• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ، ایران اور اسرائیل کی پرائی جنگ!

Updated: February 25, 2026, 1:42 PM IST | Pervez Hafeez | mumbai

ایران سے امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ٹرمپ کے پاس ایران پر چڑھائی کرنے کا کوئی ٹھوس، قابل فہم اور مضبوط سبب بھی نہیں ہے۔ امریکہ ایران سے جنگ اسلئے چاہتا ہے کہ کیونکہ اسرائیل بلکہ نیتن یاہو یہ چاہتا ہے ۔

INN
آئی این این
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے منحوس قدم جب جب امریکہ میں  پڑتے ہیں  ایران کے افق پر جنگ کے سیاہ بادل منڈلانے لگتے ہیں ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدہ پرجوں  ہی جینوا میں  مذاکرات شروع ہوئے نیتن یاہو واشنگٹن جا پہنچے۔ انہوں  نے ڈونالڈ ٹرمپ کو ورغلایا کہ ایرن کے صرف جوہری پروگرام پر لگام لگانے سے کام نہیں  چلے گا بلکہ اسے اپنے بیلسٹک میزائیل کے پروگرام سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا اور خطے میں  اپنے علاقائی پراکسی گروہوں  حزب اللہ اورحوثیوں  کی امداد بھی بند کرنا ہو گی۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو مذاکرات کے اگلے راؤنڈ میں  ایسی شرائط مسلط کرنے کا مشورہ دیا ہے جن کاتہران کے لئے ماننا ممکن نہ ہواور نتیجے میں  امریکہ ایران پر حملہ کردے۔ ذہن نشیں  رہے کہ ایران سے امریکہ کوکوئی خطرہ لاحق نہیں  ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ پر ایک بار پھر ایران پر چڑھائی کرنے کا جنون طاری ہے۔ٹرمپ نے ’’امریکہ فرسٹ‘‘کے نعرے پر الیکشن جیتا تھا لیکن وہ بار بار ثابت کررہے ہیں  کہ ان کی حکومت کا حقیقی نصب العین ’’ اسرائیل فرسٹ‘‘ ہے۔ نیویارک ٹائمز کے معروف کالم نویس ٹامس فریڈ مین نے دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو ٹرمپ کو اپنی انگلیوں  پر نچا رہے ہیں ۔ فریڈمین جو خود امریکی یہودی اور پکے اسرائیل نواز ہیں  لکھتے ہیں :’’بنجامن نیتن یاہو کی قیادت والی اسرائیل کی انتہائی دائیں  بازو کی حکومت امریکہ کے چہرے پر تھوک رہی ہے اور ہمیں  یہ سمجھا رہی ہے کہ بارش ہورہی ہے۔ بی بی (نیتن یاہو) امریکہ اور امریکی یہودی دونوں  کو بیوقوف بنارہے ہیں ۔‘‘
 کسی ملک کے خلاف جنگ سے قبل امریکی حکمراں  اکثراس جنگ کا کوئی جواز یا مقصد یابہانہ ایجاد کرلیتے ہیں  تاکہ ملک کے عوام اور امریکی کانگریس دونوں  کی آنکھوں  میں  دھول جھونک سکیں ، دنیا کے سامنے اپنے ناپاک عزائم کو جائز ٹھہراسکیں  اور ضروری ہوجائے تو اقوام متحدہ کی رسمی اجازت بھی حاصل کرسکیں ۔ جنگ کے اس جواز یا بہانہ کو casus belli کہتے ہیں ۔ ٹرمپ ایران پر بم گرانے کے لئے مچل تو رہے ہیں  لیکن ابھی تک اس جارحیت کا کوئی جواز پیش کرنے میں  ناکام رہے ہیں ۔جون میں  ایران پر بمباری کرکے ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی جوہری تنصیبات کا مکمل طور پرصفایا کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ دعویٰ آج بھی وہائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر موجود ہے اس لئے ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے عزم کا اظہار بوگس لگتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ٹرمپ کے پاس ایران کو ٹھکانے لگانے کا کوئی ٹھوس، قابل فہم اور مضبوط سبب نہیں  ہے۔ایران سے امریکہ جنگ اس لئے چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل بلکہ نیتن یاہو یہ چاہتا ہے۔ ’’ایران بہت جلد ایٹمی ہتھیار تیار کرلے گا‘‘ کا شور مچاکر نیتن یاہو پچھلی تین دہائیوں  سے امریکہ کے متعدد صدور کو ایران پر حملہ کرنے کے لئے اکساتے رہے ہیں ۔ نیتن یاہو نے عراق پر بھی امریکی حملے کی اسی طرح وکالت کی تھی۔ 
اب اسرائیل ، ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو راستے سے ہٹاکر اور رجیم چینج کرواکر تہران کے موجودہ سیاسی نظام کویکسر بدل دینے کامنصو بہ بنارہاہے۔ ایرانی ولی عہد رضا پہلوی کوجو چالیس برسوں  سے امریکہ میں  جلاوطنی کی زندگی گزاررہے ہیں ، تہران کے راج سنگھاسن پر بٹھانے کی سازش بھی رچی جارہی ہے۔  نیتن یاہو کی خوشنودی کی خاطر ٹرمپ اپنے پہلے دور اقتدار میں  ایسے اقدام کرچکے ہیں  جو ان سے پہلے کسی امریکی صدر نے نہیں  کئے تھے۔ ٹرمپ نے متنازع یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرکے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کردیا اور گولان پہاڑیوں  پر غیر قانونی اسرائیلی تسلط کو بھی تسلیم کرلیا۔ ٹرمپ نے ہی متحدہ عرب امارات، بحرین، مراقش اورسوڈان جیسے ممالک کو فلسطینی مسئلہ کو درکنار کرکے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پرمجبور کیا۔ آج ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے کی ٹرمپ کی بیتابی دیکھ کرہنسی آتی ہے کیونکہ اوبامہ  نے ۲۰۱۵ء  میں  ہی پانچ بڑی عالمی طاقتوں  اور اقوام متحدہ کے اشتراک سے ایران کے ساتھ ایک بہترین جوہری معاہدہ (JCPOA) کرلیاتھا جسے ٹرمپ نے ۲۰۱۸ء میں  اسرائیل کی ہدایت پر پھاڑ کر پھینک دیا تھا۔
ٹرمپ کے دوسرے دور اقتدار میں  نیتن یاہو کے اشارے  ایک بار پھر امریکہ بہت بڑے پیمانے پر جنگی تیاریاں  کررہا ہے۔ جیرالڈ فورڈ اور ابراہم لنکن نامی دنیا کے خطرناک ترین جنگی بحری بیڑے ایران کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ خلیجی ریاستوں  میں  واقع امریکی ملٹری اڈوں  پر چالیس سے پچاس ہزار فوجی کیل کانٹوں  سے لیس ہوکر ایران پر پل پڑنے کیلئے اپنے کمانڈر ان چیف ٹرمپ کے ایک اشارے کے منتظر ہیں ۔ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ ٹرمپ کو حیرت ہے کہ امریکہ کی بے پناہ جنگی تیاریاں  کے باوجودایران نے ابھی تک ان کے سامنے خود سپردگی کیوں  نہیں  کی جبکہ کوئی اور ملک ہوتا تو اب تک ہتھیار ڈال چکا ہوتا۔ لگتا ہے ٹرمپ اگر اعصابی جنگ میں  ایران کو شکست دے کر اپنی من مانی شرائط پر نیا جوہری معاہدہ کرانے میں  کامیاب ہوجاتے ہیں  تو شاید وہ حقیقی جنگ سے گریز کریں ۔
لیکن اگر جنگ چھڑی تو وہ امریکہ اور ایران کی جنگ نہ رہ کر پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں  لے لے گی ۔ ایران حملے کی صورت میں  واپس واشنگٹن یا نیو یارک پر تو جوابی حملہ کرنے کی پوزیشن میں  نہیں  ہے لیکن خلیجی خطے میں  موجود درجن بھر امریکی ملٹری اڈوں  کو وہ نشانہ بناہی سکتا ہے۔ نیتن یاہو اپنے خودغرضانہ مفاد کی خاطر ہزاروں  امریکی فوجیوں  کی زندگیوں  کو داؤ پر لگارہے ہیں ۔ ایران ابنائے ہرمز کو بند کرکے تیل کی عالمی قیمتوں  کو آسمان پر پہنچا سکتا ہے۔
 
 
ٹرمپ نے بش جونیئر کی عراق جنگ کو امریکہ کی ’’صدارتی تاریخ کا بدترین فیصلہ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ احمقانہ فیصلہ مشرق وسطیٰ سے یورپ تک پھیلے تمام عالمی مسائل کی جڑ تھا۔ میں  سمجھتا ہوں  کہ صہیونیوں  کے بہکاوے میں  آکر اگر ٹرمپ ایک غیر ضروری اور احمقانہ جنگ میں  امریکہ کو گھسیٹیں  گے تو اس کے نتائج عراق جنگ سے بھی زیادہ ہلاکت خیز اور تباہ کن ہونگے۔ ٹرمپ ایک مختصر اور محدود جنگ کی پلاننگ کررہے ہیں  لیکن جب ایک بار جنگ شروع ہوجائے تو کوئی پاگل شخص ہی یہ پیشن گوئی کرسکتا ہے کہ وہ دو دن میں  ختم ہوگی یا دو سال میں ۔ اگر ایپسٹین فائلز میں  پوشیدہ اپنی کالی کرتوتوں  سے امریکی عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے ٹرمپ جنگ کا سہارا لے رہے ہیں  پھر بھی سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا وسط مدتی انتخابات سے قبل اس طرح کا رسک لینا درست ہے؟ امریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈین کین نے بھی ٹرمپ کو آگاہ کردیا ہے کہ بڑی کٹھن ہے ڈگر ایرانی پنگھٹ کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK