Inquilab Logo Happiest Places to Work

خامنہ ای کےایکس اکاؤنٹ سےٹرمپ کا کارٹون وائرل، وحشی درندہ قرار دیا، ایپسیٹن فائلز معاملے پر بھی طنز

Updated: March 11, 2026, 8:16 PM IST | Tehran/Washington

مرحوم خامنہ ای سے منسوب ایکس اکاؤنٹ سے ٹرمپ کا ایک کارٹون شیئر کیا گیا ہے جس میں انہیں ہیبت ناک شکل میں دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر میں ٹرمپ خون آلود اسکول بیگز کے درمیان کھڑے نوبیل امن انعام کا تمغہ تھامے ہوئے ہیں۔

Graphics Shared By Iran Linked Account. Photo: X
ایران کی جانب سے شیئر کئے گئے گرافکس۔ تصویر: ایکس

ایران نے امریکہ اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف سوشل میڈیا پر اپنی مہم تیز کر دی ہے۔ حال ہی میں اسلامی ملک کے آنجہانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے منسوب ایکس اکاؤنٹ سے جیفری ایپسٹین اسکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے ایک گرافک شیئر کیا ہے۔ ایک دوسری پوسٹ میں ٹرمپ کا کارٹون بنا کر معصوم ایرانی بچیوں کو قتل کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

مرحوم سپریم لیڈر کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کئے گئے گرافک میں ایک بڑی فائل دکھائی گئی ہے جس پر ”Epstein“ درج ہے۔ یہ فائل سمندر میں کسی جزیرے کی طرح تیر رہی ہے۔ اس کا ڈیزائن خلیج فارس کے قریب کھڑے کسی طیارہ بردار بحری جہاز سے مشابہت رکھتا ہے، جس پر لڑاکا طیارے اور ریڈار کا سامان بھی موجود ہے۔ فائل سے باہر نکلتی ہوئی ایک سرخ ٹائی دکھائی دے رہی ہے جسے ٹرمپ کی طرف اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: کشیدگی تیز، گرفتاریوں اور فوجی تیاریوں سے خطہ بے چین

مرحوم خامنہ ای نے جنوری ۲۰۲۶ء کے اوائل میں ایپسٹین فائلز کے سلسلے میں ٹرمپ پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے مغربی معاشروں پر ’اخلاقی بدعنوانی‘ کا الزام لگایا اور دلیل دی تھی کہ ظاہری صورت بدلنے کے باوجود طاقت کے نظام وہی رہتے ہیں۔ ایپسٹین کے نجی جزیرے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ ”آپ نے سنا ہوگا... انہوں نے بدعنوانی کے لئے ایک جزیرہ بنا رکھا ہے۔“

ٹرمپ کا ہیبت ناک کارٹون

مرحوم خامنہ ای سے منسوب دوسرے ایکس اکاؤنٹ سے ٹرمپ کا کارٹون شیئر کیا گیا جس میں انہیں ہیبت ناک شکل میں دکھایا گیا ہے اور وہ خون آلود اسکول بیگز کے درمیان کھڑے نوبیل امن انعام کا تمغہ تھامے ہوئے ہیں۔

یہ کارٹون جاری تنازع کے پہلے دن ۲۸ فروری کو جنوبی ایرانی شہر میناب میں ’شجرہ طیبہ گرلز ایلیمنٹری اسکول‘ پر مبینہ میزائل حملوں کے تناظر میں بنایا گیا ہے جن میں ۱۶۰ سے زائد کمسن ایرانی بچیاں شہید ہوگئی تھیں۔ اس حملے کو اس جنگ کا سب سے مہلک ترین واقعہ بتایا جارہا ہے۔ ایرانی حکام نے اس واقعے کو ایرانی فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے امریکی قیادت میں ہونے والے آپریشن سے جوڑ کر پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مشرقِ وسطیٰ سے ایک لیٹر تیل بھی گزرنے نہیں دیں گے: پاسدارانِ انقلاب

تاہم، ٹرمپ نے اس حملے کے پیچھے امریکی ہاتھ ہونے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ فلوریڈا کے شہر ڈورل میں اپنے ریزورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خود ایران یا کوئی دوسرا ملک اس حملہ کا ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ ٹوم ہاک کروز میزائل، جس سے اسکول کو نشانہ بنایا گیا تھا، کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ”ٹوم ہاک میزائل کئی ممالک استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایران یا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK