رمضان المبارک کی آمد میں اب زیادہ وقت نہیں ہے۔ اگر ۲۹ ؍ کا چاند نہیں ہوا بلکہ ۳۰؍ کا ہوا تو آئندہ جمعہ کو پہلا روزہ ہوگا، ان شاء اللہ۔ اِس ماہِ مبارک کی تیاری کے بارے میں سوچا جائے کہ اکثر اوقات تیاری سے کیا مراد لی جاتی ہے تو یہی بات ذہن میں آئے گی کہ معاشرہ میں لوگ محتاط ہوجاتے ہیں ، سفر مؤخر کرتے ہیں ، ضروری کام نمٹانے لگتے ہیں
رمضان المبارک کی آمد میں اب زیادہ وقت نہیں ہے۔ اگر ۲۹ ؍ کا چاند نہیں ہوا بلکہ ۳۰؍ کا ہوا تو آئندہ جمعہ کو پہلا روزہ ہوگا، ان شاء اللہ۔ اِس ماہِ مبارک کی تیاری کے بارے میں سوچا جائے کہ اکثر اوقات تیاری سے کیا مراد لی جاتی ہے تو یہی بات ذہن میں آئے گی کہ معاشرہ میں لوگ محتاط ہوجاتے ہیں ، سفر مؤخر کرتے ہیں ، ضروری کام نمٹانے لگتے ہیں ، راشن بھرنے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے، وغیرہ۔ تیاری میں ذہنی و روحانی طور پر تیار ہونا بھی شامل ہے اور یہ دیکھ کر مسرت ہوتی ہے کہ آج کا مسلمان،کتنا ہی بے عمل ہو، اس فکر سے خود کو بری الذمہ نہیں سمجھتا۔
جس تیاری کی طرف زیادہ لوگوں کی توجہ نہیں ہوگی وہ ہے موجودہ ماحول میں ایک خاص نقطۂ نظر سے کی جانے والی تیاری۔ رمضان میں بعض لوگوں کو غصہ زیادہ آتا ہے۔ کیا اس کو قابو میں رکھنے کی تیاری کی جارہی ہے؟ رمضان میں بالخصوص افطار سے پہلے بازاروں ، محلوں کے نکڑوں اور ہوٹلوں کے قریب بھیڑ بڑھ جاتی ہے۔ پتہ نہیں کیوں زیادہ تر لوگ اسی دورانیہ میں خریداری کرنا چاہتے ہیں ، بہرحال، کیا اس بھیڑ کو کسی نہ کسی سطح پر منظم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے؟ کیا اس سلسلے میں مقامی حکام کی مدد لینے کی تیاری کی جارہی ہے؟ اکثر علاقوں میں رات بھر یا دیر رات تک کھلی رہنے والی ہوٹلوں کے قریب اچھا خاصا مجمع رہتا ہے۔ اس مجمع میں اکثر لوگ محض شب گزاری کے مقصد سے وہاں پائے جاتے ہیں ۔ کیا اس بات کی تیاری ہورہی ہے کہ ذمہ داران ، لوگوں کا پہلے سے ذہن بنائیں کہ ان جگہوں پر بھی غیر ضروری مجمع نہ ہو؟ ماہِ مبارک کی راتوں میں یہ مشاہدہ بھی عام ہی ہے کہ نوجوان یا تو کرکٹ یا کوئی اور کھیل کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں یا بائیک سواری کے محبوب مشغلہ سے لطف اندوز ہوتےہیں ۔ کھیلنا اچھی بات ہے مگر رات میں اور رمضان کی راتوں میں کھیلنے کےپس پشت کون سی منطق ہے یہ سمجھ سے باہر ہے۔ سوائے تضیع اوقات کے اس میں کچھ نہیں ۔ جہاں تک بائیک سواری کا تعلق ہے، اس میں ’’فنی کمالات‘‘ دکھانے کے جو مظاہر سڑکوں پر عام ہوتے ہیں ، انہیں دیکھ کر دل بھی جلتا ہے اور روح بھی کانپتی ہے کہ یہ ’’فنکار‘‘ کس دین کے پیروکار ہیں ، وہ کیا سکھاتا ہے، یہ کس طرح کا نمونہ پیش کررہے ہیں اور ان کے والدین کو آدھی رات میں گھروں سے ان کی غیر حاضری پر تشویش کیوں نہیں ہے؟ بہرحال، کیا ان نوجوانوں تک کوئی واضح پیغام پہنچانے کی تیاری ہورہی ہے کہ بھائی کیوں اپنے والدین اور اپنی قوم کا نام خراب کرتے ہو!
ضروری ہے کہ یہ پیغام عام ہو کہ ماہِ مبارک تنہائی میں عبادت کیلئے ہے، یہ بھیڑ بھاڑ کا مہینہ ہے نہ ہی بازاروں کا، یہ تضیع اوقات کا مہینہ ہے نہ ہی رات میں بائیک سواری کے کمال دکھانے کا۔ یہ افطار سے قبل کے اوقات میں زناٹے سے بائیک دوڑانے اور لڑا بیٹھنے کا بھی مہینہ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ساری باتیں قوم کو کون بتائے؟ اس کیلئے مساجد کے ائمہ نہایت مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں جو تسلسل کے ساتھ اس جانب توجہ دلاتے رہیں ۔ سیاسی لیڈروں کی باتوں کو بھی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اسلئے یہ اُن کی بھی ذمہ داری ہے۔ سماجی تنظیموں کا عوام سے رابطہ رہتا ہے، وہ بھی اس کارِ خیر میں کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ کچھ بھی ہو، یہ تصویر بدلنی چاہئے اور یہ تاثر پیدا ہونا چاہئے کہ ہم ذمہ دار شہریوں کی طرح رہنا جانتے ہیں ۔