• Sat, 31 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھی زبان میں ٹیسٹ لینے کے حکم سے اُردو طلبہ میں بےچینی

Updated: January 31, 2026, 10:54 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

محکمہ تعلیم نے ’نپون مہاراشٹر ابھیان‘ کے تحت امتحان لینے کی ہدایت جاری کی ہے۔ تعلیمی تنظیموں نےاعلیٰ سطح کی مراٹھی زبان میں امتحان لینے کے فیصلے کو نامناسب اور غیر منصفانہ قرار دیا۔

Urdu medium students may find it difficult to answer questions in higher level Marathi language. Picture: INN
اردو میڈیم کے طلبہ کواعلیٰ سطح کی مراٹھی زبان کےسو الات کے جواب دینےمیں دشواری ہوسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این
مرکزی حکومت کے ’نپون بھارت ابھیان ‘ کے تحت ریاست میں ’نپون مہاراشٹر ابھیان‘ کےمطابق دوسری تا پانچویں جماعت کے طلبہ کی تعلیمی لیاقت کا ماہانہ جائزہ لینے کا آغاز کیا گیا ہے۔پہلے مرحلہ میںمراٹھی میڈیم کے طلبہ کاآن لائن ٹیسٹ مراٹھی زبان کے مواد سے لیاجارہاہے جبکہ جمعرات کو اچانک محکمہ تعلیم نے اُردو میڈیم کے طلبہ کابھی ۳۱؍جنوری تک مراٹھی زبان کے اسی مواد سے ٹیسٹ لینےکےحکم سے اُردو میڈیم کے طلبہ ، اساتذہ اور تعلیمی تنظیموں میں بے چینی پائی جارہی ہے کیونکہ اُردو میڈیم کے طلبہ کواعلیٰ سطح کی مراٹھی زبان(فرسٹ لینگویج) کےسو الات کے جواب دینےمیں دشواری ہوسکتی ہے۔ تعلیمی تنظیموں نے اسکول ایجوکیشن اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کے چیف سیکریٹری، ایجوکیشن کمشنر اور ایجوکیشن ڈائریکٹر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے جس پر  انہوںنے جلد ازجلد اس کا حل نکالنے کاوعدہ کیاہے۔
واضح رہےکہ ’نپون بھارت ابھیان‘ کے ذریعے دوسری سے پانچویں جماعت کے تمام طلبہ کو بنیادی خواندگی سے آگاہ کروانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی مناسبت سےمہاراشٹر میں بھی یہ مہم شروع کی گئی ہے جس کیلئے ۱۹؍سے ۲۴؍ جنوری ۲۰۲۶ء تک نپون مہاراشٹر ایپ پر تمام سرکاری اور نیم سرکاری  اسکولوں کے طلبہ کو رجسٹر کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔رجسٹریشن کی کارروائی کے بعد اسکولوںکو ۳۱؍جنوری تک متعلقہ ایپ پر طلبہ کا ٹیسٹ لیناہے۔
اس تعلق سے اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے اس نمائندے کو بتایاکہ ’’ پہلے مرحلہ میں مراٹھی میڈیم کے طلبہ کا ٹیسٹ لیاجارہاہے ۔ محکمہ تعلیم نےان کیلئے   مراٹھی زبان میں آن لائن مواد مہیاکیاہے ۔ طلبہ کی بنیادی تعلیمی جانچ کیلئے یہ ایک اچھی مہم ہے لیکن جمعرات ۲۹؍جنوری کومحکمہ تعلیم نے اچانک مراٹھی زبان کے دستیاب مواد سےاُردو میڈیم کے طلبہ کا بھی ۳۱؍ جنوری تک ٹیسٹ لینے کاحکم جاری کرکے طلبہ ، اساتذہ اورسرپرستوںکیلئے دشواری پیدا کردی ہے۔ اس کی ایک سب سے بڑی وجہ مراٹھی میڈیم کے طلبہ کی پہلے اور اُردو میڈیم کے طلبہ کی تیسرے درجے کی مراٹھی ہے۔ مراٹھی میڈیم کے طلبہ کیلئے متعلقہ ایپ پر جو مراٹھی زبان میں مواد موجود ہے،  وہ اعلیٰ سطح کی مراٹھی ہے جبکہ اُردو میڈیم کے طلبہ کو آسان مراٹھی پڑھائی جاتی ہے۔ ان کیلئے ہائی لیول کی مراٹھی کو سمجھنامشکل ہے۔ ایسےمیں اگر اُردو میڈیم کے طلبہ کاٹیسٹ ہائی لیول کے مراٹھی مواد سے لیاجاتاہے تو ان کانقصان ہونایقینی ہے۔ ‘‘انہوںنےیہ بھی کہاکہ ’’ نپون مہاراشٹر ایپ میں اردو میڈیم کے طلبہ کیلئے اردو زبان میں ٹیسٹ لینےکیلئے مواد دستیاب نہیں ہے۔ اُردو بولنے والے طلبہ کیلئے ان کی اپنی زبان میںمواد نہیں ہے بلکہ انہیں مراٹھی اور ریاضی کے مضامین کاٹیسٹ ہائی لیول کی مراٹھی زبان میں دیناہے۔اس طرح سے طلبہ کا جائزہ لینا تعلیمی لحاظ سے نامناسب، غیر منصفانہ اور نپون ابھیان کے مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتاہے۔ اگر اس طرح مشکل اور غیر مطابقت رکھنے والے طریقہ کار سے طلبہ کا امتحان لیاجاتا ہے تو ان کے مطالعہ کی اصل سطح کا صحیح اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے طلبہ اور اساتذہ   کے غیر ضروری تناؤ کا شکار ہونے کا قوی امکان ہے۔ چنانچہ محکمہ تعلیم سے اپیل ہے کہ جماعت دوم سے پنجم تک کے تمام اردو میڈیم کے طلبہ کیلئے اردو زبان میںنپون مہاراشٹرایپ پر مواد دستیاب کرایاجائے۔ اردو میڈیم کے طلبہ کے مطالعہ کی سطح کو اردو مضمون کے ذریعے ہی رجسٹر کرنے کا واضح سرکاری حکم جاری کیا جائے۔ جب تک نپون مہاراشٹر ایپ میں ضروری لسانی اور تکنیکی تبدیلیاں مکمل نہیں ہو جاتیں ، اردو میڈیم اسکولوں کو مراٹھی یا کسی اور مضمون کے امتحانات کے انعقاد سے متعلق کوئی تحریری ہدایات نہ دی جائیں ۔‘‘ انہوں نے ایک سوال کےجواب میں کہاکہ ’’ ایجوکیشن ڈائریکٹر راہل ریکھاوار سے ان کے وہاٹس ایپ پر اُردو میڈیم کے طلبہ کیلئے  علاحدہ ضروری انتظامات کرنےکی اپیل کی تھی جس کے جواب میں انہوںنےوہاٹس ایپ پر جواب دیا ہےکہ ’جی ، اس بارےمیں جلد ازجلد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK