Updated: March 11, 2026, 4:00 PM IST
| Mumbai
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع نے مشرقِ وسطیٰ میں سیکوریٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کے حملوں سے متعلق الزامات کو جھوٹ قرار دیا ہے جبکہ واشنگٹن نے تہران کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے پر سخت نتائج کی دھمکی دی ہے۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث بحرین نے اپنے ہوائی اڈے سے مسافر اور کارگو طیارے منتقل کر دیے ہیں۔
(۱) ایرانی وزیر خارجہ نے منصوبہ بند حملے کے امریکی دعوے کو سراسر جھوٹ قرار دیا
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران خطے میں نئے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ یہ الزامات ’’سراسر جھوٹ‘‘ ہیں اور ان کا مقصد ایران کے خلاف عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے لیکن وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا خواہاں نہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادی میڈیا اور سفارتی بیانات کے ذریعے ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عراقچی نے مزید کہا کہ تہران پر اقتصادی اور فوجی دباؤ ڈال کر اسے کمزور کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے متضاد بیانات سے سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور کسی بھی ممکنہ مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ریلائنس انڈسٹریز ۳۰۰؍ ارب ڈالر کی آئل ریفائنری میں شراکت دار ہوگی
(۲) ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بارودی سرنگوں پر سنگین نتائج کی دھمکی دی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ سمندری راستہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے اور اسے خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر یہاں کشیدگی بڑھی تو عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے یہ سمندری راستہ عالمی سیاست اور سلامتی کا اہم مرکز بن چکا ہے۔
(۳) بحرین نے ہوائی اڈے سے مسافروں اور کارگو طیاروں کو منتقل کر دیا
خلیجی ملک بحرین نے خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر اپنے مرکزی ہوائی اڈے سے مسافر اور کارگو طیاروں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام حفاظتی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ یہ قدم ہوائی اڈے کی آپریشنل تیاری کو بہتر بنانے اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ خلیجی ممالک میں ایران جنگ کے بعد سیکوریٹی اقدامات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرین کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ خطے کے ممالک کسی بھی ممکنہ فوجی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر امریکہ و اسرائیل جنگ کے دوران آن لائن مسلم مخالف مواد میں اضافہ: رپورٹ
(۴) ایران میں مبینہ جاسوسی کے الزام میں غیر ملکیوں سمیت درجنوں گرفتار
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل اور امریکہ کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں غیر ملکیوں سمیت درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ افراد حساس معلومات فراہم کرنے میں ملوث تھے اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ جنگی حالات میں دشمن ممالک کے ساتھ تعاون کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات عام طور پر جنگی حالات میں دیکھنے کو ملتے ہیں تاکہ اندرونی سیکوریٹی کو مضبوط بنایا جا سکے۔ تاہم انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔
(۵) پینٹاگون نے ایران جنگ میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ظاہر کی
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران کے ساتھ جاری تنازع میں زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ظاہر کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف حملوں اور فوجی جھڑپوں میں ۱۴۰؍ سے زائد امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ پینٹاگون نے کہا کہ زخمی اہلکاروں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی ہے اور ان میں سے بعض کو علاج کے لیے فوجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں زخمیوں کی تعداد اکثر ہلاکتوں سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جدید حفاظتی سازوسامان جان بچانے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ جنگی اخراجات اور انسانی نقصان دونوں مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مسلمانوں کے متعلق تقریباً نصف خبروں میں تعصب : تحقیق
(۶) اقوام متحدہ کا انتباہ: مشرق وسطیٰ میں حملے شہریوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حملوں سے شہری آبادی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق فریقین کے پے در پے حملوں کے باعث شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کریں۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو خطے میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کریگا۔