• Wed, 14 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک ناقابل تلافی نقصان

Updated: January 14, 2026, 1:56 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

دُنیا میں ہمیشہ کوئی نہیں رہتا۔ جو آیا ہے اُسے ایک نہ ایک دن رخت ِ سفر باندھنا ہی پڑتا ہے۔ کوئی بہت جیا تو سو سال یا سو سے کچھ زیادہ۔ دورِ حاضر میں اس سے زیادہ کوئی نہیں جیتا۔ اہمیت عرصہ ٔ دراز تک جینے کی نہیں ہے، اہمیت یہ ہے کہ قفس عنصری میں جب تک روح ہے تب تک انسان کتنا نافع اور کارآمد ہے۔

INN
آئی این این
دُنیا میں  ہمیشہ کوئی نہیں  رہتا۔ جو آیا ہے اُسے ایک نہ ایک دن رخت ِ سفر باندھنا ہی پڑتا ہے۔ کوئی بہت جیا تو سو سال یا سو سے کچھ زیادہ۔ دورِ حاضر میں  اس سے زیادہ کوئی نہیں  جیتا۔ اہمیت عرصہ ٔ دراز تک جینے کی نہیں  ہے، اہمیت یہ ہے کہ قفس عنصری میں  جب تک روح ہے تب تک انسان کتنا نافع اور کارآمد ہے۔ نافع اور کارآمد ہونے میں  بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے یا اپنے اہل خانہ و خاندان ہی کیلئے  نافع تھا یا انسانوں  کی بڑی جمعیت کو اُس نے فائدہ پہنچایا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ انسان کی زندگی کو آنکنے کا پیمانہ ماہ و سال نہیں ، وہ ٹھوس کام ہیں  جو اُس نے جیتے جی کئے۔
اس اعتبار سے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکیٹیو اسٹڈیز (دہلی) کے بانی ڈاکٹر منظور عالم کی شخصیت قابل ذکر اور ممتاز تھی۔ اُنہوں  نے ۸۰؍ سالہ زندگی گزار کر منگل، ۱۳؍ جنوری ۲۶ء کو داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ دل کے نہاں  خانوں  سے آواز تو یہی آتی ہے کہ وہ مزید دس بیس سال جیتے مگر چونکہ ایسی کوئی آرزو بے معنی ہے اس لئے اب یہی دیکھا جائے کہ کس طرح اُنہوں  نے گزشتہ چالیس پچاس سال میں  ہندوستانی مسلمانوں  کو ایک ویژن دینے کی کوشش کی اور یہ سمجھانا چاہا کہ ملک کے بیس بائیس کروڑ مسلمانوں  کو کیا سوچنا چاہئے، کیا کرنا چاہئے اور کیسے کرنا چاہئے۔
ڈاکٹر منظور عالم نے معاشیات میں  ڈاکٹریٹ کیا تھا مگر بحر ِمعاشیات کا غواص بن کر دیگر شعبہ جات کے دروازے اپنے لئے بند نہیں  کئے بلکہ اس بات کو شدت کےساتھ محسوس کیا کہ اگر مسلمان اپنی حالت کو سمجھنا اور اس سے نکلنا چاہتے ہیں  تو اُنہیں  اپنے بارے میں  جاننا چاہئے۔ جب تک وہ خود کو نہیں  جانیں  گے، تب تک نہ تو اپنے وسائل اور مسائل کا ادراک کر پائینگے نہ ہی حکومت ِ وقت سے اُن کی فریاد مؤثر ثابت ہوگی۔ اسی فکر کے تحت اُنہوں  نے تحقیق کو راہ دی جس کا بڑا فقدان مسلم معاشرہ میں  پایا جاتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکیٹیو اسٹڈیز محض ادارہ نہیں  تھا جو اُنہوں  نے قائم کیا۔ یہ ایک فکر اور ویژن ہونے کے ساتھ ساتھ فکر و نظر کو عملی بنیادوں  پر استوار کرنے کی مدبرانہ کوشش تھی۔ ہرچند کہ ڈاکٹر صاحب کئی دیگر اداروں  سے بھی وابستہ رہے مگر یہ ادارہ اُن کی بصیرت کا سب سے بڑا آئینہ دار تھا۔
ڈاکٹر منظور عالم کی فکر کا منبع اسلام تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ ملک کے آئین کو بھی  خاص اہمیت دیتے تھے نیز اُن طبقات کے یکساں  حقوق کی وکالت کرتے تھے جو سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر حاشئے پر تو تھے ہی، مزید کنارے کردیئے  گئے۔ ایک تقریر میں  اُنہوں  نے کہا تھا کہ ’’نیشن ہمیشہ نیریشن (بیان) سے قائم ہے۔ نیریشن ہمیشہ آواز دیتا ہے، پوچھتا ہے کہ آئین کیا کہہ رہا ہے۔ اگر نیریشن رُکا تو آواز دَب جائیگی اور آواز دب گئی تو ناممکن ہے کہ آئین جمہوریت کے ساتھ برقرار رہے۔‘‘ 
یہ جملہ اُن کی سوچ کے محور کا عکاس ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مسلمانوں ، دلتوں ، پسماندہ طبقات اور دیگر کو نیریشن کی سوغات دینے کے مقصد ہی سے یہ ادارہ قائم کیا تھا جس نے کئی عنوانات پر تحقیق کو راہ دی۔ بعض عنوانات تو ایسے ہیں  کہ ان پر شاذ ہی کوئی سوچتا ہے، مثلاً ’’عصری معاشرہ میں  نوجوانوں  کے رویہ کے نفسیاتی پہلو: جامعہ نگر کا ایک مطالعہ‘‘ یا ’’شاندار ورثہ کے ۱۴؍ سو سال: اُن ۱۴؍ سو مسلمانوں  کا سوانحی احاطہ جنہوں  نے انسانیت کو فیضیاب کیا‘‘۔  یہ کالم ہم اس دُعا پر تمام کرتے ہیں  کہ ڈاکٹر صاحب کا یہ ادارہ جاری رہے اور ترقی کرے۔ یہی اُن کیلئے بہترین خراج ہوگا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK