیت یافتہ افرادی قوت اور ان کی تنخواہوں کیلئے مناسب بندوبست کرنا چاہئے۔‘‘