وزیرِ خزانہ اور کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے مرکزی وزارتوں اور سرکاری شعبے کے اداروں کے اثاثوں کی مونیٹائزیشن کے دوسرے مرحلے نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن ۰ء۲؍ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 12:00 PM IST | New Delhi
وزیرِ خزانہ اور کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے مرکزی وزارتوں اور سرکاری شعبے کے اداروں کے اثاثوں کی مونیٹائزیشن کے دوسرے مرحلے نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن ۰ء۲؍ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
وزیرِ خزانہ اور کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے مرکزی وزارتوں اور سرکاری شعبے کے اداروں کے اثاثوں کی مونیٹائزیشن کے دوسرے مرحلے نیشنل مونیٹائزیشن پائپ لائن ۰ء۲؍ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ این ایم پی ۰ء۲؍ کو نیتی آیوگ نے بنیادی ڈھانچے سے متعلق وزارتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ۲۰۲۵ء تا ۲۰۳۰ء کے لیے تیار کیا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ وزیرِ خزانہ نے بجٹ ۲۶۔۲۰۲۵ء میں اس کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
این ایم پی ۰ء۲؍ کے مطابق مالی سال ۲۰۲۶ء سے ۲۰۳۰ءتک پانچ برسوں میں مرکزی وزارتوں اور سرکاری اداروں کے اثاثوں کی مونیٹائزیشن پائپ لائن کے تحت نجی شعبے کی ۸ء۵؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سمیت مجموعی طور پر ۷۲ء۱۶؍لاکھ کروڑ روپے کے اثاثے بازار میں لائے جا سکتے ہیں۔
این ایم پی ۰ء۲؍ کو آج نیتی آیوگ کے سی ای او اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق وزارتوں، روڈ ٹرانسپورٹ، ریلوے، بجلی، پیٹرولیم و قدرتی گیس، شہری ہوا بازی، بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں، ٹیلی کمیونیکیشن، سیاحت، خوراک و عوامی تقسیم، کان کنی، کوئلہ اور ہاؤسنگ و شہری امور کے سکریٹریوں کے علاوہ وزارتِ خزانہ کے سیریٹریوں، قانون سکریٹری اور چیف اکنامک ایڈوائزر کی موجودگی میں جاری کیا گیا۔ این ایم پی ۰ء۱؍ کے نفاذ کے لیے چار برسوں میں ۶؍ لاکھ کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:اولمپک میں مضبوط اورچمپئن ایتھلیٹ ناکام کیوں ہوجاتے ہیں؟
نرملا سیتارمن نے کہا کہ این ایم پی ۰ء۲؍ تیز رفتار بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ذریعے ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف سے جڑا ہوا ہے اور اس میں ملک کی ترقی کی رفتار بڑھانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایم پی ۰ء۲؍ کا ہدف نہایت بلند ہے اور پہلے مرحلے کے مقابلے میں ۶ء۲؍ گنا زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مودی سرکار پر ہند-امریکہ معاہدہ کی شرائط میں تبدیلی کا دباؤ
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام پیداواری عوامی اثاثوں کی ری سائیکلنگ کو ممکن بناتا ہے، جس سے حاصل ہونے والی سرمایہ نئی منصوبہ بندی کے لیے وسائل فراہم کرتی ہے اور حکومت کے بجٹ اخراجات میں بھی کمی آتی ہے۔ کابینہ سکریٹری کی سربراہی میں این ایم پی پر سکریٹریوں کا ایک بااختیار کور گروپ تشکیل دیا گیا ہے، جو مونیٹائزیشن کے عمل کی نگرانی کرتا رہے گا۔