• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا سالانہ صدارتی خطاب

Updated: February 25, 2026, 1:47 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

امریکی آئین کے مطابق صدر مملکت سال میں ایک مرتبہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے مشترکہ خطاب کرتا ہے جو ’’اسٹیٹ آف یونین ایڈریس‘‘ کہلاتا ہے۔ امریکی سیاست میں اور بیرون امریکہ بھی اس کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اس خطاب کے دوران صدر مملکت سابقہ سال کی اپنی کامیابیوں کا احاطہ کرتا ہے اور آئندہ سال کے منصوبوں پر روشنی ڈالتا ہے۔

INN
آئی این این
  امریکی آئین کے مطابق صدر مملکت سال میں  ایک مرتبہ پارلیمنٹ کے دونوں  ایوانوں  سے مشترکہ خطاب کرتا ہے جو ’’اسٹیٹ آف یونین ایڈریس‘‘ کہلاتا ہے۔ امریکی سیاست میں  اور بیرون امریکہ بھی اس کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اس خطاب کے دوران صدر مملکت سابقہ سال کی اپنی کامیابیوں  کا احاطہ کرتا ہے اور آئندہ سال کے منصوبوں  پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس خطاب کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جب صدر اس خطاب کیلئے امریکی پارلیمنٹ (کیپٹل ہل) جاتا ہے تو وہ جتنی بھی دیر وہاں  ٹھہرتا ہے، بیٹھتا نہیں  ہے۔ وہ، بیٹھ کر خطاب کرنا چاہے تو یہ بھی ممکن نہیں  ہے۔ امریکی پارلیمانی روایت اس کی اجازت نہیں  دیتی۔ 
طے شدہ پروگرام کے تحت اس تقریب کا وقت منگل کی رات ۹؍ بجے کا تھا یعنی آج صبح، ہندوستانی وقت کے مطابق، ساڑھے سات بجے۔ جس وقت آپ یہ سطریں  پڑھ رہے ہونگے، صدارتی خطاب مکمل ہوچکا ہوگا۔ مگر چونکہ ان سطور کے لکھے جانے تک اسٹیٹ آف یونین ایڈریس شروع بھی نہیں  ہوا ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ، دوسرے دور کی صدارت کے اپنے پہلے مشترکہ خطاب میں  کیا کہیں  گے اور کیا نہیں  کہنا چاہیں  گے:
طے ہے کہ ٹرمپ اپنی اِمیگریشن پالیسی کا بکھان کرینگے کہ کس طرح اُنہوں  نے غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف محاذ کھولا اور ہزاروں  غیر قانونی تارکین کو امریکہ سے باہر کردیا۔ وہ یہ نہیں  کہیں  گے کہ بعض ملکوں  کے ساتھ بڑا ذلت آمیز رویہ اختیار کیا گیا اور اُن کے شہریوں  کو بیڑیاں  پہنا کر واپس بھیجا گیا۔ وہ یہ بھی نہیں  کہیں  گے کہ کس طرح اُن کی اِمیگریشن پالیسی خود اُن کے شہریوں  وبال جان بنی یہاں  تک کہ مینی پولیس میں ، جنوری ۲۶ء میں  دو امریکی شہری ہلاک ہوگئے۔ ٹرمپ یہ دعویٰ بھی کرینگے کہ اُن کی ٹیرف پالیسی کی وجہ سے امریکہ میں  مقامی شہریوں  کیلئے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں  روزگار کا حصول آسان ہوا، ٹیرف سے ہونے والی آمدنی میں  اضافہ ہوا اور جو ممالک بقول اُن کے امریکہ کو لو‘ٹ رہے تھے اُنہیں  ’’راہ راست‘‘ پر لایا گیا۔ مگر، وہ یہ نہیں  کہیں  گے کہ امریکی سپریم کورٹ نے (۲۰؍ فروری ۲۶ء کو) اُن کی ٹیرف پالیسی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، اسٹیٹ آف یونین ایڈریس میں  صدر بیٹھتا نہیں  ہے مگر نائب صدر اُن کے بالکل پیچھے مسند نشین ہوتا ہے۔ اسی طرح دونوں  ایوانوں  کے قانون ساز بھی اپنی نشستوں  پر بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اس تقریب کیلئے قانون سازوں  کے علاوہ سپریم کورٹ کے ججوں  اور ملٹری کے اعلیٰ افسران کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہر رکن پارلیمان کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ جس کو مدعو کرنا چاہتے ہیں ، کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ چند اراکین نے جیفرے ایپسٹین کے ظلم و جبر کی زد میں  آنے والے مظلوموں  کو شرکت کی دعوت دی ہے۔ 
ایپسٹین کے سیاہ کارناموں  کےمتاثرین وہاں  موجود ہونگے مگر غیر ممکن ہے کہ ٹرمپ ایپسٹین فائلز پر اظہار خیال کریں ۔ اس کے بدلے وہ ایران کے خلاف بولیں  گے اس کا قوی امکان ہے، مگر وہ، یہ ہرگز نہیں  کہیں  گے کہ دوران الیکشن اُنہوں  نے وعدہ کیا تھا کہ کسی بھی ملک پر جنگ مسلط نہیں  کی جائیگی۔ وہ یہ بھی نہیں  کہیں  گے کہ ایران پر حملے کی تیاری اسرائیلی لابی کو خوش کرنے کیلئے ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK