Updated: March 15, 2026, 4:02 PM IST
| Los Angeles
فلمی دنیا کے سب سے بڑے اور باوقار ایونٹس میں سے ایک آسکر ایوارڈز یا ۹۸؍ویں اکیڈمی ایوارڈز (آسکر) کی شاندار تقریب آج رات لاس اینجلس کے ڈولبی تھیٹر میں منعقد ہو رہی ہے۔ یہ شام سال ۲۰۲۵ءمیں ریلیز ہونے والی بہترین فلموں، اداکاروں، ہدایت کاروں اور دیگر فنکاروں کی شاندار خدمات کو سراہنے کے لیے مخصوص ہوگی۔
آسکرایوارڈز۔ تصویر:آئی این این
فلمی دنیا کے سب سے بڑے اور باوقار ایونٹس میں سے ایک آسکر ایوارڈز یا ۹۸؍ویں اکیڈمی ایوارڈز (آسکر) کی شاندار تقریب آج رات لاس اینجلس کے ڈولبی تھیٹر میں منعقد ہو رہی ہے۔ یہ شام سال ۲۰۲۵ءمیں ریلیز ہونے والی بہترین فلموں، اداکاروں، ہدایت کاروں اور دیگر فنکاروں کی شاندار خدمات کو سراہنے کے لیے مخصوص ہوگی۔
ہندوستانی ناظرین اسے پیر یعنی ۱۶؍ مارچ کی صبح براہِ راست دیکھ سکیں گے۔ امریکہ میں یہ شو ۱۵؍ مارچ کی شام ۷؍بجے ایسٹرن ٹائم کے مطابق شروع ہوگا، جو ہندوستان میں پیر کی صبح ۴؍ بجکر ۳۰؍ منٹ انڈین اسٹینڈرڈ ٹائم پر لائیو نشر ہوگا۔
ہندوستان میں اسے جیو ہاٹ اسٹار ایپ اور ویب سائٹ پر صبح ۴؍ بج کر ۳۰؍منٹ سے لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے دیکھا جا سکے گا۔ اسٹار موویز چینل پر بھی صبح ۴؍بج کر ۳۰؍ منٹ سے ٹی وی پر براہِ راست نشریات ہوں گی۔ اگر آپ صبح یہ پروگرام نہ دیکھ سکیں تو جیو ہاٹ اسٹار پر بعد میں پورا شو دستیاب ہوگا اور اسٹار موویز پر شام ۹؍ بجے اس کا دوبارہ ٹیلی کاسٹ دکھایا جائے گا۔آسکر کے بارے میں کئی دلچسپ اور کم معروف حقائق بھی موجود ہیں۔ سب سے اہم بات اس کے نام کے بارے میں ہے۔ ہم سب اسے ’آسکر‘ کہتے ہیں، لیکن اس کا اصل اور سرکاری نام ’’اکیڈمی ایوارڈ آف میرٹ‘‘ ہے۔ یہ عرفی نام ’’آسکر‘‘ اتنا مقبول ہو گیا کہ اب پوری دنیا اسے اسی نام سے جانتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بالی ووڈ میں تنخواہ کا فرق صنفی بنیاد پر نہیں ہے: سیف علی خان
اکیڈمی ایوارڈ آف میرٹ کو آسکر کہلانے کے پیچھے بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ ۱۹۳۰ء کی دہائی میں اکیڈمی کی لائبریرین (بعد میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر) مارگریٹ ہیریک نے پہلی بار یہ مجسمہ دیکھ کر مذاق میں کہا تھا کہ یہ ان کے چچا آسکر جیسا لگتا ہے۔ یہ نام اتنا پسند کیا گیا کہ ۱۹۳۴ء میں اخبارات میں استعمال ہونے لگا اور ۱۹۳۹ء میں اکیڈمی نے اسے باضابطہ طور پر اپنا لیا۔ آج کے دور میں لفظ آسکر فلمی ایوارڈز کا مترادف بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:این ایچ اے آئی نے فاسٹیگ سالانہ پاس فیس میں اضافہ کا کیا اعلان
آسکر کے حوالے سے ایک اہم اصول بھی ہے کہ فاتحین اپنی آسکر کی ٹرافی فروخت نہیں کر سکتے۔ ۱۹۵۱ء سے اکیڈمی نے سخت قوانین نافذ کیے ہیں کہ اگر کوئی فاتح یا ان کے وارث اس مجسمے کو بیچنا چاہیں تو سب سے پہلے اسے صرف ایک ڈالرمیں اکیڈمی کو واپس پیش کرنا ہوگا۔ یہ قانون اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ آسکر کی عزت برقرار رہے اور یہ کوئی تجارتی چیز نہ بن جائے۔ اس سے پہلے کے پرانے آسکر فروخت کیے جا سکتے ہیں، لیکن ۱۹۵۱ء کے بعد کے نہیں۔
اس مجسمے کی ساخت بھی خاص ہے۔ یہ تقریباً ۵ء۱۳؍انچ (تقریباً ۳۴؍ سینٹی میٹر) اونچا ہوتا ہے اور اس کا وزن ۵ء۸؍ پاؤنڈ (تقریباً۸۵ء۳؍ کلوگرام) ہوتا ہے۔ یہ ٹھوس برونز (کانسہ) سے بنایا جاتا ہے اور اس پر۲۴؍ قیراط سونےکی تہہ چڑھائی جاتی ہے۔ ہاتھ میں پکڑنے پر یہ کافی بھاری محسوس ہوتا ہے۔