• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خدا انہیں نظر بد سے بچائے!(۲)

Updated: October 16, 2026, 4:51 PM IST | Mumbai

جین زی اور جین الفا کی نئی نسل نے اپنے احتجاج اور بے خوفی سے جمہوریت، جوابدہی اور عوامی حقوق کے حوالے سے نئی امید پیدا کی ہے۔ کسانوں کے احتجاج پر ہونے والی تنقید اور موجودہ نوجوانوں کے تئیں مختلف رویّوں کا تقابل کرتے ہوئے یہ مضمون سوال اٹھاتا ہے کہ آخر اس نسل میں آمریت کے بجائے جمہوریت سے محبت اور حکمرانوں سے جواب طلب کرنے کا حوصلہ کہاں سے آیا؟

Photo: PTI.
تصویر: پی ٹی آئی

جن نوجوانوں کا ذکر اس کالم میں کیا جارہا ہے وہ پہلے، امتحانات کو بچانے کیلئے یکجا ہوئے تھے، اس بار وطن کو بچانے کیلئے نکلے ہیں۔ یاد کیجئے کسانوں کے احتجاج کے خلاف کتنی موشگافی اور کتنی تنقید ہوئی تھی۔ اپنے مطالبات منوانے کیلئے گھر بار اور کھیت کھلیان چھوڑ کر دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دینے والوں کو خالصتانی حتیٰ کہ دہشت گرد کہا گیا۔ مگر، ان نوجوانوں کے خلاف کچھ کہنے سے پہلے ہی زبان گنگ ہوگئی۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان کے پیچھے جین زی ہے اور اس کے بھی پیچھے جین الفا ہے۔ دونوں نسلوں کے ناراض ہونے کا معنی یہ ہے کہ آنے والے انتخابات میں بھی ہارنا ہے اور اس کے بعد آنے والے انتخابات میں بھی۔

یہ بھی پڑھئے: خدا انہیں نظر بد سے بچائے! (۱)

ڈر سی جے پی یا طلبہ تنظیموں کا نہیں ہے۔ ڈر جین زی اور الفا کا ہے جسے نہ تو مذہب کے نام پر یرغمال بنایا جاسکتا ہے نہ ہی کھوکھلے وعدوں سے بہلایا جاسکتا ہے۔ یہ نسل، جو ابھی اسکولوں اور کالجوں ہی میں ہے، اتنی ذہین ہے کہ جوابدہی طلب کررہی ہے۔ کیا اس سے قبل کسی نسل نے اپنے وقت کی کسی حکومت سے جواب طلب کیا تھا؟ اب تک کی نسلیں تو وعدوں پر بہلتی رہیں اور دعوؤں کے جال میں پھنستی رہیں۔ اس نسل کی بے باکی کا عالم یہ ہے کہ پولیس سے کہتی ہے کہ ’’پولیس والے بابو، ذرا ڈنڈا لگا دو‘‘۔ اس کے بارے میں عام رائے ہے کہ اس میں بلا کی بے خوفی ہے۔ یہ بے خوفی کہاں سے آئی۔ کیا ازخود آگئی؟ کیا سوشل میڈیا کی وجہ سے آئی؟ کیا انٹرنیٹ کے سبب معلومات کے خزانے تک رسائی کے سبب آئی؟ سوال مشکل ہے۔ اس سے بھی زیادہ مشکل یہ سوال ہے کہ چلئے بے خوفی آگئی مگر صحیح سوچنے کی صلاحیت کہاں سے آئی؟ اب سے چند برس پہلے کہا جارہا تھا کہ دُنیا بھر میں ایسے حکمرانوں کو پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے جو دوٹوک فیصلے کرتے ہیں اور ہر فیصلہ منوانے کی طاقت رکھتے ہیں (مردانہ شبیہ)۔ یہ بھی کہا جارہا تھا کہ وطن عزیز میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو جمہوریت سے زیادہ آمریت کو مسائل کے حل کیلئے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس طرح کے بیانیوں کے سائے میں اس جنریشن کی تربیت ہوئی ہے پھر بھی اس میں آمریت سے لگاؤ پیدا نہیں ہوا بلکہ جمہوریت سے محبت پیدا ہوگئی۔ یہ کیسے ہوا؟ یہ بہت اہم سوال ہے جس کا فوری جواب تلاش کرنا جلد بازی ہوگی کیونکہ ابھی یہ نسل مظاہرہ گاہوں میں ہے اور سڑکوں پر ہے۔ جب حالات معمول پر آجائینگے تب اس پر غور کیا جاسکے گا کہ اس نسل کی قابل صد ستائش جمہوریت پسندی کا راز کیا ہے، یہ اس قدر صحیح الذہن کیوں ہے اور کیسے اس نے نہایت کم وقت میں خود کو منوا لیا؟ 

یہ بھی پڑھئے: کس کا کنواں، کس کی کھائی؟

لوگ کہتے ہیں اور درست کہتے ہیں کہ اس نسل کی بے خوفی کی وجہ سے ہی ماحول میں بے خوفی پیدا ہوئی ہے ورنہ لوگ ڈرے سہمے سے تھے اور عوامی مقامات پر کچھ کہتے سنتے نہیں تھے۔اس نسل کا کمال یہ ہے کہ اس نے ڈرانے والوں کو ڈرا یاہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ڈرانے کے انداز میں نہیں ڈرایا، اپنی ذہانت و صلاحیت سے ڈرایا ہے۔ خدا رکھے، اس نے بڑی اُمید جگائی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK