رائے دہی کے حق کا استعمال کرنے کے تعلق سے جتنی بیداری اب ہے، پچیس تیس سال پہلے نہیں تھی۔ اُس دور میں بہت سے لوگ ووٹنگ کے دن کو چھٹی کا دن اور چھٹی کے دن کو آرام یا سنیما بینی یا دوستوں کے ساتھ گپ شپ یا بچوں کے ساتھ سیر و تفریح کا دن مان کر اسی انداز میں گزارتے تھے۔
رائے دہی کے حق کا استعمال کرنے کے تعلق سے جتنی بیداری اب ہے، پچیس تیس سال پہلے نہیں تھی۔ اُس دور میں بہت سے لوگ ووٹنگ کے دن کو چھٹی کا دن اور چھٹی کے دن کو آرام یا سنیما بینی یا دوستوں کے ساتھ گپ شپ یا بچوں کے ساتھ سیر و تفریح کا دن مان کر اسی انداز میں گزارتے تھے۔ غیر ذمہ داری کا یہ حال تھا کہ کسی سے پوچھئے کہ ووٹ دے چکے تو اس کا جواب ہوتا تھا کہ کیا ہوگا ووٹ دینے سے۔ اگر یہ نہیں تو کوئی کہتا کہ کون لائن میں کھڑا رہے گا، یہاں کرنے کے بہت کام ہیں ۔ کسی کے پاس یہ جواز ہوتا تھا کہ ا ُس کا نام ووٹنگ لسٹ میں آتا ہی نہیں ہے۔ گویا جتنے منہ اُتنے بہانے ہوتے تھے۔ مگر، دور بدلا اور خوب بدلا۔ دیگر قوموں میں فکر اور بیداری پہلے سے بھی تھی اور اب زیادہ فعالیت آگئی ہے۔ ہماری قوم میں غفلت تھی، لاپروائی اور کوتاہی تھی جو بڑی حد تک احساس ذمہ داری اور جوش و خروش میں تبدیل ہوچکی ہے۔ یہ لائق تحسین ہے۔
ہر قوم میں ووٹنگ کی فکر جگانے کا سہراجن اداروں کے سر بندھتا ہے اُن میں سے ایک وہی الیکشن کمیشن ہے جو اَب اپنی بدعملی اور جانبدارانہ کارکردگی کی وجہ سے غیر معمولی تنقیدوں کا نشانہ ہے، ایسی تنقیدیں جو اس ادارے پر پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں ۔ بہرکیف، الیکشن کمیشن نے ووٹ فیصد بڑھانے پر توجہ دی اور عوام میں بیداری کے لئے یکے بعد دیگرے کئی مہمیں چلائیں ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ووٹنگ کا حق استعمال کرنے کی فکر اب مسلم محلوں میں صاف دیکھنے کو ملتی ہے۔ لسٹ میں نام ہے یا نہیں ، پولنگ بوتھ کہا ں ہے، کتنے اُمیدوار ہیں ، کون کس پارٹی سے ہے وغیرہ کے بارے میں اب لوگ پولنگ کے دن سے کافی پہلے معلومات اکٹھا کرلیتے ہیں ۔ اس فکر اور جذبے سے جمہوری عمل میں اُن کی شمولیت بڑھی ہے۔ جمہوریت عوامی شرکت سے توانا ہوتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانا جمہوریت کو زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنے اور بامعنی بنانے کی کوشش ہے۔
اِدھر یہ سہولت بھی حاصل ہوگئی ہے کہ رائے دہندگان اپنا نام، پولنگ بوتھ وغیرہ آن لائن دیکھ کر اطمینان کرسکتے ہیں ۔ یہ بڑی سہولت ہے جس سے استفادہ کا مشورہ دینا اب ضروری نہیں رہ گیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ رائے دہندگان استفادہ کررہے ہیں ۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ ایسے ہونگے جو آن لائن معاملات سے واقف نہ ہوں ۔ انہیں چاہئے کہ گھر کے یا آس پاس کے نوجوانوں کی مدد لیں اور ووٹنگ سے تین چار دن پہلے ہی اپنے نام کی توثیق کرلیں بلکہ ممکن ہو تو جاکر اپنا پولنگ بوتھ بھی دیکھ آئیں تاکہ ووٹنگ والے دن دقت نہ ہو۔
جو لوگ ضعیف ہیں یا بستر علالت پر ہیں اُن کے ووٹوں کا کیا ہوگا اس کی فکر گھر والوں کو قبل از وقت کرنی چاہئے تاکہ طے ہو جائے کہ اُن کے ساتھ کون جائیگا اور اُمیدوار کی تفصیل اور نشانی سے اُنہیں کون آگاہ کریگا۔ اسی طرح جو لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوگئے اور اپنا پتہ نہیں بدلوایا اُنہیں پتہ کی تبدیلی کیلئے آن لائن عریضہ دے کر ضروری ترمیم کروا لینی چاہئے تھی مگر اب ووٹ ضائع نہ ہو اسلئے ضروری ہے کہ وہ اول وقت پر پہنچنے کا منصوبہ بنالیں ۔ یہ نہ ہو کہ ٹرین میں بھیڑ کے ڈر سے یا کسی اور دشواری کے سبب گھر بیٹھ جائیں ۔ یاد رکھئے کہ ووٹ دینا از حد ضروری ہے۔ اس جمہوری عمل کو جتنا مضبوط کیا جائیگا اُتنا جمہوریت پر ہمارے یقین کا اظہار ہوگا۔