علامہ اقبال نے کہا تھا ’’برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر‘‘۔ ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں پر برق گرنی بند ہوگئی ہے مگر آج کل سرکاری برق کہیں اور بھی گر رہی ہے۔ وہ ہیں اساتذہ۔ اُن کے حق میں یہ برق ایسی ہے کہ گرتے گرتے آپ خود بیزار ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔
علامہ اقبال نے کہا تھا ’’برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر‘‘۔ ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں پر برق گرنی بند ہوگئی ہے مگر آج کل سرکاری برق کہیں اور بھی گر رہی ہے۔ وہ ہیں اساتذہ۔ اُن کے حق میں یہ برق ایسی ہے کہ گرتے گرتے آپ خود بیزار ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ اس کالم میں جس خبر سے بحث کی جانی ہے وہ اگر آپ کی نظر سے گزر چکی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس لطیفہ نما المیہ یا المیہ نما لطیفے پر پہلے ہی سر پیٹ چکے ہیں یا اس سے محظوظ ہوچکے ہیں ۔ خبر یہ ہے کہ نواب گنج، بریلی (یوپی) کے بلاک ایجوکیشن آفیسر نے تمام سرکاری اسکولوں کے صدر مدرسین اور اساتذہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ آوارہ مویشیوں کیلئے چارا اور بھوسا اکٹھا کریں ۔ اس ہدایت پر مشتمل خط یا سرکیولر ۲۲؍ مئی کو جاری کیا گیا تھا جس میں ہر اسکول کو ۴۶؍ کلو چارا اور بھوسا جمع کرنے کی ہدایت دی گئی نیز کہا گیا کہ یہ لازمی ہے، اگر اس پر عمل نہیں کیا گیا تو محکمہ جاتی کارروائی کی جائیگی۔ ہم مدرس نہیں ہیں مگر سچ پوچھئے یہ خبر پڑھ کر ہمیں بھی بے حد رنج ہوا۔ کیا ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں طلبہ کا مستقبل بنانے والے معماروں کو مزدور سمجھ لیا جائیگا؟ اگر ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہندوستان دورِ قدیم سے ’’وِدیا‘‘ اور ’’گرو‘‘ کی قدر کرتا آیا ہے اور اس ملک میں ’’گرو شیشیا‘‘ کی ’’پرمپرا‘‘ کو تقدس حاصل ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ تمام روایتوں اور پرمپراؤں کو بالائے طاق رکھ کر اساتذہ سے سارے کام لئے جارہے ہیں یا لئے جانے کی آرزو ہے سوائے عمل ِ تدریس کے؟ مردم شماری کا کام اساتذہ کے ذمے، انتخابی فہرستوں کی تصحیح اساتذہ کے حوالے، الیکشن ڈیوٹی کیلئے اساتذہ کی تعیناتی، ویکسین کیلئے اساتذہ مامور، یہ سلسلہ چلتا ہی جارہا ہے، کہیں تھمتا نظر نہیں آتا۔ کیا یہ ایک طرح کا غیر تحریری قانون بنایا جارہا ہے کہ تدریسی سے زیادہ غیر تدریسی کاموں کیلئے سرکاری نظر انتخاب (یعنی نظر ِ عتاب) اساتذہ ہی پر پڑے گی؟ بریلی کے اساتذہ نے یہ اندیشہ ٹھیک ہی ظاہر کیا ہے کہ کل ہم سے گوبر بھی اُٹھوایا جائیگا۔
اگر کوئی سرکاری عہدیدار یہ لکھ کر بھیجتا ہے کہ ہر اسکول ۴۶؍ کلو چارا یا بھوسا جمع کرے تو کیا وہ یہ بھی لکھ کر دے گا کہ آپ نے طلبہ کو نہیں پڑھایا تو آپ سے جواب طلب نہیں کیا جائیگا؟ کسی بھی پیشے میں مخصوص کام کیلئے مامور کئے گئے مخصوص عملے کو کسی اور کام پر نہیں لگایا جاتا۔ کیا بجلی محکمہ کے کارکنان سے کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن ڈیوٹی کریں یا سڑک پر ٹریفک کا نظم سنبھالیں ؟ اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو جب دیکھئے تب اساتذہ ہی سے دشمنی کیوں نکالی جاتی ہے؟ کیا سرکار کے نزدیک پڑھانا کوئی کام نہیں ؟ ذہنوں کو سنوارنا کوئی ذمہ داری نہیں ؟ سرکاری محکموں کی زمام کار سنبھالنے والے افسران سے پوچھنا چاہئے کہ جب آپ اسکول جاتے تھے تب اساتذہ الیکشن ڈیوٹی پر ہوتے تھے یا کلاس روم میں پڑھا رہے ہوتے تھے؟ امتحانی پرچہ بنانے اور پرچے جانچنے کی ذمہ داری سمجھ میں آتی ہے حالانکہ اس کا بھی قابل قدر معاوضہ نہیں دیا جاتا مگر چارا اور بھوسا جمع کرنے کی ہدایت تو حد ہے۔ کیا بریلی پائلٹ پروجیکٹ تھا، اسے پورے یوپی میں اور اس کے بعد پورے ملک میں نافذ کیا جائیگا کیونکہ حکومت کے پاس آوارہ مویشیوں کے تعلق سے دعوے کم نہیں ، کم ہیں تو وہ دعوے جو زمین پر اُتریں ۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت کسی ایسے نظام ِ تعلیم پر غور کررہی ہے جس میں اساتذہ کے بغیر پڑھائی ہو تاکہ ملک بھر کے اساتذہ کو ’’زیادہ ضروری اور اہم خدمات‘‘ کیلئے فارغ کرلیا جائے؟ ہم نہیں جانتے مگر حالات اس شبہ کی گنجائش پیدا کررہے ہیں ۔