اگلے سنیچرکو ہم یا تو باسی منا رہے ہوں گے یا عید۔ جمعہ کو ہوگی یا سنیچرکوہوگی عید؟ اس کا انحصار چاند پر ہے۔ شوال اور ذی الحجہ کے چاند کی خاص بات یہ ہے کہ زمین پر اُس کا ڈیمانڈ اِس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کئی دن پہلے سے تذکرہ شروع ہوجاتا ہے،شرطیں تک لگ جاتی ہیں ۔ بارہ
اگلے سنیچرکو ہم یا تو باسی منا رہے ہوں گے یا عید۔ جمعہ کو ہوگی یا سنیچرکوہوگی عید؟ اس کا انحصار چاند پر ہے۔ شوال اور ذی الحجہ کے چاند کی خاص بات یہ ہے کہ زمین پر اُس کا ڈیمانڈ اِس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کئی دن پہلے سے تذکرہ شروع ہوجاتا ہے،شرطیں تک لگ جاتی ہیں ۔ بارہ میں سے دس ماہ نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے چونکہ چاند بھرا بیٹھا رہتا ہے کہ ہر ماہ اس کا انتظار نہیں کیا جاتا، اس لئے وہ ان دو مہینوں بالخصوص شوال کے آغاز کی خبر دینے میں پہیلیاں بجھانے جیسا رویہ اختیار کرتا ہے۔ اِس سال اُس کی کیا پلاننگ ہے یہ کہنا مشکل ہے مگر اس حقیقت کا اظہار مشکل نہیں کہ چاند جتنا ستاتا ہے چاند دیکھنے والوں کو اُتنا لطف آتا ہے۔ چاند فوراً اور آسانی سے نظر آجائے تو یہ لطف کہاں ۔ چاند کی یہ ادا محبوب جیسی ہے جس کیلئے شاعر نے کہا تھا: ’’صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ‘‘۔ اس مصرعے میں شکایت ضرور ہے مگر دلِ شاعر سے پوچھئے، محبوب صاف نظر آجائے تب بھی اُس کا دل ماننے کو تیار نہ ہو کیونکہ وہ محبوب ہی کیا جو اتنی آسانی سے دیدار کا موقع دے دے اور اگر پوری طرح چھپ جائے تب بھی وہ بے چین رہے گا کہ کہیں اس کی نظریں تو دھوکہ نہیں دے رہی ہیں ۔ شاید طرز ِادا کی اسی شوخی کے سبب چاند کو محبوب سے اور محبوب کو چاند سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم یہ کون سا تذکرہ لے بیٹھے جبکہ اتوار کا اداریہ تعلیم و تعلم پر ہوتا ہے، درس و تدریس پر ہوتا ہے، طلبہ کے معاملات اور امتحانات پر ہوتا ہے یا ایسے ہی کسی موضوع پر۔ مگر یقین رکھئے یہ اداریہ تعلیم ہی سے متعلق ہے جیسا کہ ہر اتوار کو ہوتا ہے۔ اوپر چاند سے متعلق باتیں بطور مثال کہی گئی ہیں ۔ اگر ہماری بجائے کوئی اور اداریہ نگار بلکہ بیک وقت پانچ اداریہ نگار چاند کے موضوع پر لکھیں تو ان میں سے ہر ایک کے لکھنے کا انداز الگ ہوگا، الفاظ جداگانہ ہونگے اور خیالات مختلف ہونگے۔ ایک سے دوسرے کی اتفاقی مماثلت بھی ممکن نہیں ۔ طبع زادتحریروں کی یہی خوبصورتی ہے کہ الفاظ مختلف ہوتے ہیں ، انداز مختلف ہوتا ہے اور خیالات مختلف ہوتے ہیں ۔ قلم اور کاغذ سے خیالات کی اور خیالات سے قلم اور کاغذ کی دوستی کو سیکڑوں سال گزر چکے ہیں ، ایک ہی موضوع پر بے شمار تحریریں پڑھنے کا موقع ملے تب بھی قاری اُکتاہٹ محسوس نہیں کریگا کیونکہ ہر تحریر کی اپنی انفرادیت ہوتی ہے مگر جب سے اے آئی نے قلم، کاغذاور خیالات کے جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کرلئے ہیں تب سے ایک جیسی تحریریں معرض وجود میں آنے لگی ہیں اور ایسا محسوس ہورہا ہے وہ وقت دور نہیں جب ہم اے آئی کے مقالے اور اے آئی کی کتابیں پڑھنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ بات ہرگز نہ کہی جاتی اگر ہمارے پاس ایسی اطلاعات نہ ہوتیں کہ تعلیم کے شعبے میں اے آئی سے اتنا ’’فائدہ‘‘ اُٹھایا جارہا ہے کہ یہ فائدہ فائدہ نہیں سراسر نقصان ثابت ہوگا۔ کیا ہم نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کے دشمن بننے جارہے ہیں ؟ اے آئی مددگار ہے تو کسی موضوع پر اُس سے تحریر کا نمونہ طلب کرنا بہتر ہے یا اُس سے مقالہ یا مضمون لکھوا لینا بہتر؟ اے آئی طلبہ کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کا دشمن ثابت ہوگا اگر نئی نسل کو اس کے بے جا استعمال سے روکا نہیں گیا۔ اکثر والدین چونکہ اے آئی کی اِس صلاحیت سے ناواقف ہیں اس لئے اُن کا خبردار رہنا ضروری ہے، اساتذہ تو اُنہیں روکیں گے ہی۔