عنقریب بورڈ امتحان شروع ہوگا، اب وقت ہے اعادہ کا، ایسے میں مشکل اور آسان مضامین کیلئے اعادہ کی مختلف تکنیک آزمائی جاسکتی ہیں، اس سے کم وقت میں مکمل طور پر نصاب دُہرانا آسان ہوجائے گا۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 5:43 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai
عنقریب بورڈ امتحان شروع ہوگا، اب وقت ہے اعادہ کا، ایسے میں مشکل اور آسان مضامین کیلئے اعادہ کی مختلف تکنیک آزمائی جاسکتی ہیں، اس سے کم وقت میں مکمل طور پر نصاب دُہرانا آسان ہوجائے گا۔
ایس ایس سی
مشکل مضامین Hard Subjects
ریاضی (الجبرا، جیومیٹری، ریاضی اول، ریاضی دوم)، سائنس (اول، دوم)، انگریزی مراٹھی
آسان مضامین Easy Subjects
جغرافیہ،تاریخ، شہریت، معاشیات، ہندی، اردو، عربی
ایچ ایس سی
مشکل مضامین Hard Subjects
مراٹھی (سائنس، کامرس، آرٹس)
سائنس (Science)
فزکس، ریاضی، کیمسٹری
کامرس(Commerce)
اکاؤنٹنسی، ریاضی، اکنامکس
آرٹس(Arts)
تاریخ، جغرافیہ، سوشیولوجی، پولیٹکل سائنس
آسان مضامین Easy Subjects
بایولوجی (سائنس)
بزنس اسٹڈیز (کامرس)
سائیکولوجی (آرٹس)
زباندانی (انگریزی، اردو، ہندی، عربی، فارسی وغیرہ)
یہ بھی پڑھئے: اب امتحان سر پر ہے، الرٹ ہوجایئے، اِن باتوں سے گریز ضروری
اب بورڈ امتحانات کے آغاز میں بہت کم دن رہ گئے ہیں۔ ماہرین تعلیم کے مطابق یہ وقت کچھ نیا پڑھنے کا نہیں بلکہ جتنا پڑھا ہے اس کے اعادہ کا ہوتا ہے کیونکہ اس سے سبق اچھی طرح ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔ اعادہ کرنے سے طالب علم کا اعتماد بڑھتا ہے اور امتحان کا خوف(Exam fear) کم ہو جاتا ہے۔ جو طالب علم امتحان کے دنوں میں اچھی طرح اعادہ کرتا ہے وہ امتحان میں بہتر کامیابی حاصل کرتا ہے۔
اعادہ ( Revision)کیا ہے؟
امتحان سے قبل، امتحان کی تیاری سب سے اہم ہے لیکن تیاریوں کے دوران اعادہ نہ ہو تو اچھے نمبروں سے کامیابی ملنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ ماہرین نفسیات اور ماہرین تعلیم امتحانات کی تیاریوں میں ’’اعادہ‘‘ کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے جو یاد کیا، اسے پکا کرلینے کی غرض سے سوال و جواب پر نظرثانی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سالانہ امتحانات سے کم از کم ۲؍ ہفتے پہلے (زیادہ سے زیادہ ۳؍ ہفتے) اعادہ کا عمل شروع ہوجانا چاہئے۔
اعادہ کیوں ضروری ہے؟
طلبہ کیلئے اعادہ اس لئے ضروری ہے کہ اس سے پڑھی ہوئی معلومات دوبارہ ذہن میں تازہ ہو جاتی ہیں اور سبق مضبوط ہو جاتا ہے۔ اعادہ کے دوران طالب علم مشکل نکات کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لیتا ہے۔ یہ عمل یادداشت کو تیز کرتا ہے اور بھولنے کی کمزوری کو دور کرتا ہے۔ اعادہ سے طالب علم کو اپنی تیاری کا صحیح اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ کن محاذوں پر مضبوط ہے، کون سے محاذوں پر اسے مزید کام کرنا ہوگا اور کون سے محاذوں پر وہ کمزور ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیا سال، نئی سوچ؛ منفرد عزائم ہی بنا ئینگےآپ کو منفرد!
10 Techniques for HARD Subjects
(1) Concept-Formula-Application Loop
مشکل مضامین میں صرف فارمولا یاد کرنا کافی نہیں ہوتا۔ پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ تصور (Concept) ہے کیا، پھر اس سے متعلق فارمولا یاد کریں، اور آخر میں اسے سوال میں استعمال کریں۔ اس چکر کو بار بار دہرانے سے فارمولا رٹا نہیں رہتا بلکہ سمجھ کے ساتھ یاد ہوتا ہے جو مشکل سوالات حل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
(2) Error-Book Method
اس تکنیک میں آپ ایک علاحدہ کاپی رکھتے ہیں جس میں صرف اپنی غلطیاں لکھتے ہیں۔ یہ غلطیاں فارمولے کی، تصور کی یا طریقہ حل کی ہو سکتی ہیں۔ بار بار اپنی غلطیاں دیکھنے سے وہ دوبارہ نہیں ہوتیں۔ مشکل مضامین میں ترقی کی اصل کنجی یہی ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کو پہچانیں۔
(3) 3-Level Question Practice
اس طریقے میں سوالات کو تین سطحوں میں بانٹا جاتا ہے:
آسان (ایزی) -اوسط (ایوریج)-مشکل (ڈیفی کلٹ)
پہلے آسان سوالات سے اعتماد بنتا ہے، پھر درمیانے سوالات سے سمجھ گہری ہوتی ہے اور آخر میں مشکل سوالات دماغ کو اصل امتحان کیلئے تیار کرتے ہیں۔ اس ترتیب سے پریکٹس کرناخوف کم کرتاہے۔
(4) Formula Sheet + Daily Recall
تمام فارمولوں کو ایک یا دو صفحات پر لکھ لیں۔ روزانہ بغیر دیکھے انہیں یاد کرنے کی کوشش کریں۔ پھر شیٹ سے چیک کریں۔ یہ عادت مشکل مضامین میں فارمولوں کو لانگ ٹرم میموری میں محفوظ کر دیتی ہے۔
(5) Step-Wise Answer Writing
مشکل مضامین میں نمبر صرف صحیح جواب پر نہیں بلکہ صحیح طریقے (Steps) پر بھی ملتے ہیں۔ اس لئے سوال حل کرتے وقت ہر قدم واضح اور ترتیب وار لکھنے کی مشق کریں۔ اس سے اگر آخری جواب غلط بھی ہو جائے تو بھی جزوی نمبر مل سکتے ہیں۔
(6) Timed Practice (Exam Simulation)
اس تکنیک میں آپ بالکل امتحان جیسا ماحول بنا کر پریکٹس کرتے ہیں۔ گھڑی لگا کر، بغیر وقفے کے سوال حل کریں۔ اس سے وقت کا درست استعمال، دباؤ میں کام کرنے کی عادت اور رفتار میں بہتری آتی ہے جو مشکل مضامین کیلئے نہایت ضروری ہے۔
(7) Weak-Chapter First Rule
اکثر طلبہ آسان یا پسندیدہ چیپٹر پہلے پڑھتے ہیں لیکن مشکل مضامین میں یہ غلطی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس اصول کے تحت سب سے کمزور چیپٹر پہلے پڑھا جاتا ہے، تاکہ زیادہ وقت اور توجہ دی جا سکے اور آخری وقت کا دباؤ کم ہو۔
(8) Mixed Practice (Anti-Overconfidence)
ایک ہی قسم کے سوالات بار بار حل کرنے سے جھوٹی خود اعتمادی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس تکنیک میں مختلف چیپٹرز اور مختلف قسم کے سوالات کو ملا کر حل کیا جاتا ہے۔ اس سے دماغ ہر نئے سوال کیلئے تیار رہتا ہے، جو اصل امتحان کی حقیقی تصویر ہے۔
(9) Solve Without Seeing Solutions
اکثر طلبہ فوراً حل دیکھ لیتے ہیں جس سے سیکھنے کا عمل کمزور ہو جاتا ہے۔ اس تکنیک میں پہلے مکمل کوشش کریں، چاہے وقت زیادہ لگے۔ دماغ کی یہی جدوجہد اصل سمجھ پیدا کرتی ہے۔
(10) Last Week Strategy
امتحان سے ایک ہفتہ پہلے نیا مواد پڑھنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس وقت صرف پہلے پڑھے ہوئے چیپٹرز، فارمولے، غلطیوں کی ڈائری اور پرانے پرچوںہی کا اعادہ کریں۔
یہ بھی پڑھئے: موسم سرما کے مسائل +اگزام کی تیاری= ایکٹیو اَور فِٹ رہنا ہے آپ کو
10 Techniques for EASY Subjects
One-Page Chapter Notes (1)
ایک صفحے کے مختصر نوٹس میں آپ پورے چیپٹر کو صرف ایک صفحے میں سمیٹ لیتے ہیں۔ اس صفحے میں تعریفیں، فارمولے، اہم نکات اور سرخیاں شامل ہوتی ہیں۔ اس سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ امتحان سے پہلے پورا چیپٹر ایک نظر میں ری وائز ہو جاتا ہے۔ آسان مضامین میں لمبی تفصیل یاد کرنے کے بجائے خلاصہ یاد رکھنا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
(2) Active Recall
ایکٹیو ر ی کال تکنیک میں آپ کتاب بند کر کے خود سے سوال پوچھتے ہیں کہ مجھے کیا یاد ہے۔مثلاً چیپٹر پڑھنے کے بعد کاپی پر بغیر دیکھے لکھیں کہ اہم نکات کیا تھے۔ پھر کتاب کھول کر اپنی غلطیوں کو چیک کریں۔ یہ طریقہ دماغ کو سوچنے اور یاد کرنے پر مجبور کرتا ہےجس سے یادداشت مضبوط ہوتی ہے، خاص طور پر آسان مضامین میں۔
(3) Question–Answer Mapping
اس میں ہر اہم سوال کے ساتھ اس کے جواب کے کلیدی نکات لکھے جاتے ہیں۔ یعنی ایک سوال → اس کے جواب کے پوائنٹس۔ اس سے امتحان میں سوال دیکھتے ہی دماغ میں جواب کا ڈھانچہ آ جاتا ہے۔ یہ طریقہ تھیوری اور جنرل نالج والے مضامین میں بہت مددگار ہے۔
(4) 15-Minute Speed Revision
اس تکنیک میں آپ صرف ۱۵؍منٹ میں پورے چیپٹر کو تیزی سے دہراتے ہیں۔ اس میں صرف ہیڈنگز، فارمولے، ڈیفینیشنز اور ہائی لائٹ شدہ الفاظ دیکھے جاتے ہیں۔امتحان سے قبل یہ طریقہ مفید ہے۔
(5) Keyword Highlighting
اس میں آپ کتاب یا نوٹس میں صرف اہم کی ورڈز کو ہائی لائٹ کرتے ہیں، نہ کہ پوری لائن۔ یہ الفاظ جواب لکھتے وقت بہت ضروری ہوتے ہیں۔ امتحان میں اکثر نمبر انہی الفاظ پر ملتے ہیں۔اس لئے یہ تکنیک اسکور بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔
(6) Teach Someone, Feynman Technique
اگر آپ کوئی موضوع کسی اور کو سمجھا سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ خود اسے اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ اس تکنیک میں آپ فرض کریں کہ سامنے والا بالکل نیا طالب علم ہے اور اسے سادہ مثالوں سے پڑھائیں۔ جہاں آپ اٹک جائیں، وہی آپ کی کمزوری ہوتی ہے۔
(7) Diagram / Flowchart Practice
آسان مضامین میں بہت سی چیزیں ڈایاگرام یا فلوچارٹ سے جلدی یاد ہو جاتی ہیں۔ اس طریقے میں آپ تحریر کے بجائے تصویری شکل میں معلومات کو یاد کرتے ہیں۔
(8) Answer Writing Templates
اس تکنیک میں آپ ہر قسم کے سوال کیلئے ایک فارمیٹ بنا لیتے ہیں، جیسے:تعریف-وضاحت -مثال -نتیجہ۔
اس سے امتحان میں وقت ضائع نہیں ہوتا اور جواب منظم نظر آتا ہے۔ اساتذہ بھی صاف اور ترتیب وار جواب کو زیادہ نمبر دیتے ہیں۔
(9) Past Paper Keyword Practice
پرانے امتحانی پرچوں سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون سے الفاظ بار بار آ رہے ہیں۔ پھر انہی الفاظ کے مطابق جواب تیار کئے جاتے ہیں۔ اس سے آپ امتحان کے پیٹرن کو سمجھ جاتے ہیںاور غیر ضروری چیزیں یاد کرنے سے بچ جاتے ہیں۔
(10) Night Revision + Morning Recall
سونے سے پہلے ہلکی ریویژن اور صبح اٹھ کر بغیر دیکھے یاد کرنے کی کوشش بہت مؤثر ہوتی ہے۔ نیند کے دوران دماغ معلومات کو محفوظ کرتا ہے اور صبح کی یاد دہانی سے وہ معلومات مضبوط ہو جاتی ہیں۔