اسلام آباد میں مذاکرات کی ناکامی افسوسناک ہے مگر اس سے ایران کی صحت پر اثر نہیں پڑے گا، بلکہ یہاں سے اس کی صحت کی بہتری کا آغاز ہوگا۔ اس لئے کہ اب اس کی پوزیشن فاتح کی ہے۔ آبنائے ہرمز پر قبضے کے ذریعہ اس نے پوری دنیا پر اپنی اہمیت ثابت کر دی ہے۔
اسلام آباد میں مذاکرات کی ناکامی افسوسناک ہے مگر اس سے ایران کی صحت پر اثر نہیں پڑے گا، بلکہ یہاں سے اس کی صحت کی بہتری کا آغاز ہوگا۔ اس لئے کہ اب اس کی پوزیشن فاتح کی ہے۔ آبنائے ہرمز پر قبضے کے ذریعہ اس نے پوری دنیا پر اپنی اہمیت ثابت کر دی ہے۔ اس نے امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتوں کو گھٹنوں پر لانے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ امریکہ کا سپر پاور ہونے کا زعم توڑنے میں اس سے مدد ملی ہے۔ اس نے پوری دنیا کو پیغام دیا ہے کہ امریکہ سے ڈرنے کے بجائے اس کے سامنے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ اس نے متعدد ملکوں کو، جو ٹیرف کی آمرانہ شرحوں کے مان لئے جانے کو مجبوری سمجھ رہے تھے، بالواسطہ طور پر یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ بے اصولی کا مقابلہ کرنا ہو تو اصولوں پر قائم رہ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ بے اصولی سے سمجھوتہ کرنا یا اس کے آگے جھک جانا بے اصولی کو بڑھاوا دینا ہے۔ یہ کتنا درست طرز عمل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیرف کی سونامی آئی تو انہی ملکوں کا زیادہ نقصان ہوا جو ڈر گئے۔ جو نہیں ڈرے، مثلاً چین، ان کے سامنے ٹرمپ کو نرم ہونا پڑا۔ چالیس روز تک جاری رہنے والی جنگ کے ذریعہ ایران نے دنیا کے سامنے یک قطبی (یونی پولر) سے کثیر قطبی (ملٹی پولر) کا متبادل رکھا اور سمجھایا کہ یہ اب بھی ممکن ہے جس کیلئے امریکہ سے ڈرنا چھوڑنا پڑے گا گویا ایران نے بے خوف ہونا سکھایا۔ ایران نے خلیج کے ملکوں کو بھی پیغام دیا کہ علاقائی سطح پر بھی اسرائیل سے ڈرنا ترک کرنا پڑے گا۔ اس سے لڑنا پڑے گا اور اپنے مفادات کیلئے اس سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے اس کی فتنہ پردازیوں کے خلاف اَڑنا پڑے گا۔ یاد رہنا چاہئے کہ فلسطین کی سب سے زیادہ حمایت کرنے والوں میں ایران کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ ’’یوم القدس‘‘ منانے کی اپیل ایران ہی سے گونجی تھی۔ یہ دن، ہر سال رمضان کے آخری جمعہ کو آج بھی پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔
ایران کی طرح اَڑنا سیکھ لیا گیا ہوتا تو پچھلے دو سال میں غزہ کے خلاف اسرائیل کا ظلم اس طرح بے روک ٹوک جاری نہ رہ پاتا۔ خلیجی ممالک ہی طے کرلیتے کہ اس ظلم و جبر کو روکنا ہے اور بہر قیمت روکنا ہے تو اسرائیل، غزہ کے پچہتر ہزار شہریوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کی جرأت نہ کرتا۔ یہ قتل عام صرف اس لئے جاری رہا کہ خلیجی ملکوں نے ایران جیسا ہونا نہیں چاہا جس نے برسوں سے اپنے اثاثہ جات کے منجمد ہونے اور معاشی پابندی کی مار جھیلنے کے باوجود کبھی جھکنے کی پالیسی اختیار نہیں کی۔ اتنے برسوں میں معاشی پابندی کی وجہ سے اس نے اپنا اربوں کھربوں ریال کا نقصان کیا۔ معاشی پابندی کی وجہ سے، جو سینتالیس سال سے جاری ہے، حوصلہ ٹوٹ سکتا تھا مگر ٹوٹنے کے بجائے حوصلے نے وہ مضبوطی حاصل کرلی کہ امریکہ جیسا ملک صرف چالیس دن میں تھک گیا، ایران میں تھکن کا نام و نشان تک نہیں ہے۔
اسلام آباد میں جو معاہدہ نہیں ہوسکا وہ جلد ہی آئندہ کسی مرحلے میں ہو جائیگا کیونکہ معاہدہ یا ڈیل کی ضرورت ایران سے زیادہ امریکہ کو ہے۔ ٹرمپ کی سمجھ میں آ گیا ہے کہ انہیں نیتن یاہو نے پھنسا دیا ہے۔ اسی لئے وہ نکلنا چاہتے ہیں ۔ نکلنے کیلئے قیمت بھی چکانے کو تیار ہیں کیونکہ اگر یہ قیمت نہیں چکائی تو انہیں اپنے ملک میں اس سے بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔