Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی یوم صحت پر خدارا اپنا محاسبہ کیجئے!

Updated: April 07, 2026, 11:27 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

پرانی کہاوت ’’جان ہے تو جہان ہے‘‘ کا مفہوم کون نہیں جانتا۔ آج کا انسان معاشی خوشحالی کیلئے روزگار کے ہزار بکھیڑے پالتا ہے اور اپنی صحت کی جانب سے غافل رہتا ہے جبکہ آس پاس کی دُنیا میں دیکھتا رہتا ہے کہ کس طرح صرف عمر دراز افراد نہیں بلکہ نوجوان آبادی کا معتدبہ حصہ بھی مختلف امراض سے نبرد آزما ہے۔

World Health Day.Photo:INN
عالمی یوم صحت۔ تصویر:آئی این این
پرانی کہاوت ’’جان ہے تو جہان ہے‘‘  کا مفہوم کون نہیں جانتا۔ آج کا انسان معاشی خوشحالی کیلئے روزگار کے ہزار بکھیڑے پالتا ہے اور اپنی صحت کی جانب سے غافل رہتا ہے جبکہ آس پاس کی دُنیا میں دیکھتا رہتا ہے کہ کس طرح صرف عمر دراز افراد نہیں بلکہ نوجوان آبادی کا معتدبہ حصہ بھی مختلف امراض سے نبرد آزما ہے۔ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ انسان کو صحت کے نعمت و دولت ہونے کا احساس تبھی ہوپاتاہے جب وہ صحت کے تعلق سے کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ آج (۷؍ اپریل) عالمی یوم صحت پر اس سلسلے کی چند باتوں کا اعادہ ضروری معلوم ہوتا ہے:
سب سے پہلے ان اعدادوشمار کو پیش نگاہ رکھئے۔ ملک میں ذیابیطس کے ۱۰۱؍ ملین یعنی ۱۰؍ کروڑ کیسیز ہیں۔ ہائپرٹینشن یعنی ہائی بلڈ پریشر کے ۲۰۰؍ تا ۲۲۰؍ ملین کیسیز ہیں یعنی ۲۰؍ تا ۲۲؍ کروڑ افراد ہائی بلڈ پریشر سے جوجھ رہے ہیں۔ گردہ (کڈنی) کے عوارض میں مبتلا لوگوں کی تعداد ۱۳۸؍ ملین بتائی گئی ہے یعنی ۱۳۔۱۴؍ کروڑ لوگ اِن عوارض میں مبتلا ہیں۔ کارڈیوویسکولر ڈسیز (امراض قلب) کا جہاں تک تعلق ہے، ۲۰۱۶ء میں اس کے ۵۴؍ ملین کیسیز تھے یعنی کم و بیش ساڑھے ۵؍ کروڑ افراد۔ گزشتہ دس سال میں یہ تعداد کتنی بڑھی ہوگی اس کا اندازہ اس لئے مشکل نہیں کہ حرکت قلب بند ہوجانے کے واقعات پہلے کے مقابلے میں کافی بڑھ چکے ہیں اور آئے دن کسی نہ کسی کے انتقال کی خبر ملتی رہتی ہے۔ 
 
 
یہ چاروں طبی مسائل وہ ہیں جن کی وجوہات میں ہمارا کھان پان، متوازن سادی غذا کے بجائے مصالحہ دار اور تیز، تلی ہوئی، میٹھی اور وہ اشیاء جنہیں اسنیکس کہا جاتا ہے کا استعمال شامل ہے۔ ان کے ساتھ ہی بازار میں ملنے والے سرد مشروبات کا عادی ہوجانا، نیند میں بے اعتدالی، آٹھ گھنٹے کی پُرسکون نیند سے محروم رہنا، ورزش سے بے اعتنائی اور پیدل نہ چلنا وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے کوئی محرک ایسا نہیں ہے جو ہمارے اختیار سے باہر ہو۔ تلی ہوئی، مصالحہ دار، فاسٹ فوڈ کہلانے والی اشیاء اور اسنیکس سے گریز کیا جاسکتا ہے، ٹھنڈے مشروبات سے بچا جاسکتا ہے، موبائل کا استعمال محدود کرکے وقت پر سویا جاسکتا ہے، صبح اُٹھنے کے بعد ہلکی ورزش کیلئے وقت نکالا جاسکتا ہے، پیدل چلنا کوئی بڑا کام نہیں ہے، وغیرہ۔ ان عادات کو نہ اپنا کر لوگ اپنی صحت کے خود دشمن بنے رہتے ہیں اور پھر اچانک کسی دن ڈاکٹر کوئی تشویشناک انکشاف کردیتا ہے تو تمام اہل خانہ فکرمند ہوجاتے ہیں۔ یہ صحت سے لاپروائی اور جان بوجھ کر بیماری مول لینے جیسا ہے۔ 
 
 
مذکورہ امراض کے اسباب میں فضائی و آبی آلودگی نیز سبزی ترکاریوں اور پھلوں کے معیار کو بھی شامل کرنا چاہئے۔ مگر، ان پر ہمارا اختیار نہیں ہے۔ بازار میں جو ترکاری اور سبزی دستیاب ہے وہی خریدی جائیگی اور اُسی فضا میں سانس لینا ہوگا جو میسر ہے۔ یہی حال پانی کا ہے۔ گھر میں فلٹر لگانے سے تسلی ضرور ہوتی ہے مگر صاف پانی کی ضمانت نہیں ملتی۔ کہنے کا مطلب انسان وہی کرسکتا ہے جو اس کے اختیار میں ہے۔ اسی لئے ہم نے ابتداء ہی میں قابل عمل باتوں کی نشاندہی کی۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ اکثر لوگ چلنے پھرنے، ورزش کرنے، متوازن غذا کھانے اور چٹ پٹی اشیاء سے پرہیز کی ضرورت سے واقف مگر عمل سے غافل ہیں جبکہ بروقت توجہ بہت سے امراض سے دور رکھ سکتی ہے۔کاش ہم سنبھل جائیں! 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK