• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تعلیمی ضرورتیں اور بجٹ تجاویز

Updated: February 01, 2026, 2:39 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

آج بجٹ پیش کیا جائے گا۔ بجٹ کو تعلیم کی کتنی ضرورت ہے یہ ہم نہیں جانتے مگر یہ جانتے ہیں کہ تعلیم کو بجٹ کی ضرورت ہے اور ازحد ہے۔ یونیورسٹیوں ، کالجوں ، ہائی اسکولوں اور پرائمری اسکولوں کو جس طرح ہونا چاہئے اگر وہ اُس طرح نہیں ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان اداروں کو حکومت کی ادھوری سرپرستی حاصل ہے۔

INN
آئی این این
  آج بجٹ پیش کیا جائے گا۔ بجٹ کو تعلیم کی کتنی ضرورت ہے یہ ہم نہیں  جانتے مگر یہ جانتے ہیں  کہ تعلیم کو بجٹ کی ضرورت ہے اور ازحد ہے۔ یونیورسٹیوں ، کالجوں ، ہائی اسکولوں  اور پرائمری اسکولوں  کو جس طرح ہونا چاہئے اگر وہ اُس طرح نہیں  ہیں  تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان اداروں  کو حکومت کی ادھوری سرپرستی حاصل ہے۔ پوری سرپرستی تبھی ممکن ہوگی جب ان پر خرچ کرنے جیسا خرچ کیا جائیگا۔ گزشتہ دنوں  پیش کئے گئے اکنامک سروے سے واضح تو یہی ہورہا ہے کہ حکومت نظام ِ تعلیم کی دراڑوں  کو بھرنا اور اس کی دیواروں  پر مضبوط پلاسٹر چڑھانا چاہتی ہے مگر چاہنے اور کرنے میں  جو فرق ہے ہر وقت وہی آڑے آتا ہے اور اسی کے سبب تعلیم کا بجٹ اول تو محدود رہتا ہے اور دوئم یہ کہ جب درکار رقم جاری نہیں  کی جاتی تو اس کا دائرہ مزید سکڑ جاتا ہے۔ آج ملک کی اکثر یونیورسٹیاں  سرمائے کی کمی کا شکار بتائی جاتی ہیں ۔ یونیورسٹیاں  دو طرح کی ہیں ۔ ایک وہ جو سینٹرل کہلاتی ہیں  اور دوسری وہ جو اسٹیٹ یونیورسٹی کی فہرست میں  شامل ہیں ۔ دستیاب معلومات کے مطابق یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا ۶۵؍ فیصد بجٹ سینٹرل یونیورسٹیز پر صرف ہوجاتا ہے اور اسٹیٹ یونیورسٹیز کو باقیماندہ رقم میسر آتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم سے وابستہ یہ عظیم درس گاہیں  جہاں  مستقبل کا معمار کہلانے والے طلبہ کی ذہنی نشوونما ہوتی ہے، انفراسٹرکچر کے مسائل، ریسرچ کی دشواریوں  اور اساتذہ کی بھرتی میں  تاخیر یا اس نام سے موجود خلاء کے سبب بے حال ہیں ۔ 
۲۰؍ دسمبر کو چنئی سے جاری ہونے والی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین نے پارلیمنٹ میں  پیش کئے گئے وکست بھارت شکشا آدشٹھان بل پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس میں  یہ درج ہی نہیں  ہے کہ اسٹیٹ یونیورسٹیوں  کی مالی سرپرستی کس انداز میں  کی جائیگی یعنی فنڈنگ ماڈل کیا ہوگا۔ اس تشویش سے بھی ظاہر ہے کہ نیو ایجوکیشن پالیسی کو جس طرح نافذ کیا جانا چاہئے، نہیں  کیا جارہا ہے۔
پرائمری اور ہائی اسکولوں  کی سطح پر بھی بہت کام ہے جوسرمائے کا تقاضا کرتا ہے اور سرمایہ مہیا نہیں  ہوپاتا۔ہونا تو یہ چاہئے کہ اسکولیں  سرکاری ہوں  یا غیر سرکاری، سب کو حکومت کی فعال مالی سرپرستی حاصل رہے کیونکہ ابتدائی اور ثانوی تعلیم ہی اعلیٰ اور پیشہ جاتی تعلیم کے اداروں  کو اچھے طلبہ فراہم کرسکتی ہے۔ ان اداروں  میں  محنتی اور غیر محنتی اساتذہ میں  فرق کرنے کا کوئی میکانزم نہیں  ہے۔ کارکردگی جانچنے کا کوئی پیمانہ نہیں  ہے۔ اس کیلئے رزلٹ پر انحصار کرنا دانشمندی نہیں ، طلبہ کی اہلیت کو معیار بنانا چاہئے مگر یہ نہیں  ہوتا۔ محنتی ٹیچر بھی اُتنی ہی تنخواہ اُٹھاتا ہے جتنا تدریسی عمل کو بے دلی کے ساتھ انجام دینے والا حاصل کرتا ہے۔ یہ دیکھنے والا بھی کوئی نہیں  ہے کہ اسکولوں  میں  سائنسی تجربہ گاہ کس معیار کی ہے، کھیل کا میدان ہے یا نہیں  اور اسکول جدید ٹیکنالوجی سے کتنا لیس ہے۔ 
بھارت کو وکست بنانا ہے تو اس کے تعلیمی اداروں  کو وکست کیا جانا چاہئے اور تعلیمی ادارے تبھی وکست ہوں  گے جب اُنہیں  خاطر خواہ سرمایہ فراہم کیا جائیگا، اساتذہ کی خالی اسامیوں  کو پُر کیا جائیگا ، اُن کی ٹریننگ کا مکمل انتظام کیا جائیگا اور اُنہیں  غیر تدریسی کاموں  میں  اُلجھانے سے گریز کیا جائیگا۔ یہ آخری بات تو سب سے پہلے یقینی بنانی چاہئے۔ اساتذہ طلبہ کیلئے ہیں  یا سرکاری کاموں  کیلئے؟ 
education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK