Updated: January 14, 2026, 4:56 PM IST
| Sambhal
اتر پردیش کے سنبھل ضلع کی ایک عدالت نے ۲۴؍ نومبر ۲۰۲۴ء کو شاہی جامع مسجد کے قریب ہوئے تشدد کے دوران پولیس کی فائرنگ سے متعلق ایک مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے سابق سرکل آفیسر انوج چودھری، سابق کوتوالی انچارج انوج تومر اور دیگر نامعلوم پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم ۱۲؍ پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
اتر پردیش کے سنبھل ضلع میں ایک مقامی عدالت نے پولیس کے مبینہ کردار کا نوٹس لیتے ہوئے ۲۴؍ نومبر ۲۰۲۴ء کو شاہی جامع مسجد کے قریب ہوئے تشدد اور فائرنگ کے معاملے میں ۱۲؍ پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وِبھنشو سدھیر نے یہ حکم ۹؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو یامین نامی درخواست گزار کی شکایت پر جاری کیا۔ یامین نے عدالت میں کہا کہ ان کے بیٹے عالم کو اسی دن مسجد کے قریب تشدد کے دوران پولیس کی فائرنگ سے اس وقت گولی لگی تھی جب وہ بسکٹ بیچنے نکلا تھا۔ عدالت نے متعدد نامعلوم پولیس اہلکاروں سمیت سابق سنبھل سرکل آفیسر انوج چودھری اور تب کے سنبھل کوتوالی انچارج انوج تومر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھئے: پٹنہ ہائی کورٹ نے نابالغ کو غیرقانونی طور پر گرفتار کرنے پر ۵؍ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا
درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ عالم کسی بھی احتجاج یا تشدد میں شامل نہ تھا، لیکن پولیس کی گولیاں چلنے سے وہ زخمی ہوا۔ متاثرہ فیملی نے خوف کے باعث اسے پوشیدہ طور پر علاج کروایا، جس کے بعد عدالت سے انصاف کی درخواست کی گئی۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ شاہی جامع مسجد کے سروے سے شروع ہوا تھا، جسے ایک درخواست پر عدالت نے حکم دیا تھا کہ اس تاریخی مسجد میں بہتر تحقیق کی جائے کہ آیا یہ کسی مندر کی جگہ بنائی گئی تھی۔ اس سروے کے دوران ہجوم اکٹھا ہوا، مظاہرے اور پتھراؤ ہوا، اور پولیس نے اسے منتشر کرنے کیلئے کارروائی کی۔ اس دوران تشدد اور فائرنگ کے واقعات ہوئے، جن میں کم از کم چار سے پانچ افراد کی جانیں گئی تھیں اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ عدالت کے موجودہ حکم کے باوجود سنبھل پولیس نے اسے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا اشارہ دیا ہے۔