کرکٹ کے عالمی نقشے پر ہندوستان کا دبدبہ کتنا ہے یہ کسی سے مخفی نہیں مگر کل تک ہر طرح کی فتح پر مردوں کی اجارہ داری تھی۔ خواتین ٹیم کی پزیرائی کے نام پر سناٹا تھا۔ اِدھر کچھ عرصہ کے دوران ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم نے گویا اپنا حق مانگنے کی جسارت کی ہے۔
کرکٹ کے عالمی نقشے پر ہندوستان کا دبدبہ کتنا ہے یہ کسی سے مخفی نہیں مگر کل تک ہر طرح کی فتح پر مردوں کی اجارہ داری تھی۔ خواتین ٹیم کی پزیرائی کے نام پر سناٹا تھا۔ اِدھر کچھ عرصہ کے دوران ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم نے گویا اپنا حق مانگنے کی جسارت کی ہے۔ ممکن تھا کہ اب بھی اس کی کاوشوں کو نظر انداز کیا جاتا یا خاطر میں لانے کی ضرورت محسوس نہ کی جاتی مگر جب دُنیا اس ٹیم کا لوہا مان رہی ہو تب اہل وطن کا خاموش رہنا مشکل ہوجاتا ہے بالخصوص اُس دور میں جب سوشل میڈیا پر خبریں آن کی آن میں چاروں طرف پھیل جاتی ہیں ۔ ایسے میں میڈیا کسی کو نظر انداز کرنا بھی چاہے تو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ گزشتہ دنوں ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم نے، جس کی کپتان ہرمن پریت کور ہیں ، آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں ہرا کر دو طرفہ سیریز میں کامیابی حاصل کی۔ کم وبیش ۹؍ سال کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ہندوستانی ٹیم نے آسٹریلیا کو اُس کی سرزمین پر کسی بھی فارمیٹ میں شکست دی۔ اس کا کریڈٹ دیگر کھلاڑیوں کے علاوہ افتتاحی بلے باز جوڑی اسمرتی مندھانا اور جمائمہ روڈریگز کو ملا جن کی مضبوط اننگز نے افتتاحی شراکت داری کے ذریعہ تماشائیوں کا دل جیت لیا اور ٹیم کے اسکور کو استحکام بخشا۔ دورِ حاضر کا اُصول اِس بے اُصولی پر مبنی ہے کہ جو جیت رہا ہو اُس کے ساتھ کھڑے ہوجائیے تاکہ خود بھی سرخیوں میں آجائیں ۔ چنانچہ خواتین ٹیم کی شاندار فتح کا جشن اسی ’’اُصول ِ بے اُصولی‘‘ کا مظہر تھا۔ جب یہ خواتین سخت جدوجہد کررہی ہوتی ہیں اور اُن کے سامنے مشکلات ہوتی ہیں تو اُن کا ساتھ دینے والا مشکل ہی سے کوئی میسر آتا ہے۔ مشکل حالات میں ساتھ دینے اور جیت جانے پر خوشی خوشی فوٹو کھنچوانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کون نہیں جانتا کہ جب وطن عزیز کی تمغہ و اعزاز یافتہ خواتین پہلوانوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی تو اُن کے ساتھ کیا ہوا۔ اُن کا دل اتنا ٹوٹا اور حوصلہ اس قدر پست ہوا کہ وہ اپنے تمغے دریا میں بہانے کیلئے نکل پڑی تھیں ۔ اس سے قبل اُنہوں نے دھرنے دیئے اور پریس کانفرنسیں کیں ۔ تب اُن کا ساتھ دینے کوئی نہیں آیا۔ موجودہ کرکٹ ٹیم کی اہم رکن ہیں اسمرتی مندھانا جن کا تعلق ضلع سانگلی (مہاراشٹر) سے ہے۔ ۲۰۲۵ء کا آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اسمرتی کو، جو فاتح ٹیم کا حصہ اور نائب کپتان تھیں ، بی بی سی نے انڈین اسپورٹس ویمن آف دی ایئر کے ایوارڈ سے نوازا۔ جب ہم نے ورلڈ کپ جیتا تھا تب بھی اور جب اسمرتی کو یہ ایوارڈ ملا تب بھی پورے ملک نے جشن منایا۔ اس وقت ہر خاص و عام اسمرتی کے اب تک کے شاندار کریئر پر ناز کررہا تھا مگر جب مہاراشٹر کی اس بیٹی نے کھیلنے کی شروعات کی تھی تب کون آیا تھا اس کی حوصلہ افزائی کیلئے؟ اُس کے پاس تو بلہ (بیٹ) تک نہیں تھا۔ سماج الگ طعنے دیتا تھا کہ لڑکی ہے اور ماں باپ لڑکوں جیسا کھیل کھیلنےبھیج رہے ہیں ! جنوری ۱۷ء میں یہی اسمرتی گھٹنے کی چوٹ سے دوچار ہوئیں اور کھیل سے دور ہوگئی تھیں ۔ پانچ ماہ تک دور رہیں ۔ تب کس نے اُس کی خیریت دریافت کی اور مدد کی پیشکش کی؟ مسئلہ یہ ہے کہ آج بھی ملک کی خواتین کو وہ مواقع نہیں دیئے جاتے یا بخل سے کام لیا جاتا ہے جن کیلئے اُن کی بھرپور حوصلہ افزائی ہو تو ملک کی بیٹیاں بے شمار کارنامے انجام دے سکتی ہیں صرف اسپورٹس میں نہیں ، ہر شعبے میں ۔