• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سر مارک ٹلی اور ہندوستان

Updated: January 28, 2026, 1:44 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

بی بی سی کے مشہور صحافی مارک ٹلی کی پیدائش بھی ہندوستان میں ہوئی تھی اور جنہوں نے آخری سانس بھی ہندوستان میں لی۔ اس طرح گویا وہ جس ملک سے بے پناہ محبت کرتے تھے اُسی کی مٹی میں دفن ہوئے۔

INN
آئی این این
  بی بی سی کے مشہور صحافی مارک ٹلی کی پیدائش بھی ہندوستان میں  ہوئی تھی اور جنہوں  نے آخری سانس بھی ہندوستان میں  لی۔ اس طرح گویا وہ جس ملک سے بے پناہ محبت کرتے تھے اُسی کی مٹی میں  دفن ہوئے۔اُنہوں  نے کئی دہائیوں  تک ہندوستان سے ہندوستان (اور جنوبی ایشیاء کے دیگر ملکوں ) کیلئے رپورٹنگ کی۔ اُن کی رپورٹنگ کا اسلوب محض بیانِ واقعہ یا بیانِ روداد تک محدود نہیں  تھا بلکہ اُن کی حیثیت وقائع نگار کی تھی۔وہ ہندوستان سے رپورٹنگ کرتے کرتے سرزمین ِ ہند سے محبت کرنے والے وقائع نگار (کرونیکلر) کا درجہ پاچکے تھے۔ اس ملک کے مسائل کے ساتھ زندگی گزارنے پر قانع مارک ٹلی نے کسی اور ملک جاکر وہاں  سے رپورٹنگ کی ضرورت محسوس نہیں  کی ورنہ ذرا سوچئے کیا یہ کوئی مشکل کام تھا!
ہندوستان سے کئی دہائیوں  کی رپورٹنگ کے دوران اُنہوں  نے درجنوں  سانحات کی تفصیل پیش کی۔ ان میں  آپریشن بلیو اسٹار، بھوپال گیس ٹریجڈی، دہلی کا سکھ مخالف فساد، اندرا گاندھی کا قتل، بابری مسجد کا انہدام وغیرہم شامل تھے۔ اسی طرح دیگر جنوب ایشیائی ملکوں  کے واقعات مثلاً بنگلہ دیش کا قیام، سری لنکا میں  تمل ٹائیگرس کی بغاوت، پاکستان میں  مارشل لاء، افغانستان میں  سوویت یونین کا تسلط اور دیگر واقعات نیز اُن کے مضمرات کو دُنیا کے سامنے رکھا۔ چونکہ وہ ہندوستان میں  تھے اور یہیں  رہے اس لئے اُنہیں  بی بی سی کی ’’وائس آف انڈیا‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور ’’جدید ہندوستان کا واقعہ نگار‘‘ بھی۔ جس طویل دور میں ، مارک ٹلی فعال رہے، اُس میں  نہ تو ٹی وی اور اس کے درجنوں  چینل تھے نہ ہی موبائل اور ڈجیٹل میڈیا۔ لوگ باگ اخبارات کے علاوہ خاص طور پر بی بی سی ریڈیو سنتے تھے۔ اسی بی بی سی کا ہندوستان کا چہرا مارک ٹلی تھے جن کی غیر جانبدارانہ اور بے باکانہ رپورٹنگ نے، جو شفافیت، دیانتداری اور غیر سنسنی خیزی کا مجموعہ ہوتی، بی بی سی کو اعتبار بخشا۔ سامعین کسی خبر کے بارے میں  اُس وقت تک، اگر شک میں  نہیں  تو کشمکش میں  رہتے تھے، جب تک بی بی سی اُسے کور نہ کرتا اور مارک ٹلی اُس کی توثیق نہ کردیتے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کا حوالہ گزشتہ دنوں  میڈیا میں  آیا جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں  درج تھا کہ جب راجیو گاندھی کو اُن کی والدہ اندرا کی شہادت کی خبر ملی تو اُنہیں  یقین نہیں  آیا تاوقیتکہ بی بی سی نے خبر نہ نشر کی۔ تب تو اُنہیں  بھروسہ کرنا ہی تھا۔ 
مارک ٹلی ہندوستان کی کثیر مشربی، یہاں  کے کھان پان، پہننے اوڑھنے، شہروں  اور دیہاتوں  کے دلدادہ تھے۔ کبھی سوچا ہی نہیں  کہ اپنے اصل وطن برطانیہ واپس بھی جانا چاہئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ عیسائیت کا پیروکار ہوں  مگر ہندوستان میں  کئی مذاہب کے درمیان رہتے ہوئے اچھی طرح جان گیا ہوں  کہ خدا صرف عیسائیت میں  نہیں  ہے۔ مارک ٹلی نے جتنی کتابیں  لکھیں  سب کا تعلق اُسی سرزمین سے ہے جو اُن کی جنم بھومی بھی رہی اور کرم بھومی بھی۔ ان کی تصنیف کردہ کتابوں  میں  سے چند کے نام یہ  ہیں : نو فُل اسٹاپ اِن انڈیا، نان اسٹاپ انڈیا، آن اِنڈیا اِن سلو موشن، امرتسر: اندرا گاندھیز لاسٹ بیٹل اور انڈیا دی روڈ اَہیڈ۔ 
صحافت کے علاوہ دیگر شعبوں  میں  بھی ایسے لوگ کم ہی ملیں  گے جو ہندوستان کو اتنا پسند کرتے ہوں  کہ اس کے آگے اپنے وطن کو بھول گئے ہوں ۔ مارک ٹلی عظیم صحافتی خدمات کے ساتھ ساتھ ہندوستان نوازی کے لئے بھی یاد کئے جائینگے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK