مغربی ایشیا میں تنازع کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے دوران بدھ کے روز کمرشیل مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں۵ء۱۹۵؍ روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔
EPAPER
Updated: April 01, 2026, 12:06 PM IST | New Delhi
مغربی ایشیا میں تنازع کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے دوران بدھ کے روز کمرشیل مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں۵ء۱۹۵؍ روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔
مغربی ایشیا میں تنازع کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے دوران بدھ کے روز کمرشیل مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں۵ء۱۹۵؍ روپے کا اضافہ کر دیا گیا، پی ٹی آئی نے رپورٹ کیا۔ دہلی میں ۱۹؍ کلوگرام کا کمرشیل ایل پی جی سلنڈر اب۵ء۲۰۷۸؍ روپے میں دستیاب ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اس سے قبل یکم مارچ کو ۱۹؍کلوگرام سلنڈر کی قیمت میں ۵ء۱۱۴؍ روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ گھریلو استعمال کے ایل پی جی کی قیمت، جس میں ۷؍ مارچ کو۲ء۱۴؍ کلوگرام سلنڈر پر ۶۰؍ روپے اضافہ کیا گیا تھا، بدستور برقرار ہے۔ قومی دارالحکومت میں اس کی قیمت ۹۱۳؍ روپے فی۲ء۱۴؍ کلوگرام سلنڈر ہے۔ سرکاری تیل کمپنیاں جیسے انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو عالمی قیمتوں اور زرِ مبادلہ کی شرح کے مطابق ایوی ایشن ٹربائن فیول اور ایل پی جی کی قیمتوں میں رد و بدل کرتی ہیں۔
۲۸؍ فروری کو مغربی ایشیا میں تنازع شروع ہونے کے بعد ہندوستان کو توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر زیادہ تر تجارتی جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً ۲۰؍ فیصد پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں۔ اس صورتحال نے ہندوستان میں ایل پی جی کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ ملک اپنی تقریباً ۶۰؍ فیصد ایل پی جی کی ضرورت درآمد کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔
عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بدھ کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ۱۱۵؍ ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر ۱۰۵؍ ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ ۲۷؍ فروری کو یہ ۷۸؍ ڈالر فی بیرل تھی۔ مرکزی حکومت صارفین سے اپیل کر رہی ہے کہ جہاں ممکن ہو وہ پائپڈ نیچرل گیس استعمال کریں تاکہ ایل پی جی پر دباؤ کم ہو۔ حکومت نے ریاستوں کو اضافی کمرشیل ایل پی جی فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے، بشرطیکہ وہ پی این جی نیٹ ورک کی توسیع میں سہولت فراہم کریں۔
یہ بھی پڑھئے:’’آخری سپر اسٹار‘‘ کا تصور غلط ہے: عامر خان
اتوار کے روز حکومت نے ایل پی جی پر دباؤ کم کرنے کے لیے ۶۰؍ دن کے ہنگامی اقدام کے طور پر پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کے تحت مٹی کے تیل کی عارضی فراہمی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو دی۔ یہ مٹی کا تیل کھانا پکانے اور روشنی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس فراہمی میں وہ ۲۱؍ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے بھی شامل ہیں جنہیں پہلے پی ڈی ایس سپیریئر کیروسین آئل سے پاک قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:بوسنیا سے ہار کر اٹلی فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء سے باہر، مسلسل تیسری بار موقع گنوا دیا
مغربی ایشیا میں تنازع اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل اور امریکہ نے ۲۸؍ فروری کو ایران پر حملہ کیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ تہران کی کارروائیاں اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ ہیں۔ امریکہ اسرائیل کی سلامتی کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خلیجی ممالک کے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے، جس سے خطے کے سیکوریٹی توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔