Updated: February 25, 2026, 3:03 PM IST
| Washington
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اسٹیٹ آف دی یونین نے شدید سیاسی ہلچل پیدا کر دی۔ خطاب میں انہوں نے معیشت کی مضبوطی، مہنگائی میں کمی، توانائی کی ریکارڈ پیداوار اور ایران کے خلاف سخت مؤقف جیسے دعوے کیے، تاہم متعدد میڈیا اداروں اور ماہرین نے ان بیانات پر فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے بعض دعوؤں کو مبالغہ آمیز یا جزوی قرار دیا۔ ایوان میں ال گرین کو احتجاج پر باہر نکال دیا گیا جبکہ رشیدہ طلیب اور الہان عمر نے مختلف انداز میں عدم اتفاق کا اظہار کیا۔ متعدد ارکان نے بائیکاٹ اور خاموش احتجاج بھی کیا۔ یہ خطاب مبینہ غلط بیانات، سیاسی تصادم اور بڑھتی ہوئی پولرائزیشن کی علامت بن گیا، جو آئندہ وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ۲۰۲۶ء کے اسٹیٹ آف دی یونین نے جہاں حکومتی دعوؤں کو نمایاں کیا، وہیں اسے شدید سیاسی محاذ آرائی، مبینہ غلط بیانات اور کانگریس کے اندر کھلے احتجاج کی وجہ سے غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی۔ خطاب کے بعد مختلف میڈیا اداروں نے فیکٹ چیک جاری کیے، جبکہ ایوان کے اندر متعدد ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے احتجاج اور مداخلت نے ماحول کو کشیدہ بنا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ۲۰۲۶ء
مبینہ غلط بیانات اور متنازع دعوے
(۱) مہنگائی اور معاشی دعوے
صدر ٹرمپ نے کہا کہ مہنگائی پانچ سال کی کم ترین سطح پر ہے اور معیشت تاریخی مضبوطی کی طرف گامزن ہے۔
آزاد ماہرین کے مطابق افراطِ زر میں کمی ضرور ہوئی، مگر قیمتوں کی مجموعی سطح اب بھی عام امریکی کے لیے دباؤ کا باعث ہے۔ رہن کی شرح اور ایندھن کی قیمتوں سے متعلق بیانات کو جزوی قرار دیا گیا۔
(۲) فوڈ اسٹیمپ اور روزگار
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ لاکھوں افراد فوڈ اسٹیمپ پروگرام سے نکلے۔
تجزیہ کاروں نے واضح کیا کہ پروگرام سے اخراج کے پیچھے سخت اہلیت شرائط بھی ہو سکتی ہیں، صرف معاشی بہتری نہیں۔
(۳) توانائی میں ریکارڈ پیداوار
قدرتی گیس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافے کا دعویٰ کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طویل مدتی رجحان ہے جس میں پچھلی انتظامیہ کی پالیسیاں بھی شامل رہی ہیں۔
(۴) ایران اور قومی سلامتی
ایران پر جوہری سرگرمیوں کی بحالی کا الزام لگایا اور سخت مؤقف اپنایا۔
سفارتی ماہرین نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات مکمل طور پر عوامی نہیں، اس لیے دعوؤں کی حتمی تصدیق مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آپریشن سیندور میں شہباز شریف مارے جا سکتے تھے، میں نے بچایا؛ ڈونالڈ ٹرمپ
(۵) جنوبی ایشیا سے متعلق بیان
صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کی مداخلت نے ماضی میں جنوبی ایشیا میں ممکنہ تصادم کو روکا۔
اس دعوے کی آزاد سطح پر براہِ راست تصدیق نہیں مل سکی، جس پر سیاسی بحث چھڑ گئی۔
(۶) ڈی ای آئی پروگرام کا خاتمہ
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ Diversity, Equity & Inclusion پروگرام مکمل ختم کر دیے گئے ہیں۔
بعض وفاقی اداروں میں صرف نام اور پالیسی ڈھانچے کی تبدیلی کی تصدیق ہوئی، مکمل خاتمے کے دعوے پر سوالات اٹھے۔
ایوان میں تصادم اور احتجاج
(۱) ال گرین کا احتجاج
ڈیموکریٹ رکن Al Green نے نسل پرستی کے خلاف پلے کارڈ اٹھایا۔ انہیں ایوان سے باہر نکال دیا گیا، جس سے خطاب کے آغاز ہی میں ماحول کشیدہ ہو گیا۔
(۲) رشیدہ طلیب کا علامتی پن
رکن کانگریس رشیدہ طلیب نے F–k ICE لکھا ہوا پن پہن رکھا تھا۔ریپبلکن اراکین نے اسے غیر مہذب رویہ قرار دیا، جبکہ ان کے حامیوں نے اسے احتجاجی اظہار کہا۔
(۳) الہان عمر کی مداخلت اور ردِعمل
رکن کانگریس الہان عمر نے خطاب کے دوران امیگریشن اور خارجہ پالیسی سے متعلق نکات پر آواز اٹھائی۔ بعض مواقع پر انہوں نے صدر کے بیانات پر عدم اتفاق کا اظہار کیا اور خاموش احتجاج میں شریک رہیں۔ ریپبلکن حلقوں نے ان کے رویے کو ایوان کی روایت کے منافی قرار دیا، جبکہ ڈیموکریٹ ارکان نے اسے جمہوری اختلاف رائے کا حصہ بتایا۔
(۴) ڈیموکریٹس کا بائیکاٹ اور خاموش احتجاج
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے تالیاں نہ بجا کر اور نشستوں پر خاموش رہ کر احتجاج کیا۔کچھ ارکان نے خطاب کا مکمل بائیکاٹ بھی کیا۔
(۵) لفظی جھڑپیں
خطاب کے دوران نعرے بازی اور آوازیں بلند ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ماحول رسمی اجلاس سے زیادہ سیاسی محاذ آرائی کا منظر پیش کرتا رہا۔
میڈیا اور عوامی ردِعمل
قومی میڈیا نے خطاب کے بعد فوری فیکٹ چیک شائع کیے۔
سوشل میڈیا پر صدر کے حامیوں اور ناقدین کے درمیان شدید بحث دیکھنے میں آئی۔
بعض حلقوں نے اسے مضبوط قیادت کا مظاہرہ کہا، جبکہ دیگر نے اسے مبالغہ آمیز اور تقسیم پیدا کرنے والا خطاب قرار دیا۔
سیاسی اثرات
مبینہ غلط بیانات اور ایوان کے اندر تصادم نے امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی پولرائزیشن کو مزید واضح کیا۔ یہ خطاب آئندہ وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اس نے حمایت اور مخالفت دونوں حلقوں کو مزید متحرک کر دیا ہے۔