Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج ہونا چاہئے ممتا کی جے جے کار!

Updated: May 04, 2026, 2:04 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

آج، یوں تو آسام، تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری کے بھی انتخابی نتائج کا اعلان ہوگا مگر جس ریاست پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں اور جہاں ایک علاقائی (ترنمول کانگریس) اور ایک قومی (بی جے پی) سیاسی جماعت کے درمیان تلخ و تند و تیز سیاسی رسہ کشی جاری ہے وہ مغربی بنگال ہے۔ مذکورہ بالا پانچ ریاستوں میں یہ واحد ریاست ہے جہاں دو مراحل میں پولنگ ہوئی ہے۔

INN
آئی این این
آج، یوں  تو آسام، تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری کے بھی انتخابی نتائج کا اعلان ہوگا مگر جس ریاست پر سب کی نگاہیں  مرکوز ہیں  اور جہاں  ایک علاقائی (ترنمول کانگریس) اور ایک قومی (بی جے پی) سیاسی جماعت کے درمیان تلخ و تند و تیز سیاسی رسہ کشی جاری ہے وہ مغربی بنگال ہے۔ مذکورہ بالا پانچ ریاستوں  میں  یہ واحد ریاست ہے جہاں  دو مراحل میں  پولنگ ہوئی ہے۔ دوسرے اور آخری مرحلے کی پولنگ کے بعد جو ایگزٹ پول سامنے آئے ان میں  بی جے پی کو اس قدر سیٹیں  ملتی دکھائی گئی ہیں  کہ یہ پارٹی آسانی سے حکومت بنالے مگر زمینی سطح پر کام کرنے والے صحافیوں ، عام لوگوں  اور کئی کئی دن بنگال میں  گزار کر واپس آنے والے ماہرین اور تجزیہ کاروں  کا کہنا ہے کہ جب حقیقی نتائج کا اعلان ہوگا تب سارے ایگزٹ پول اسی طرح اوندھے منہ گریں  گے جس طرح ۲۰۲۱ء کے اسمبلی انتخابات کے وقت ہوا تھا۔ ان میں  کس کا کہا سچ ثابت ہوگا اور کس کا اندازہ غلط قرار پائے گا یہ آج واضح ہو جائیگا۔
بی جے پی نے جس لاؤ لشکر اور گھن گرج کے ساتھ نیز جتنے وسائل کے استعمال کے ذریعہ اس الیکشن کو غیر معمولی انتخابی معرکہ آرائی میں  تبدیل کیا اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ پارٹی کا یہ انداز اب ہر الیکشن کو غیرمعمولی بنا دیتا ہے۔ بنگال میں  وزیراعظم مودی نے ریلیاں  کیں ، روڈ شو کیا، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کئی کئی دن خیمہ زن رہے، پارٹی کے دیگر لیڈران بھی بنگال آتے رہے، انتخابی کمیشن نے ایس آئی آر کی مہم چلائی، لاکھوں  نام انتخابی فہرستوں  سے حذف کئے گئے، ریاست کے اعلیٰ افسران کا تبادلہ کیا گیا، مرکزی ایجنسیوں  کو آلہ کار بنایا گیا، نیم فوجی دستوں  کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی، دیگر ریاستوں  کے اعلیٰ افسران کو مشاہدین کی حیثیت سے لایا گیا اور ماحول کو اتنا حساس بنا دیا گیا جیسے ہم ریاستی الیکشن نہ کروا رہے ہوں  بلکہ ایک ریاست کو کسی سنگین جرم کی سزا دے رہے ہوں ۔
یہ پہلا موقع تھا جب انتخابی فہرستوں  سے اتنی بڑی تعداد میں  نام حذف کئے گئے مگر آج ہر طرح کا غبار چھٹ جائیگا اور انتخابی نتائج کے ذریعہ آشکار ہو جائیگا کہ بی جے پی کی طاقت جیتی یا ترنمول کی مقبولیت، چانکیہ کہلانے والے امیت شاہ کی پلاننگ کو فتح ملی یا ممتا کی عوامی سیاست کو، انتخابی کمیشن کی دھاندلیوں  کو سبقت ملی یا ایس آئی آر کے خلاف عوامی برہمی کو۔ جب ٹکر کانٹے کی ہوتی ہے تو یہ امکان رہتا ہے کہ دونوں  ہی مدمقابل پارٹیاں  حکومت سازی کیلئے درکار جادوئی عدد تک نہ پہنچ پائیں  مگر بنگال کو جاننے والے بتاتے ہیں  کہ اس ریاست نے کبھی آدھا ادھورا فیصلہ نہیں  دیا، ہمیشہ دوٹوک اور واضح فیصلہ دیا ہے اس لئے امید کی جاتی ہے کہ اس بار بھی جو فیصلہ سامنے آئے گا وہ نہ تو خام ہوگا نہ ہی اس میں  ابہام ہوگا۔
آج شام تک جب مطلع صاف ہو جائیگا تب ہر خاص و عام جان لے گا کہ عوام نے کس کو کتنی طاقت بخشی مگر ایک بات جو نتائج سے پہلے بھی کہی جا سکتی ہے اور نتائج کے بعد بھی کہی جائیگی، یہ ہے کہ ممتا بنرجی نے نہایت سخت اور دشوار کن حالات کا ہمالیائی جرأت اور حوصلے سے سامنا کیا ہے۔ کسی بھی موقع پر وہ نہ تو کمزور پڑی اور رکی ہیں  نہ جھکی ہیں ۔ ایسی جرأت، اتنی فعالیت، سڑک سے سپریم کورٹ تک جدوجہد کی یہ عادت کسی میں  ہے تو وہ صرف اور صرف ممتا بنرجی ہیں ۔ اگر وہ خدانخواستہ ہار گئیں  تو بھی جیت انہی کی شخصیت سے معنون کی جائیگی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK