گرین لینڈ کی پانچ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے ایک بیان میں کہا کہ وہ امریکی نہیں بننا چاہتے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کے عوام کے ہاتھوں لکھا جانا چاہئے۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 10:16 PM IST | Copenhagen
گرین لینڈ کی پانچ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے ایک بیان میں کہا کہ وہ امریکی نہیں بننا چاہتے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کے عوام کے ہاتھوں لکھا جانا چاہئے۔
ڈنمارک کے نیم خود مختار علاقے گرین لینڈ کی پانچ سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ ان کےگرین لینڈ کو حاصل کرنے کے اعلان کے باوجود، وہ امریکی نہیں بننا چاہتے۔جمعہ کو جاری ایک مشترکہ بیان میں جماعتوں کے سربراہوں نے کہا، ’’ہم امریکی نہیں بننا چاہتے، ہم ڈنمارکی نہیں بننا چاہتے، ہم گرین لینڈی بننا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم ایک بار پھر امریکہ کی جانب سے اپنے ملک کیلئے حقارت کو ختم کرنے کی خواہش پر زور دینا چاہتے ہیں۔ گرین لینڈ کا مستقبل گرین لینڈ کے لوگوں کوطے کرنا ہے۔‘‘
دریں اثناء بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ جزیرہ نما علاقہ نے حالیہ برسوں میں اپنی بین الاقوامی حصہ داری میں اضافہ کیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ ہمیں ایک بار پھر اس بات کا مطالبہ کرنا چاہیے کہ یہ مکالمہ سفارت کاری اور بین الاقوامی اصولوں پر مبنی ہونا چاہئے۔‘‘ تاہم انہوں نے اعلان کیا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس جلد منعقد کیا جائے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایک منصفانہ اور جامع سیاسی بحث ہو اور عوام کے حقوق محفوظ ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، واشنگٹن مدد کیلئے تیار ہے: ٹرمپ
واضح رہے کہ یہ بیان ٹرمپ کے بار بار کے ان تبصروں کے بعد آیا ہے جن میں انہوں نے ڈنمارک کی بادشاہت کے اس نیم خود مختار علاقے پر قبضے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’ہم گرین لینڈ کے بارے میں کچھ کرنے جا رہے ہیں، چاہے وہ پسند کریں یا نہ کریں، کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کر لیں گے، اور ہم روس یا چین کو پڑوسی نہیں بنانا چاہتے۔‘‘ چنانچہ انہوں نے فوجی قبضے کے امکان کو رد نہ کرتے ہوئے مزید کہا، ’’میں آسان طریقے سے سودا کرنا چاہوں گا، لیکن اگر ہم آسانی سے نہیں کر سکتے تو ہم مشکل راستہ اختیار کریں گے۔‘‘ بعد ازاں ٹرمپ کے ان بیانوں کی وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی ہے، خاص طور پر یورپی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام نیٹو کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔