Inquilab Logo Happiest Places to Work

افسر شاہی اور تکا رام منڈے

Updated: August 03, 2026, 1:41 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

آئی اے ایس افسر تکا رام منڈے ایسے افسر ہیں جن کا ۲۱؍ سال کی ملازمت میں ۲۵؍ مرتبہ تبادلہ کیا گیا۔ سال میں کم از کم ایک مرتبہ تبادلے کی حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انتظامیہ یا تو اُن کی قدر نہیں کرتا یا اُن کی کارروائیوں سے عاجز لوگوں کے دباؤ میں آجاتا ہے۔

Tukaram Munde.Photo:INN
تکارام منڈے۔ تصویر:آئی این این

آئی اے ایس افسر تکا رام منڈے ایسے افسر ہیں جن کا ۲۱؍ سال کی ملازمت میں ۲۵؍ مرتبہ تبادلہ کیا گیا۔ سال میں کم از کم ایک مرتبہ تبادلے کی حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انتظامیہ یا تو اُن کی قدر نہیں کرتا یا اُن کی کارروائیوں سے عاجز لوگوں کے دباؤ میں آجاتا ہے۔ کوئی تیسری وجہ تو ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر ہے تو اس کے علاوہ نہیں ہوسکتی کہ اُن جیسے افسر کی اتنی مانگ ہے کہ الگ الگ محکموں کیلئے فرض شناس افسر کی تلاش میں انتظامیہ اُنہی تک پہنچتا ہے۔ مگر ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ مہاراشٹر میں فرض شناس افسر نہ ہوں۔ جو بھی ہو، تکا رام منڈے کے تعلق سے مشہور ہے کہ جہاں جاتے ہیں، قانون اور ضابطہ شکنی کرنے والوں کی روح فنا ہونے لگتی ہے۔ مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے کمشنر کی حیثیت سے اُن کی تقرری ۲۵؍ مئی کو ہوئی۔ تب سے اب تک کے صرف ۷۰؍ دنوں میں عالم یہ ہے کہ ہر طرف اُن کی دھاک کا احساس ہوتا ہے۔ ریستوراں، ہوٹل، ڈیریاں، بیکریاں، آئس کریم کے آؤٹ لیٹ، دودھ کی سپلائی چین، مشہور کلب، جمخانے اور قانون ساز اسمبلی نیز کونسل کی کینٹین، کہیں بھی جائیے اِن دنوں تکا رام منڈے کے نام کی گونج سنائی دے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے: ایک ماہ کے عرصہ میں دودھ کے مراکز پر ۳۶۰؍ چھاپے، ۲۳۵؍ ایف آئی آر، ۳۵۰؍ گرفتاریاں اور ۲۷۴؍ اکائیوں کا سیل کردیا جانا۔ کسی افسر کی فعالیت کی ایسی مثال مشکل سے ملے گی البتہ اُن افسران کی مثال آسانی سے مل سکتی ہے جو کسی نئی تقرری کے بعد چند ماہ تو بہت سختی دکھاتے ہیں مگر جن کے ساتھ سختی دکھائی جاتی ہے وہ اس کے مفہوم سے خوب واقف ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد ’’سب ٹھیک‘‘ ہوجاتا ہے۔ ہمارا یہ کہنا ہے کہ اگر اعلیٰ افسران فرض شناسی کے جذبے سے اپنی خدمات انجام دیں تو سرکاری محکموں کی کایا پلٹ ہوجائے، بدعنوانی نام کو نہ ہو اور عوامی خدمات کا معیار بلند ہوجائے۔ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا اس لئے سرکاری محکموں کی شبیہ داغدار ہی رہتی ہے اور اس نظام میں اُن افسروں اور اہلکاروں کیلئے مشکلات کھڑی ہوجاتی ہیں جو ایمانداری اور فرض شناسی پر کاربند رہنا چاہتے ہیں۔ کبھی تو وہ استعفےٰ دے کر کوئی دوسرا روزگار تلاش کرلیتے ہیں اور کبھی سمجھوتہ کرکے خاموش ہوجاتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ فرض شناسی کے ساتھ جرأت بھی ضروری ہے۔ تکا رام منڈے ان دونوں خصوصیات کے حامل ہیں۔ وہ نہ تو مخالفین سے ڈرتے ہیں نہ ہی بڑے کاروباری اداروں سے۔ یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ ایسے افسروں کے خلاف سسٹم میں بھی بہت سے مخالفین موجود ہوتے ہیں جو نہیں چاہتے کہ وہ اُس روِش پر گامزن رہیں جس پر گامزن ہیں۔ ان سب سے لوہا لینا آسان نہیں ہوتا۔ یہی بار بار کے تبادلوں کی اصل وجہ ہے۔ تبادلوں کے سلسلے میں قارئین کو ابھی کچھ عرصہ قبل ملازمت سے سبکدوش ہوئے افسر اشوک کھیمکا یاد ہونگے جن کا ۳۴؍ سالہ ملازمت میں ۵۷؍ مرتبہ ٹرانسفر کیا گیا۔ عموماً  ایسے افسران نہ تو سیاستدانوں کو گوارا ہوتے ہیں نہ ہی ساتھی افسروں کو اس لئے ان کی فرض شناسی کو عوام کی اور سماجی تنظیموں کی زیادہ سے زیادہ حمایت ملنی چاہئے تاکہ انہیں حوصلہ ملے اور ان میں یہ احساس پیدا ہو کہ کوئی تو ہے جو ان کی قدر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK