• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مزدور مخالف قوانین کیخلاف لیبر کمشنر کے دفتر کے باہر زبردست احتجاج

Updated: February 13, 2026, 3:55 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

ٹریڈ یونینوں کے لیڈران اور مختلف سیکٹر کے مزدوروں نے بڑی تعداد میں قوانین واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ وفد نے لیبر کمشنر سے ملاقات کرکے میمورنڈم دیا۔

Scene of the protest organized by the Centre of Indian Trade Unions (CITU) outside the Labour Commissioner`s office. Photo: INN
لیبر کمشنر کے دفتر کے باہر سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینس(سیٹو) کے زیراہتمام احتجاج کا منظر۔ تصویر: آئی این این

مزدور مخالف ۴؍ سیاہ قوانین کے خلاف   جمعرات کو ٹریڈ یونینوں کے ملک گیر احتجاج کےتحت  سہ پہر ۳؍ بجے باندرہ کرلا کمپلیکس میں واقع لیبر کمشنر کے دفتر کے باہر ٹریڈ یونینوں کے لیڈران اور مختلف سیکٹر کے مزدوروں کی جانب سے زبردست احتجاج کیا گیا۔ مزدور مخالف سیاہ قوانین واپس لینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ۔ مظاہرین الگ الگ نعروں والے پلے کارڈز اور بڑا بینر اٹھائے ہوئے تھے اور ان کی جانب سے وزیراعظم مودی کی تصاویر کو بھی نمایاں کرتے ہوئے یہ بتایا گیا تھا کہ ان کی سربراہی میں لایا گیا یہ قانون کس قدر خوفناک ہے۔ اس موقع پریونین لیڈران نے اظہار خیال کیا اور قانون کی خطرناکی پر روشنی ڈالنے کے ساتھ مودی حکومت کو ہدف ِتنقید بنایا۔
واضح ہو کہ نئے لائے گئے۴؍ قوانین کا بنیادی مقصد ٹریڈ یونینوں کو کمزور کرنا، انہیں تباہ کرنا اور رجسٹریشن منسوخ کرنا آسان بنا دیا گیا ہے، نئے قانون کے مطابق مستقل ملازمت کے بجائے وقتی مقررہ مدت ملازمت متعارف کرائی گئی ہے، اس کی آڑ میں کارخانوں کو بند کرنا بھی آسان کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح قانونی طور پر ہڑتال پر جانا نہ صرف مشکل بلکہ تقریباً ناممکن کردیا گیا ہے۔ بلا اجازت ہڑتال کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جائے گا،  پراویڈنٹ فنڈ میں آجروں کا حصہ کم کر دیا گیا ہے اور یومیہ کام کے اوقات کو ۱۲؍گھنٹے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس طرح مزدوروں کے دیگر نقصانات اور ان کے حقوق سلب کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مینا تائی ٹھاکرے آڈیٹوریم کی مرمت کے کام میں سست رفتاری پر میونسپل کمشنر برہم

راشٹریہ مل مزدور سنگھ کے لیڈر سریندر مورے نے کہا کہ یاد رکھئے ، یہ حکومت آسانی سے نہیں جھکتی ہے، صرف احتجاج اور ہڑتال کافی نہیں ، ہم سب کو مستقل طور پر لڑنا اور آواز بلند کرنا ہوگا۔آل انڈیا ٹریڈ یونین کونسل کے ذمہ دار پروین نارکر نے کہا کہ آپ کی ایکتا اور طاقت کے سامنے یہ قانون ایک طرح سے کچرا ہے۔  اس کا مقصد صرف پونجی پتیوں کو فائدہ پہنچانے اور غریبوں کو ختم کرنے کیلئے لایا گیا ہے۔ آنگن واڑی فیڈریشن کی سربراہ کامریڈ سنگیتا کامبلے نے کہا کہ پورے دیش میں آج ہڑتال کی گئی ہے، اگر حکومت نے یہ قوانین واپس نہ لئے تو دیش بھر میں مسلسل احتجاج کیا جائے گا۔انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کونسل (آئی این  ٹی یو سی)  کے جنرل سیکریٹری گووند راؤ موہیتے کے مطابق ۴؍ لیبر کوڈ منواسمرتی جیسے ہیں۔ یہ قوانین مزدوروں کے حقوق سلب کرنے والے ہیں۔ ان کو ختم کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ  اسے بھی سمجھ لیجئے کہ اس قانون کی رو سے اگر آپ  احتجاج کرتے ہیں تو ریاستی حکومت ’جن سرکشا قانون‘ لگاکر ایکشن لے گی، اس لئے ہوشیار رہئے اور اس کے خلاف لڑنے کیلئے کمربستہ ہوجائیے۔  مذکورہ یونین کے صدر کیلاش کدم نے کہا کہ چاروں قوانین انتہائی خطرناک ہیں، اس سے مزدوروں کو۱۲؍گھنٹے کام کرنا ہوگا اور انہیں مستقل بھی نہیں کیا جائے گا۔ کچراواہتوک شرمک سنگھ کے صدر کامریڈ دیپک بھالے راؤ نے کہا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جس طرح ڈرائیوروں نے ہڑتال کی اور حکومت پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی اسی طرح ہم مزدور تنظیموںکو بھی کرنا ہوگا تبھی مسئلہ حل ہوگا۔۴؍ لیبر قوانین کو ہمیں انجام تک پہنچانا ہے اور اسے ہرحال میں رد کرانا ہوگا۔کامریڈ شیوکمار داملے نے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ مہاراشٹر کو یونین کی جانب سے دیا گیا میمورنڈم پڑھ کر حاضرین کو سنایا۔ ڈاکٹر وویک مونٹیریو اور سی پی آئی لیڈر پرکاش ریڈی نے کہا کہ یہ ابتداء ہے، ہم سب ان قوانین کو رد کرانے تک احتجاج جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’طیارہ حادثہ والے دن اجیت پوار کا بذریعہ سڑک بارامتی جانے کا منصوبہ تھا ‘‘

لیبر کمشنر سے ملنے گئے وفد میں رکن اسمبلی سچن اہیر، ملند راناڈے، کامریڈ سعید احمد، کیلاش کدم دیپک بھالے راؤ ، ببلی راؤت اور کامریڈ آر مائتی شامل تھے۔ انہوں نے لیبر کمشنر کو میمورنڈم دیا اور چاروں قوانین رد کرنے کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK