واضح الفاظ میں ممتا بنرجی کیلئے اپنی وفاداری کا اعلان کیا ، یہ یاد دلایا کہ ۲۰۱۹ء کے پارلیمانی الیکشن میں ہارنے کے بعدکے مشکل وقت میں ممتا نے ہی ان کا ساتھ دیا تھا ۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 10:55 AM IST | New Delhi
واضح الفاظ میں ممتا بنرجی کیلئے اپنی وفاداری کا اعلان کیا ، یہ یاد دلایا کہ ۲۰۱۹ء کے پارلیمانی الیکشن میں ہارنے کے بعدکے مشکل وقت میں ممتا نے ہی ان کا ساتھ دیا تھا ۔
نئی دہلی (ایجنسی): ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان شتروگھن سنہا نے اپنے انداز میں تمام قیاس آرائیوں کا خاموش کراتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ وہ نہ تو باغی گروپ کے ساتھ ہیں اور نہ ممتا بنرجی کو چھوڑ کر کہیں جارہے ہیں۔انہوں نے واضح الفاظ میں ممتا بنرجی کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مشکل ترین سیاسی حالات میں ممتا بنرجی نے ان کا ساتھ دیا تھا، اس لئے وہ ترنمول کانگریس چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ واضح رہے کہ باغی لیڈروں نے دعویٰ کیا تھا کہ شتروگھن سنہا ان ۱۹؍ ٹی ایم سی اراکین پارلیمان میں شامل ہیں جنہوں نے لوک سبھا اسپیکر کو خط دے کر پارلیمنٹ میں بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: احمد آباد حادثہ کےمہلوکین کے ورثاء میں ۹۱؍ فیصد کو مل چکا ہے معاوضہ: ایئر انڈیا
انڈیا ٹوڈے کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں شتروگھن سنہا نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ نہ تو انہوں نے کسی ایسے خط پر دستخط کئے ہیں اور نہ ہی باغی گروپ کے کسی فرد نے ان سے اس سلسلے میں رابطہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’میں ممتا بنرجی کے ساتھ تھا، ممتا بنرجی کے ساتھ ہوں اور ممتا بنرجی کے ساتھ ہی رہوں گا۔‘‘ سنہا نے اسے اپنے اوپر خود نافذ کردہ ’’تین سطری وہپ‘‘ قرار دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ مجھے باغی سمجھ سکتے ہیں لیکن اگر سچ بولنا بغاوت ہے تو میں باغی ہوں۔ تاہم میرا نام اس گروپ سے جوڑنا غلط ہے۔ میں نے کسی دستاویز پر دستخط نہیں کئے اور نہ ہی کسی نے مجھ سے اس بارے میں رابطہ کیا ہے۔سابق مرکزی وزیر نے زور دے کر کہا کہ وہ ممتا بنرجی کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ جب۲۰۱۹ء کے لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد وہ سیاسی طور پر مشکل دور سے گزر رہے تھے تو ممتا بنرجی ہی ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔سنہا نے کہاکہ جب میں ۲۰۱۹ء کا انتخاب ہار گیا تھا اور ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا تھا تو ممتا بنرجی نے میری حوصلہ افزائی کی۔
یہ بھی پڑھئے: مانسون بہار پہنچ گیا، یوپی میں بھی طوفانی بارش
شتروگھن سنہا کے مطابق ممتا بنرجی نے مجھےآسنسول سے انتخاب لڑنے کا موقع دیا، جہاں سے میں کامیاب ہوا۔ ایسے وقت میں جب وہ خود مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، میں انہیں تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ یہ تو سخت بے ایمانی اوربداخلاقی ہو گی۔ پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کی قیادت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں شتروگھن سنہا نے کہا کہ ان کی واحد لیڈر ممتا بنرجی ہیں اور وہ اس حیثیت میں صرف انہیں تسلیم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’میں ابھیشیک بنرجی کو اچھی طرح جانتا ہوں، لیکن میری رہنما ہمیشہ ممتا بنرجی رہی ہیں اور آج بھی وہی میری رہنما ہیں۔ مجھے براہِ راست ہدایات ہمیشہ انہی سے ملتی رہی ہیں اور آج بھی میں ممتا جی کی بات سنوں گا۔ اس کردار میں میں کسی اور کو نہ جانتا ہوں اور نہ ہی تسلیم کرتا ہوں۔‘‘انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ترنمول کانگریس کسی وجودی بحران کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ممتا بنرجی ایک زمینی سطح کی لیڈر ہیں اور جدوجہد کرنے والی سیاستداں ہیں جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں کئی چیلنجوں پر قابو پایا ہے۔سنہا نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر سیاسی جماعت میں اختلاف رائے ہوتا ہے اور اسے فوری طور پر ٹوٹ پھوٹ کی علامت نہیں سمجھنا چاہئے۔ شتروگھن سنہا نے واضح کیا کہ انہیں ٹی ایم سی اور کانگریس کے انضمام کی کوئی خبر نہیں لیکن ممتا بنرجی اور راہل گاندھی کے درمیان تعاون کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات کو معمول کی سیاسی بات بتایا اور ترنمول کانگریس کے بحران میں ہونے کے دعووں کو رد کرتے ہوئے ممتا بنرجی کی سیاسی مضبوطی پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: منی لانڈرنگ الزام: ’نیوز کلک‘ کو راحت، ای ڈی کی کارروائی کالعدم قرار دی گئی
کلیان بنرجی کا ممتا بنرجی کو الٹی میٹم
کولکاتا(ایجنسی): چاروں طرف سے بحرانوں میں گھری ممتا بنرجی اس وقت ایک اور مشکل میں پھنس گئی جب پارٹی کے سینئر رکنِ پارلیمنٹ اور معروف وکیل کلیان بنرجی نے جمعرات کو پارٹی سپریمو ممتا بنرجی کو براہِ راست الٹی میٹم دے دیا۔ کلیان بنرجی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اب دیدی کو ان کے ابھیشیک بنرجی کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔اگر ابھیشیک بنرجی اس عہدہ پربرقرار رہتے ہیںتو میں ٹی ایم سی میں نہیں رہوں گا۔
ٹی ایم سی کا ایک اور ایم پی راجیہ سبھا سے مستعفی
نئی دہلی (ایجنسی):ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ پرکاش چک برائیک نے بھی راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے دیا۔برائیک نے چیئرمین کو جو خط پیش کیا ہے اس میں انہوں نے فوری طور سے رکنیت سے دستبردار ہونے کی بات کہی ہے۔یاد رہے کہ ان سے قبل سشمتا دیو اور سکھیندو شیکھر رائے بھی مستعفی ہو چکے ہیں۔