• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انڈونیشیا اکتوبر سے حلال سرٹیفکیشن لازمی قرار دے گا

Updated: January 28, 2026, 4:07 PM IST | Jakarta

انڈونیشیا اکتوبر۲۰۲۶ء سے تمام حلال مصنوعات کے لیے لازمی سرٹیفکیشن نافذ کرے گا۔ ملک کے حلال سرٹیفکیشن ادارے نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں مسابقت کو بڑھانا ہے۔

Halal.Photo:INN
حلال۔ تصویر:آئی این این

انڈونیشیا اکتوبر۲۰۲۶ء سے تمام حلال مصنوعات کے لیے لازمی سرٹیفکیشن نافذ کرے گا۔ ملک کے حلال سرٹیفکیشن ادارے نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں مسابقت کو بڑھانا ہے۔ انڈونیشیا، جو دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک اور جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، عالمی حلال مصنوعات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈی میں اپنے کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسٹیٹ آف دی گلوبل اسلامک اکنامی  رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۳ءمیں حلال مصنوعات کی عالمی منڈی کی مالیت تقریباً ۴۳ء۲؍ ٹریلین ڈالر تھی۔
 انڈونیشیا میں زیادہ تر صارف اشیا اور ریسٹورنٹس، بشمول درآمدی مصنوعات  کو۱۷؍ اکتوبر ۲۰۲۶ءتک حلال لیبلنگ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ یہ ضابطہ تمام اقسام کے کاروباروں پر لاگو ہوگا، جن میں چھوٹی اور درمیانی کمپنیاں بھی شامل ہیں  اور اس میں خوراک و مشروبات، جڑی بوٹیوں کی ادویات، صحت کے سپلیمنٹس، کاسمیٹکس اور روزمرہ استعمال کی دیگر متعدد اشیا شامل ہیں۔
 حلال سرٹیفکیشن ادارے بی پی جے پی ایچ  کے سربراہ احمد ہیکل نے اس ہفتے جاری بیان میں کہا  کہ ’’حلال سرٹیفکیشن کو مسابقتی برتری، صارفین کے تحفظ کے ایک ستون اور جامع و پائیدار معاشی ترقی کے محرک کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’ حلال صارفین کی تسکین ہے۔ حلال صفائی، صحت، تحفظ اور معیار کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسی لیے آج حلال کو محض ایک ضابطہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی ایک بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔‘‘
انڈونیشیا میں حلال سرٹیفکیشن کی شرط کا پہلا مرحلہ اکتوبر ۲۰۲۴ء میں نافذ کیا گیا تھا، جو ابتدا میں صرف بڑی کمپنیوں پر لاگو تھا، جن میں یونی لیور اور نیسلے جیسے بڑے عالمی فوڈ پروڈیوسرز شامل تھے۔۲۰۱۴ءمیں منظور ہونے والے قانون کے تحت، آئندہ برسوں میں لازمی حلال سرٹیفکیشن کا دائرہ مزید اقسام کی ادویات تک بڑھایا جائے گا جبکہ جن مصنوعات یا ریسٹورنٹس کے پاس حلال سرٹیفکیشن نہیں ہوگا، انہیں واضح طور پر یہ اعلان کرنا ہوگا کہ وہ اسلامی قانون کے مطابق نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’بیٹل آف گلوان‘‘ کا گیت’’ماتربھومی‘‘ کس سابق وزیرِ اعظم کی تقریر سے متاثر ہے؟

اسلامی قانون کے مطابق سور کے گوشت یا نشہ آور اشیا جیسے شراب کا استعمال ممنوع ہے جبکہ گوشت صرف اسی صورت میں حلال ہوتا ہے جب جانوروں کو مقررہ طریقے سے ذبح کیا گیا ہو۔بی پی جے پی ایچ   کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال اکتوبر تک انڈونیشیا میں ۹۶؍ لاکھ حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات موجود تھیں۔

یہ بھی پڑھئے:فضائی آلودگی پرعدالت ممبئی اور نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن پربرہم

احمد ہیکل کے مطابق، حلال سرٹیفکیشن ادارہ روس، امریکہ  اور چین سمیت مختلف ممالک کے ہم منصب اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ انڈونیشی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دیا جا سکے اور عالمی حلال نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’  حتمی مقصد یہ ہے کہ انڈونیشی حلال مصنوعات کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنایا جائے اور انڈونیشیا کو دنیا کا حلال مرکز بنایا جائے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK