Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ گھر گھر بولتی ہے!

Updated: April 01, 2026, 11:26 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

علم و ادب کا ذوق رکھنے والے ہر شخص کے ذہن میں اِن دنوں ’’مور ناچ‘‘ میں شامل نداؔ فاضلی کی نظم ضرور گونج رہی ہوگی جس میں اُنہوں نے کہا تھا: ’’سرحدوں پر فتح کا اعلان ہوجانے کے بعد/ جنگ / بے گھر بے سہارا / سرد خاموشی کی آندھی میں بکھر کے/ ذرہ ذرہ پھیلتی ہے/ تیل، گھی، آٹا، کھنکتی چوڑیوں کا روپ بھر کے/ بستی بستی ڈولتی ہے/ دن دہاڑے/ ہر گلی کوچے میں گھس کر / بند دروازوں کی سانکل کھولتی ہے/ مدتوں تک/ جنگ/ گھر گھر بولتی ہے/ سرحدوں پر فتح کا اعلان ہوجانے کے بعد‘‘۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو ایک ماہ گزرا ہے مگر جنگ گھر گھر بولنے لگتی ہے۔

Gas Supply.Photo:INN
گیس سپلائی۔ تصویر:آئی این این
علم و ادب کا ذوق رکھنے والے ہر شخص کے ذہن میں اِن دنوں ’’مور ناچ‘‘ میں شامل نداؔ فاضلی کی نظم ضرور گونج رہی ہوگی جس میں اُنہوں نے کہا تھا: ’’سرحدوں پر فتح کا اعلان ہوجانے کے بعد/ جنگ /  بے گھر بے سہارا /  سرد خاموشی کی آندھی میں بکھر کے/ ذرہ ذرہ پھیلتی ہے/  تیل، گھی، آٹا، کھنکتی چوڑیوں کا روپ بھر کے/  بستی بستی ڈولتی ہے/  دن دہاڑے/  ہر گلی کوچے میں گھس کر /  بند دروازوں کی سانکل کھولتی ہے/  مدتوں تک/  جنگ/  گھر گھر بولتی ہے/  سرحدوں پر فتح کا اعلان ہوجانے کے بعد‘‘۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو ایک ماہ گزرا ہے مگر جنگ گھر گھر بولنے لگتی ہے۔ گیس سلنڈر کی قلت اور مہنگائی، پٹرول اور ڈیزل کی فراہمی پر منڈلاتے خطرات کے بادل، کئی جگہوں پر ان کیلئے ہاہاکار، پٹرول پمپوں پر طویل قطاریں، حالات کے پیش نظر شادیوں میں دعوتی لوازمات میں کٹوتی، گویا بہت کچھ ظاہر ہونے لگا ہے۔مزید کیا کچھ ظاہرہوگا کہا نہیں جاسکتا۔ بات کسی ایک ملک کی نہیں ہے، اس جنگ کے اثرات بہت سے ملکوں پر ظاہر ہونگے اسلئے بھی کہ عالمی معیشت کو اس سے نقصان ہورہا ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ رائٹرس کی ایک خبر میں امریکہ، یورپ اور جاپان کے پرچیزنگ منیجروں کو بھیجے گئے ایک سوالنامے کے جوابات کا خلاصہ شامل کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’یورو‘‘ میں کاروبار کرنے والی ۲۱؍ معیشتوں کی نجی زمرہ کی کمپنیوں نے مال کی ڈلیوری میں تاخیر اور اضافی لاگت کی شکایت کرتے ہوئے تجارتی نمو (گروتھ) کے رُک جانے کی توثیق کی۔ جی سیون ملکوں نے کچھ بہتر تجارتی سرگرمیوں کی بات کہی مگر یہ اعتراف کیا کہ تجارتی نمو گزشتہ چھ ماہ کی کمترین سطح پر ہے ۔
 
 
خلیجی ممالک پہلے دن سے متاثر ہورہے ہیں اور جب تک جنگ بند نہیں ہوتی، آبنائے ہرمز کھل نہیں جاتی اور غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ نہیں ہوجاتا تب تک اُن ملکوں سے برآمدات کا نظام بحال نہیں ہوسکتا۔ اس تعطل کی وجہ سے کھاد برآمد کرنے والے خلیجی ملکوں کو تجارتی نقصان تو ہے، کھاد درآمد کرنے والے ملکوں کو بھی ناگفتہ بہ مسائل کا سامنا ہے۔ خود ہمارے ملک ہندوستان میں یوریا اور دیگر کی قلت اور مہنگائی کا اندیشہ دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔کھاد کارخانوں سے لے کر کھاد درآمد کرنے والے ملکوں کے الگ الگ مراکز تک جو سپلائی چین ہوتی ہے، بُری طرح متاثر ہے۔ خلیجی ملکوں کے کئی بڑے اداروں نے مینوفیکچرنگ بند کردی ہے۔ یوریا کا دُنیا کا سب سے بڑا پلانٹ قطر میں ہے اور یہاں بھی پروڈکشن شدید طور پر متاثر ہے۔ یوریا کی قلت غذائی پیداوار پر اثر انداز ہوگی اور غذائی قلت کا سبب بنے گی۔ اس کے مقابلے کیلئے الگ الگ ملکوں کی حکومتیں کتنے مؤثر اقدام کرتی ہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا مگر ایک بات طے ہے کہ سخت اور سنگین حالات سے اُن ملکوں کو بھی جوجھنا پڑ سکتا ہے جو بظاہر ترقی یافتہ اور ہر طرح خوشحال ہیں جیسے امریکہ ، یورپی ممالک اور خود خلیجی ممالک جہاں تیل کی دولت کے انکشاف کے بعد حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ پوری دُنیا کی نگاہیں خلیج پر مرکوز ہوگئیں۔ 
 
 
ہندوستان کیلئے این آر آئیز کی رقوم کا بھی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے جو ہماری معیشت کو خاصی تقویت دیتی ہیں۔ اس کا اندازہ ۲۰۲۵ء میں بھیجی گئی رقوم سے لگایا جاسکتا ہے جو ۱۳۵ء۴۶؍ ارب ڈالر (اب تک کی سب سے زیادہ) تھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK