• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیا ہندوستان نئی تکنالوجی کا ہَب کیسے بنے؟

Updated: January 21, 2026, 1:59 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

زوہو (Zoho) ایک ہندوستانی ملٹی نیشنل کمپنی ہے جس کا صدر دفتر چنئی میں واقع ہے۔ ۱۹۹۶ء میں قائم کی گئی اس ٹیکنالوجی کمپنی کے بانیوں کا کہنا ہے کہ کم و بیش ۸۰؍ ملکوں کی ٹیکنالوجی کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی یہ ایسی ہندوستانی کمپنی ہے جس نے اپنا سب کچھ ہندوستان میں بنایا ہے۔

INN
آئی این این
  زوہو (Zoho) ایک ہندوستانی ملٹی نیشنل کمپنی ہے جس کا صدر دفتر چنئی میں  واقع ہے۔ ۱۹۹۶ء میں  قائم کی گئی اس ٹیکنالوجی کمپنی کے بانیوں  کا کہنا ہے کہ کم و بیش ۸۰؍ ملکوں  کی ٹیکنالوجی کی ضرورتوں  کو پورا کرنے والی یہ ایسی ہندوستانی کمپنی ہے جس نے اپنا سب کچھ ہندوستان میں  بنایا ہے۔ اس اعتبار سے، اِس کمپنی پر ملک کا ایک ایک شہری فخر کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود دو میں  سے ایک بانی اور سابق سی ای او سری دھر ویمبو کے ایک انٹرویو سے اندازہ ہوتا ہے کہ صلاحیتوں  میں  آگے ہونے کے باوجود ہم عالمی سطح پر اپنا مقام بنانے میں  تو ناکام ہیں  ہی، خود پر انحصار کے معاملے میں  بھی کافی پیچھے ہیں ۔ حال ہی میں  انہوں  نے ایک ہندی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر ہم پھل درآمد نہیں  کرنا چاہتے ہیں  تو ہمیں  یہ بات ذہن میں  رکھتے ہوئے اپنی سر زمین پر پھل اگانا چاہئے کہ پھل فوراً نہیں  ملنے لگیں  گے، اس کیلئے پانچ دس سال انتظار بہرحال کرنا ہوگا۔‘‘ ان سے یہ پوچھنے پر کہ ’’حکومت ہند کی کئی وزارتیں  غیرملکی کمپنیوں  سے زوہو کی جانب منتقل ہورہی ہیں ، کیا یہ دیسی ٹیکنالوجی کیلئے سنگ میل ہے؟‘‘ سری دھر ویمبو نے یہ مانتے ہوئے کہ یہ سنگ میل ہے، بتایا کہ ’’ہندوستان کو جی پی یو چپس کا ۵۰؍ ہزار کا کوٹہ ملتا ہے جبکہ اوپن اے آئی اور گروک جیسی کمپنیوں  کے پاس لاکھوں  چپس ہیں ۔‘‘ بقول ویمبو’’اگر ہمارے پاس کافی سرمایہ ہو تب بھی ہم ۵۰؍ ہزار سے زیادہ چپس نہیں  خرید سکتے اس لئے واحد راستہ یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجیز ہمیں  اندرون ملک تیار کرنی ہوں  گی، صرف اے آئی پر توجہ مرکوز کرنا کافی نہیں  ہوگا۔‘‘ 
کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں ؟ یقیناً کرسکتے ہیں  مگر اب تک نہیں  کیا ہے اور اس پر ہمارا دھیان بھی نہیں  ہے۔ ویمبو ہی بتاتے ہیں  کہ ہمارا بیرونی ملکوں  پر انحصار بہت زیادہ ہے۔’’ہم تو ناخن تراش (نیل کٹر) بھی نہیں  بناتے، مارکیٹ سے ناخن تراش خریدیئے اور دیکھئے وہ کہاں  بنا ہے۔ آپ کو یا تو چائنا لکھا ہوا ملے گا یا جاپان یا کوریا۔‘‘ ویمبو کے اس بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہم کہاں  کھڑے ہیں ۔ کیا اس کا مطلب یہ نہیں  کہ ترقی کی دوڑ میں  ہمیں  جہاں  ہونا چاہئے تھا ہم وہاں  نہیں  ہیں  اور جہاں  ہیں  وہاں  نہیں  ہونا چاہئے تھا۔ گزشتہ دنوں  ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا‘‘ کی ایک دہائی مکمل ہونے کا جشن منایا گیا۔ اس میں  شک نہیں  کہ دس سال میں  ہم صفر سے ۲؍ لاکھ کمپنیوں  کے ہدف تک پہنچے ہیں  مگر کیا تمام کمپنیاں ، جو اسٹارٹ اَپ ہیں ، اختراع اور جدت کے اصول پر کار بند ہیں ، کیا ان کی سالانہ پیداواریت (پروڈکٹیوٹی) اس معیار کی ہے جس معیار کی ہونی چاہئے؟ کیا ان کی مصنوعات کی گھریلو اور بیرونی بازاروں  میں  اتنی ہی مانگ ہے جتنی ہونی چاہئے؟ اس سلسلے میں  ہمیں  ویمبو کا مشورہ اچھا لگا کہ جس طرح طلبہ کیلئے این ای ای ٹی اور جے ای ای کی رینکنگ ہوتی ہے اسی طرح آزاد اور غیر جانبدار ماہرین کا ایک پینل کمپنیوں  کی درجہ بندی کرے اور اس جدول کی خاطر خواہ تشہیر کی جائے تاکہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کمپنیوں  کی پزیرائی ہو۔ 
ہمیں  یقین ہے کہ یہ اور ایسے ہر قیمتی مشورہ کو عمل میں  لایا جا سکتا ہے مگر اس کیلئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و سکون کی فضا شرط اول ہوگی۔ یہی نہیں  وہ سیاسی عزم بھی درکار ہوگا جو ملک کی نوجوان آبادی کو منافع بخش سرمایہ (ڈیموگرافک ڈِویڈنڈ) میں  تبدیل کردے۔ جاپان جتنی ترقی کرسکتا تھا نہیں  کرسکا کیونکہ اس کے پاس یہ سرمایہ نہیں  ہے۔ ہمارے پاس ہے مگر ہم بے روزگاری پال کر بیٹھے ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK