امریکہ کے ۴۷؍ ویں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کب غضبناک ہونگے اور کب ان کی رگ ِظرافت پھڑکے گی کوئی نہیں جانتا۔ کب الزام تراشی کرینگے اور کب کسی کو تضحیک و تحقیر کا ہدف بنائینگے یہ بھی کوئی نہیں جانتا مگر انگریزی محاورہ ’’میتھڈ ان میڈ نیس‘‘ ان پر پورا کا پورا صادق آتا ہے۔
امریکہ کے ۴۷؍ ویں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کب غضبناک ہونگے اور کب ان کی رگ ِظرافت پھڑکے گی کوئی نہیں جانتا۔ کب الزام تراشی کرینگے اور کب کسی کو تضحیک و تحقیر کا ہدف بنائینگے یہ بھی کوئی نہیں جانتا مگر انگریزی محاورہ ’’میتھڈ ان میڈ نیس‘‘ ان پر پورا کا پورا صادق آتا ہے۔ فارسی میں کہتے ہیں ’’دیوانہ بکار خویش ہشیار‘‘ یعنی دیوانہ اپنے مطلب کی کرتا ہے یا جانتا ہے کہ اسے اپنا کام کیسے نکالنا ہے۔ دوسرے دَور کی صدارت کا ایک سال مکمل ہونے کو ہے۔ ایسے میں ان کا جوش و خروش اور کارروائیاں بڑھ گئی ہیں ۔ دنیا امریکہ کو ایک ایسے ملک کی حیثیت سے جانتی تھی جو سائنس و ٹکنالوجی میں تحقیق و ایجاد اور اپنی معاشی و فوجی طاقت کے ذریعہ عالمی سپر پاور ہے۔ یہ شناخت اس کیلئے باعث افتخار تھی اور اسی کو مستحکم کر کے کوئی بھی صدر اپنے دورِ حکومت کو دوسروں سے ممتاز کرتا تھا مگر ٹرمپ نے’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ (ماگا) کا نعرہ بلند کرکے جو اقدامات شروع کئے اُن سے ایسا لگ رہا ہے کہ اصل نعرہ ’’میک امریکہ گریٹ اگین بائی ہک اور کروک‘‘ ہے لیکن ٹرمپ پورا نعرہ بلند کرکے اپنے حقیقی عزائم کی قلعی نہیں کھولنا چاہتے۔ ’’بائی ہک اور کروک‘‘ کا معنی ہے کسی بھی طرح، کسی بھی طور پر، جائز ناجائز ہر طریقے سے۔ ٹرمپ یہی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے جس طرح خصوصی افسروں کو بھیج کر وینز ویلا کے صدر اور ان کی بیوی کو گرفتار کیا، اس کے چند ہی روز بعد جس طرح روسی بحری جہاز پر قبضہ کیا، انہی دنوں میں ایک اور جہاز کو روکا، وہ جس طرح گرین لینڈ کو دھمکی دے رہے ہیں اور جس طرح گزشتہ چند مہینوں کے دوران ٹیرف کی جنگ چھیڑ کر پوری دنیا کو حواس باختہ کردیا، یہ سب محض اس مقصد کے تحت ہے کہ عالمی نقشے پر موجود ہر چھوٹا بڑا ملک ان کو مائی باپ تسلیم کرلے۔ چند ملکوں نے اپنے ردعمل سے یہ ظاہر کیا کہ حضور، ہم آپ کو مائی باپ تو نہیں مانتے مگر آپ کے ہوتے ہوئے کسی اور کو مائی باپ ماننے سے گریز کرینگے، نتیجہ تو ایک جیسا ہی نکلے گا چنانچہ اب تک کئی ممالک اُن کی من مانی شرطوں کو مان چکے ہیں ۔
اس دوران وہ ہندوستان کے پیچھے پڑے رہے۔ ہرچند کہ ہند امریکہ تجارتی معاہدہ ڈیڈ لاک کی طرف بڑھ چکا ہے مگر ایسا نہیں کہ ہم مزید گفت و شنید کے متمنی نہیں مگر ٹرمپ عجلت میں تھے۔ وہ ہر طرح سے دباؤ ڈالتے رہے۔ اس میں شک نہیں کہ سفارتی اُمور میں دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنائی جاتی ہے مگر اُس طرح نہیں جس طرح ٹرمپ کی پالیسی ہے۔ ہمارے ساتھ اُن کا طرز عمل روز بہ روز زیادہ تحقیر آمیز ہوتا رہا۔ ہندوستانی عوام ابھی نہیں بھولے ہیں کہ ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کو ہتھکڑیاں پہنا کر اور اُن کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر وطن واپس بھیجا تھا۔ یہ ناقابل برداشت تھا اور اب بھی اس کی یاد تڑپاتی ہے۔ ٹرمپ کو اس پر معمولی سا بھی افسوس نہیں ہے۔ افسوس تو کیا وہ نت نئی حرکتوں کے ذریعہ نئی دہلی کا صبر آزمانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں اُنہوں نے وزیر اعظم مودی کو شریف آدمی اور اچھا دوست کہنے کے باوجود جو کچھ کہا وہ نہایت تکلیف دہ ہے (سر، مے آئی کم اِن والی بات)۔ اندرونِ وطن جو لوگ وزیر اعظم کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں انہوں نے بھی اس کا بُرا مانا کیونکہ وہ ایک سو چالیس کروڑ لوگوں کے نمائندہ ہیں اور اُن کے بارے میں کچھ کہنا ایک سو چالیس کروڑ لوگوں کو نیچا دکھانا ہے۔ معاہدہ ہو یا نہ ہو، ہمیں یہ بے عزتی برداشت نہیں کرنی چاہئے۔ وزارت ِ خارجہ کیوں اس کا نوٹس نہیں لیتا؟