• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انٹاپ ہل کی عربیہ ناخوا کی ’کارڈیولوجی ٹیکنیشین ‘کے امتحان میں شاندارکامیابی

Updated: February 13, 2026, 4:04 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ڈی وائی پاٹل کالج کے کنوکیشن پروگرام میں اعزاز سے نوازاگیا۔ ان کے والد پولیوسے متاثر ہیں۔

Arbia with her father, Muazzam Nakhwa, during the college convocation. Photo: INN
کالج میں کنوکیشن کے دوران عربیہ اپنے والد معظم ناخوا کے ہمراہ۔ تصویر: آئی این این

یہاں یورپین کمپائونڈ میں رہائش پزیر ۵۴؍سالہ معظم ناخوا جو پولیو سےمتاثرہیں، کی بیٹی عربیہ نے کارڈیولوجی ٹیکنیشین کے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ اس  طرح معظم ناخوا نے  اپنی ہمت اور حوصلہ سے ثابت کر دیا ہے کہ جسمانی معذوری سے اگرچہ راہ مشکل ہوسکتی ہےلیکن عزم اورجنون ہوتو کامیابی حاصل کرنے سےکوئی نہیں روک سکتا۔  انہوں نے محدود وسائل میں اپنے ۲؍بچوںکو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرکے ان کیلئے بھی روشن مستقبل کےدروازے کھول دیئے ہیں۔
  معظم ناخوا کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے دبئی میں برسرروزگار ہے جبکہ بیٹی عربیہ ناخوانے ڈی وائی پاٹل کالج(ڈیم یونیورسٹی ) سے کارڈیولوجی ٹیکنیشین کے فائنل ائیرمیں اے گریڈ سےکامیابی حاصل کرکےاپنے والدکاسر فخر سے بلند کردیاہے۔ڈی وائی پاٹل کالج کی جانب سے پیرکومنعقدہ کنوکیشن پروگرام میں عربیہ کو اعزاز سے نوازاگیا۔عربیہ فی الحال اسی کالج میں انٹرن شپ کررہی ہے۔ وہ کارڈیولوجی ٹیکنیشین کے ساتھ طب کاپیشہ بھی اختیار کرنےکی متمنی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’طیارہ حادثہ والے دن اجیت پوار کا بذریعہ سڑک بارامتی جانے کا منصوبہ تھا ‘‘

 عربیہ ناخوا نے ایچ ایس سی کے بعد ڈی وائی پاٹل کالج ، نوی ممبئی سے ۳؍سالہ کارڈیولوجی ٹیکنیشین کا کورس اے گریڈ سےپاس کیا۔ عربیہ کی کامیابی نہ صرف اس کی ذاتی محنت کا ثمر ہے بلکہ اس عزم کی بھی جیت ہے جو اس کے والد نے برسوں پہلے کیا تھا کہ وہ اپنے خواب اپنے بچوں کے ذریعے پورے کریں گے۔عربیہ کے والد معظم ناخوا نے معذوروںکو ملنے والے ایس ٹی ڈی بوتھ اور سائبر کیفے کامعمولی کاروبار کرکےبچوںکو پڑھایاہے۔ وہ متعدد سماجی اداروں سے بھی وابستہ ہیں جن کے ذریعے ضرورتمندوں کی مدد بھی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۷۵؍ لاکھ صارفین کو مفت راشن کی فہرست سے نکال دیا گیا

معذورمعظم ناخوا کی ابتدائی تعلیم حاجی اسماعیل حاجی الانا میونسپل اسکول سے ہوئی جبکہ ثانوی تعلیم باندرہ اردو ہائی اسکول سے مکمل کی۔برہانی کالج سے گریجویشن کیا۔ زمانۂ طالب علمی میں وہ روزانہ لوکل ٹرین سے سفر کر کے تعلیم حاصل کرنے جاتے تھے۔ بچپن میں ان کا خواب ڈاکٹر بننے کا تھا مگر متوسط طبقے سے تعلق اور جسمانی معذوری کے باعث یہ خواب پورا نہ ہوسکالیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔گریجویشن کے بعد انہوں نے جی ٹکٹنگ اور ڈیٹا کورس بھی کیا۔ ۲۰۱۲ءمیں مونوریل منصوبے کے باعث انہیںاپنا کاروبار بند کرنا پڑا۔ ایک سال بعد ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت اختیار کی جہاں وہ آج بھی کام کررہےہیں۔ معظم ناخوا کی کہانی سبھی والدین کیلئے ایک پیغام ہے، مشکلات چاہے جتنی بھی ہوں، عزم، محنت اور مثبت سوچ سے منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK