• Wed, 14 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹی سی ایس کے ایک ملازم کی سیلری سلپ وائرل، تنخواہ بڑھنے کی جگہ کم ہوگئی

Updated: January 14, 2026, 3:48 PM IST | Mumbai

ٹی سی ایس ایک بار پھر خبروں میں ہے، اس بار ملامتوں کی تخفیف کے لیے نہیں، بلکہ ایک ملازم کی وائرل پوسٹ کے لیے۔ ایک آئی ٹی پروفیشنل جو ریڈاِٹ پرجو اپنی شناخت ایک جاوا ڈیولپر کے طور پر کرتا ہے نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹی سی ایس میں ۵ء۵؍ سال کام کرنے کے باوجود اس کی تنخواہ بڑھنے کے بجائے کم ہوئی۔

TCS.Photo:INN
ٹی سی ایس۔ تصویر:آئی این این

ملک بھر میں بہت سی آئی ٹی کمپنیاں ہیں  اور جب ٹاٹا گروپ کی بڑی کمپنیوں کی بات آتی ہے، تو ٹاٹا کنسلٹنسی سروسیز(ٹی سی ایس) اکثر ذہن میں سب سے پہلا نام آتا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں میں، ٹی سی ایس  ملازمتوں  میں کٹوتی   کے لئے خبروں میں ہے۔ اب اس کمپنی کا نام ایک بار پھر وائرل ہو گیا ہے۔ اس بار، وجہ اس کے ایک  ملازم کی پوسٹ ہے۔ ایک آئی ٹی پروفیشنل نے  ریڈ اِٹ  پر اپنی انوکھی اور پریشان کن کہانی شیئر کی، جو کہ بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کر رہی ہے۔خود کو جاوا ڈیولپر کے طور پر شناخت کرنے والے اس صارف کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان کی ٹاپ آئی ٹی کمپنیوں میں سے ایک ٹی سی ایس میں ۵؍سال سے زیادہ کام کرنے کے باوجود اس کی تنخواہ بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رتیک روشن نے کی ’’قابل ۲‘‘کی تصدیق، ہدایت کار سنجے گپتا نے بڑی خوشخبری دی

ریڈ اِٹ  فورم پر ایک پوسٹ میں، یہ ملازم اپنے پورے سفر کو بیان کرتا ہے۔ ان کے مطابق، جب انہوں نے ۲۰۲۰ء میں ٹی سی ایس میں شمولیت اختیار کی تو ان کی ماہانہ تنخواہ ۲۵؍ہزارروپے تھی  لیکن ۲۰۲۶ء میں، ساڑھے ۵؍ سال بعد، ان کی گھر لے جانے والی تنخواہ کم ہو کر صرف ۲۲۸۰۰؍روپے رہ گئی ہے۔ اس پوسٹ میں، ملازم ایمانداری سے اپنے کریئر کی کچھ اہم غلطیوں اور فیصلوں کو بھی بیان کرتا ہے۔
کمپنی نے ملازم کو  پی آئی پی  پر رکھا۔وہ ایک ٹائر۳؍کالج سے گریجویٹ تھا، اور ٹی سی ایس میں شمولیت کے بعد، اس نے اپنی آئی ٹی کی مہارتوں کو بڑھانے کے بجائے سرکاری ملازمت کی تیاری پر زیادہ توجہ دی۔ اس کا براہ راست اثر اس کی کارکردگی پر پڑا۔ اس نے کمپنی میں مسلسل کم کارکردگی والے بینڈ حاصل کیے، جن میں  سی  سے ڈی  تک شامل ہیں۔ جولائی ۲۰۲۵ء میں، انہیں پرفارمنس امپروومنٹ پلان(پی آئی پی)  پر رکھا گیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:نئی نسل بمقابلہ جوکووچ: کیا جوکووچ اپنا ریکارڈ ساز ۲۵؍واں گرینڈ سلیم جیت پائیں گے؟

اس عرصے کے دوران، اس نے زیادہ محنت کی، اور خاص طور پرپی آئی پی  کے دوران، اس نے اپنے منیجر کو بتائے بغیر خود کو ایک اور پروجیکٹ کے لیے سونپ دیا۔نتیجے کے طور پر، پی آئی پی کی میعاد ختم ہوگئی اور اس نے اپنی ملازمت برقرار رکھی، لیکن اس کی سالانہ تشخیص روک دی گئی، جس سے اس کی تنخواہ متاثر ہوئی۔ جنوری ۲۰۲۶ءمیں، اس ملازم نے بالآخر جاوا بیک اینڈ ڈیولپر کے طور پر اپنی صلاحیتوں میں سنجیدگی سے اضافہ کیا  لیکن یہاں بھی اسے ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اس نے باہر کی کمپنیوں میں انٹرویو کیا تو اس نے انٹرویو کو کلیئر کر دیا، لیکن ایچ آر  کو اپنی موجودہ تنخواہ کی سلپ  دیکھ کر شک ہو گیا اور اس نے مزید پیشکش کی بات چیت بند کر دی۔ آخر میں انہوں نے لکھا کہ آئی ٹی کے شعبے میں زندہ رہنے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے؟ اس نے مایوس کن سوال کے ساتھ اپنی پوسٹ کا اختتام کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK