پارٹیاں پہلے بھی توڑی جارہی تھیں مگر ترنمول کانگریس کے ساتھ جو ہوا اور ہوتا ہی چلا جارہا ہے اُس کی مثال سابقہ واقعات میں نہیں ملتی۔ یہ ترنمول کی ٹوٹ پھوٹ ہی ہے یا کچھ اور ہے؟ تر
پارٹیاں پہلے بھی توڑی جارہی تھیں مگر ترنمول کانگریس کے ساتھ جو ہوا اور ہوتا ہی چلا جارہا ہے اُس کی مثال سابقہ واقعات میں نہیں ملتی۔ یہ ترنمول کی ٹوٹ پھوٹ ہی ہے یا کچھ اور ہے؟ ترنمول کے انتشار کا واقعہ اپنے آپ میں کئی واقعات کا عنوان ہے۔ پہلے کم و بیش ۱۰۰؍ کونسلروں نے علاحدگی اختیار کی، پھر نو منتخب ۶۰؍ اراکین اسمبلی نے علم ِ بغاوت بلند کیا (حالانکہ کل کولکاتا ہائی کورٹ نے اس پر سوال کیا اور اسے غیر آئینی بتایا)، پھر راجیہ سبھا کے اراکین یکے بعد دیگرے استعفےٰ دینے لگے (اب تک تین ایم پیز مستعفی ہوچکے ہیں )، اس کے بعد یا ان کے ساتھ ساتھ لوک سبھا کے ۱۹؍ اراکین کے تعلق سے بھی خبریں آتی رہیں ۔ پھر اُس لسٹ نے، جس میں ۲۰؍ ناموں کا دعویٰ کیا گیا تھا، عوام میں تجسس پیدا کیا۔ بدھ کو وہ فہرست منظر عام پر آئی جس میں ۱۹؍ نام تھے۔ ان میں سے فلمسٹار شتروگھن سنہا نے وضاحت کردی ہے کہ وہ اصل ترنمول کانگریس سے علاحدہ نہیں ہوں گے مگر دوسروں نے اب تک خاموشی اختیار کررکھی ہے جس میں سیونی گھوش تک کا نام ہے۔ ہر وہ شخص جو سیونی گھوش کو جانتا ہے، ہنوز حیرت زدہ ہے۔
آخر شتروگھن سنہا ہی کی وضاحت کیوں آئی اور کسی دیگر رکن پارلیمان نے اپنی جانب سے صفائی کیوں نہیں دی؟ ہمیں یہ مان لینے میں اب بھی تامل اور تردد ہے کہ جو کچھ دکھائی دے رہا ہے اور جو کچھ ذرائع ابلاغ کے ذریعہ منظر عام پر آرہا ہے وہی سچ ہے مگر اب تک جو کچھ ہوتا رہا اُس پر بھی تو یقین کرنا مشکل تھا مگر جیسے جیسے وقت گزرا، یہ حقیقت کھلی کہ جو سنا تھا وہی سچ تھا اور جو ذرائع ابلاغ نے بیان کیا وہ غلط نہیں تھا۔ مثلا کے طور پر آج ہم سب کو یقین آچکا ہے کہ دیویندر فرنویس اور اجیت پوار نے ۲۳؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو صبح صبح راج بھون پہنچ کر وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کا حلف لے لیا تھا (حالانکہ یہ حکومت صرف ۸۰؍ گھنٹے قائم رہ سکی تھی) مگریاد کیجئے، جب اُس دن صبح آپ بستر سے برآمد ہوئے اور یہ خبر سنی تو کیا یقین آگیا تھا؟
دراصل ہم ایسے سیاسی دور میں ہیں جس میں جو ناقابل یقین ہوتا ہے وہ بھی واقع ہوتا ہے، پھر اس پر ازخود یقین آ جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ممتا بنرجی اور اُن کی پارٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا اور جو اَب بھی ہورہا ہے، اُس پر بھی فی الحال یقین نہیں آرہا ہے یا یقین کرنے کو جی نہیں چاہ رہا ہے مگر، خدانخواستہ، چند روز کے بعد یہی باتیں روز روشن کی طرح عیاں ہوجائینگی اور ہمارے اجتماعی حافظے کا حصہ بن جائینگی۔ موجودہ دور واقعات کا دور ہے۔ جتنی سیاسی گہما گہمی اب ہونے لگی ہے، پہلے نہیں ہوتی تھی۔ اس لئے نہیں ہوتی تھی کہ نہ پارٹیاں توڑی جاتی تھیں نہ ملک کے مستند اور مستحکم اداروں کے ذریعہ ناانصافی کے اتنے واقعات ہوتے تھے۔ نہ اتنا جھوٹ بولا جاتا تھا نہ اتنی لعن طعن ہوتی تھی۔ یہ دَور سابقہ کسی بھی دَور سے مختلف ہے۔ اس کالم میں ہم نے ممتا اور ترنمول سے بات شروع کی اور کہا کہ یہ ترنمول کی ٹوٹ پھوٹ ہی ہے یا کچھ اور ہے؟ایسا کہنے کی وجہ یہ ہے کہ کیا ٹی ایم سی کے لیڈران واقعی بہت ناراض تھے؟ ایک شکایت جو بار بار سننے کو مل رہی ہے، یہ ہے کہ لوگ ابھیشیک بنرجی سے ناراض تھے۔ ٹھیک ہے، رہے ہوں گے مگر اُن کی کن باتوں سے ناراض تھے یہ تو کوئی کہہ نہیں رہا ہے؟ پھر کس پارٹی کا لیڈر اپنے بیٹے یا بھتیجے یا بھانجے کو موقع نہیں دیتا؟ ابھیشیک کو موقع ملا بھی تو وہ کسی ایک یا زیادہ سے زیادہ دو عہدوں پر رہیں گے، دیگر عہدوں کی تقسیم تو پارٹی کے لیڈران ہی میں ہوگی پھر یہ لوگ کیوں اتنے سخت تیور اپنائے ہوئے ہیں اور پارٹی کو تباہ کرنے پر تُلے ہیں ؟