امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی رک گئی اور عالمی تیل منڈی میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی۔ اس اقدام نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 3:02 PM IST | Washington
امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی رک گئی اور عالمی تیل منڈی میں شدید بے چینی پیدا ہو گئی۔ اس اقدام نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے فوراً بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی رک گئی۔ یہ ناکہ بندی پیر کو ۱۴۰۰؍ جی ایم ٹی سے نافذ ہونے والی ہے، لندن میں قائم ایک بحری انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا۔ لائیڈز لسٹ کے مطابق، جو جہاز رانی پہلے ہی محدود سطح پر جاری تھی، اچانک مکمل طور پر رک گئی اور آبنائے ہرمز میں موجود جہاز واپس مڑنے لگے۔ یہ صورتحال اس وقت پیش آئی جب امریکہ نے بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کی کارروائیاں تیز کر دیں اور ایران پر الزام لگایا کہ وہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے اپنے وعدے پر عمل نہیں کر رہا۔ امریکی بحری ناکہ بندی کا اعلان اس کے بعد سامنے آیا جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہفتہ کے روز پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں جنگ کے خاتمےکیلئے غیر معمولی براہ راست مذاکرات ہوئے، جو ۲۸؍ فروری کو شروع ہوئی تھی، تاہم یہ مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اپنی تباہ شدہ تیل سہولیات کو دو ماہ میں بحال کر دے گا: نائب وزیر برائے تیل
امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ
امریکہ کی جانب سے یہ اعلان کئے جانے کے بعد کہ وہ پیر سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرے گا، ابتدائی تجارت میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام کی امیدوں کو ایک اور دھچکا لگا ہے۔ یہ اقدام اس تنازع میں ایک بڑی شدت کی علامت ہے جو ۲۸؍فروری کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ برینٹ کروڈ، جو عالمی معیار سمجھا جاتا ہے، فی بیرل تقریباً ۷؍فیصد بڑھ گیا ہے، جبکہ امریکی معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ میں ۸؍فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تنازع شروع ہونے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ جنگ سے پہلے برینٹ کروڈ تقریباً۷۰؍ ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا، جو بعد میں بڑھ کر اپنے عروج پر ۱۱۹؍ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ پھر جھنجھلا گئے، ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان
جمعہ کو منڈیوں میں محتاط امید دیکھی گئی جب پاکستان کے شہر اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات سے قبل برینٹ تقریباً ایک فیصد کم ہو گیا تھا۔ تاہم، ناکہ بندی کے اعلان نے یہ بہتری فوراً ختم کر دی اور قیمتوں کو دوبارہ تیزی سے اوپر دھکیل دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس کی افواج۱۳؍ اپریل کو صبح ۱۰؍ بجے (ای ٹی) سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی شروع کریں گی جو ٹرمپ کے اعلان کے مطابق ہوگی۔ یہ ناکہ بندی تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں، بشمول خلیج اور خلیجِ عمان میں واقع ایرانی بندرگاہوں، میں داخل یا باہر جائیں گے۔
سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ وہ اُن جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا جو آبنائے ہرمز سے گزر کر غیر ایرانی بندرگاہوں تک جا رہے ہوں یا وہاں سے آ رہے ہوں۔ اس نے مزید کہا کہ ناکہ بندی کے آغاز سے پہلے تجارتی بحری جہازوں کیلئے مزید ہدایات جاری کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی جہاز کوسخت جواب دینے کا انتباہ
تمام جہازوں کی ناکہ بندی: ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی تجارتی گزرگاہ کی ناکہ بندی کریں گے، جسے وہ تہران سے مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ کر رہے تھے، خاص طور پر اس کے بعد جب پاکستان میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ اتوار کو سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کا مقصد اس گزرگاہ کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنا اور اسے تمام جہاز رانی کیلئے کھولنا ہے، لیکن ایران کو اس راستے پر کنٹرول سے فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا: ’’فوری طور پر، امریکی بحریہ، جو دنیا کی بہترین ہے، ہر اس جہاز کو روکنے کا عمل شروع کرے گی جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا نکلنے کی کوشش کرے گا۔ اگر کوئی ایرانی ہم پر یا پُرامن جہازوں پر فائر کرے گا تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ ‘‘ مزید یہ کہ بحری جہازوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ’’نوٹس ٹو میرینرز‘‘ نشریات پر نظر رکھیں اور خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحریہ سے رابطے کیلئے چینل۱۶؍ استعمال کریں۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، امریکہ اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا
ایران کا ’’غیر لچکدار‘‘ مؤقف
اس سے پہلے ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے دستبردار نہ ہونے کے ’’غیر لچکدار‘‘مؤقف کے جواب میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا:’’ناکابندی جلد شروع ہوگی۔ دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔ ایران کو اس غیر قانونی اقدام سے فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا۔ ‘‘ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ پاکستان میں ہونے والے طویل مذاکرات ’’اچھے‘‘ رہے اور’’زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا تھا‘‘، لیکن ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بین الاقوامی پا نی میں ایسے کسی بھی جہاز کو روکیں جس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئےایران کو ٹول ادا کیا ہو۔