Updated: May 04, 2026, 5:13 PM IST
| Jerusalem/New York/Gaza
فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ نے ۲۰۲۶ء کے آغاز سے اب تک فلسطینی صحافیوں کے خلاف اسرائیل کے ذریعے تقریباً ۳۰۰؍خلاف ورزیوں کی اطلاع دی ہے۔ صرف رواں سال کے دوران ۱۰؍ صحافیوں کے زخمی ہونے، ۲۲؍ کی گرفتاری، ۱۲۰؍ مقامات پر صحافتی کوریج میں رکاوٹ یا صحافیوں کو حراست میں لئے جانے اور صحافیوں پر براہ راست حملوں کے ۱۲؍واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔
فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ نے ۲۰۲۶ء کے آغاز سے اب تک فلسطینی صحافیوں کے خلاف اسرائیل کے ذریعے تقریباً ۳۰۰؍ خلاف ورزیوں کی اطلاع دی ہے اور میڈیا نمائندوں پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں اضافے کو اجاگر کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے البیرہ میں ۳ مئی کو’عالمی یومِ آزادیِ صحافت‘ کے موقع پر منعقدہ ایک ریلی کے دوران جاری کئے گئے۔
سنڈیکیٹ کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء میں محصور فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک کل ۲۶۲؍ فلسطینی صحافی شہید ہوئے ہیں، جن میں سے ۲۶۱؍ کا تعلق غزہ سے ہے۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک ۶؍ صحافی اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سنڈیکیٹ کی آزادی کمیٹی کے سربراہ محمد اللحام نے بتایا کہ صرف رواں سال کے دوران ۱۰؍ صحافیوں کے زخمی ہونے، ۲۲؍ کی گرفتاری، ۱۲۰؍ مقامات پر صحافتی کوریج میں رکاوٹ یا صحافیوں کو حراست میں لئے جانے اور صحافیوں پر براہ راست حملوں کے ۱۲؍ واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے ملبے تلے ۸؍ ہزار لاشیں، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم ملبہ ہٹایا جاسکا: رپورٹ
سنڈیکیٹ کے نائب سربراہ عمر نزال نے شرکاء کو بتایا کہ فلسطینی صحافی ”غیر معمولی اور بے مثال حالات“ میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو ”سخت ترین اسرائیلی جنگی مشین“ کا مقابلہ قرار دیا۔ سنڈیکیٹ نے بیان کیا کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک ہونے والی خلاف ورزیوں کی تعداد ۳۹۸۳؍ تک پہنچ چکی ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں براہِ راست فائرنگ، آنسو گیس اور اسٹن گرنیڈز کا استعمال اور آلات کی ضبطگی جیسے واقعات شامل ہیں۔
رپورٹ میں ۱۸۸؍ گرفتاریوں اور ۱۸۷؍ میڈیا اداروں کے ساتھ صحافیوں کے ۱۴۰؍ گھروں کی تباہی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، صحافیوں کے خاندان کے ۷۱۳؍ ممبران کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ان اثرات کا دائرہ خود میڈیا نمائندوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ تنظیم نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات صحافیوں کے خلاف اسرائیل کی ”منظم پالیسی“ کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد صحافت کو محدود کرنا اور فلسطینی آواز کو دبانا ہے۔ سنڈیکیٹ نے اقوامِ متحدہ سے تحفظ اور احتساب کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی طرزِعمل سے یورپ میں ’اسرائیلائزیشن‘ کا خطرہ: فرانسسکا البانیز کا انتباہ
اقوامِ متحدہ کی آزادیِ صحافت کو لاحق عالمی خطرات پر تنبیہ
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے نیویارک میں ایک پریس بریفنگ کے دوران خبردار کیا کہ دنیا بھر میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملے، جمہوری نظام اور احتساب کو کمزور کر رہے ہیں۔ عالمی یومِ آزادیِ صحافت کے موقع پر انہوں نے آزاد صحافت کو ”آزاد اور کھلے معاشرے کی آکسیجن“ قرار دیا۔
ترک نے مزید کہا کہ اس سال عالمی سطح پر کم از کم ۱۴؍ صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران قتل ہونے والے دس صحافیوں میں سے صرف ایک کو مکمل انصاف فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے غزہ کو صحافیوں اور رپورٹرز کیلئے ”موت کا پھندا“ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ محصور فلسطینی علاقے میں ۲۰۲۳ء سے اب تک تقریباً ۳۰۰؍ صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت خاتون صحافیوں کے خلاف بدسلوکی میں اضافے کا سبب بن رہی ہے: یو این کی رپورٹ میں انکشاف
انہوں نے صحافیوں کو لاحق دیگر وسیع تر خطرات کی جانب بھی اشارہ کیا، جن میں نگرانی، قانونی دھمکیاں اور آن لائن ہراسانی شامل ہے، جن کے ذریعے خاص طور پر خواتین صحافیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ پابندیوں پر مبنی قوانین کو منسوخ کریں اور احتساب کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے غلط معلومات اور بدسلوکی کے سدِباب کا بھی مطالبہ کیا۔
غزہ میں صحافیوں کے تحفظ کیلئے احتجاج
غزہ شہر میں سیکڑوں فلسطینی صحافی اور سماجی کارکن تباہ شدہ رشاد الشوا کلچرل سینٹر کے قریب جمع ہوئے اور بین الاقوامی تحفظ اور میڈیا کیلئے کام کرنے والے افراد کو نشانہ بنانے کے سلسلے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ غزہ میں فلسطینی جرنلسٹس سنڈیکیٹ کے نائب سربراہ تحسین الاستل نے کہا کہ فلسطینی صحافی، اسرائیل کی ”منظم طریقے سے نشانہ بنائے جانے کی پالیسی“ کے باوجود اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہاکہ ”فلسطینی صحافی اپنی شناخت، اپنے بیانیے یا اپنے مشن کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔“
یہ بھی پڑھئے: فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا فیفا سےکھلاڑیوں کےخلاف مبینہ خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو نکالنے کا مطالبہ
شرکاء نے ۲۶۰؍ سے زائد صحافیوں کی شہادت اور سیکڑوں صحافیوں کے زخمی یا زیرِ حراست ہونے کے معاملے کو اجاگر کیا۔ سنڈیکیٹ کے عہدیدار عہد فراوانہ نے اس صورتحال کو ”جدید تاریخ میں صحافت کے خلاف سنگین ترین جرائم میں سے ایک“ قرار دیا اور فوری طور پر بین الاقوامی مداخلت کی اپیل کی۔ ریلی کے مقررین نے زور دیا کہ غزہ میں صحافی مسلسل خطرے کے سائے میں رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے آزادیِ صحافت کے تحفظ اور خلاف ورزیوں پر احتساب کیلئے ٹھوس عالمی کارروائی کا مطالبہ کیا۔