جگدیپ دھنکر نے، جو اِدھر ایک عرصے سے سپریم کورٹ کو بھی نہیں بخش رہے تھے، اچانک استعفےٰ دے کر سب کو حیران کردیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی منصوبہ کے بغیر اچانک کسی بات سے ناراض ہوکر استعفےٰ دیا ہے مگر یہ بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ اُن سے استعفےٰ طلب کیا گیا ہو۔
جگدیپ دھنکھر۔ تصویر: آئی این این
جگدیپ دھنکر نے، جو اِدھر ایک عرصے سے سپریم کورٹ کو بھی نہیں بخش رہے تھے، اچانک استعفےٰ دے کر سب کو حیران کردیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی منصوبہ کے بغیر اچانک کسی بات سے ناراض ہوکر استعفےٰ دیا ہے مگر یہ بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ اُن سے استعفےٰ طلب کیا گیا ہو۔ جس دن اُنہوں نے استعفےٰ دیا، اُسی دن راجیہ سبھا میں بی جے پی کے صدر اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے، ایوان کے اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے کو پہلگام سانحہ پر اظہار خیال کی اجازت دیئے جانے پر ایوان کے ضابطے کا حوالہ دیا اور اعتراض کیا تھا۔ اس دوران اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’کوئی چیز ریکارڈ پر نہیں جائیگی، ریکارڈ پر وہی رہے گا جو مَیں کہہ رہا ہوں‘‘ تو کہیں دھنکر کو یہی بات تو بُری نہیں لگی کہ ایسا کہنے کا اختیار تو صرف اُن کا ہے؟ایک تھیوری جسٹس یشونت ورما کے خلاف تحریک مؤاخذہ کی بھی ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ دھنکر نے ایوان میں کہہ دیا تھا کہ اُنہیں اپوزیشن کی جانب سے تحریک موصول ہوئی ہے۔ یہ تھیوری پیش کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے سے اپنے انداز میں نمٹنا چاہتی تھی مگر دھنکر نے گڑبڑ کردی۔ یہ بات حلق سے نہیں اُترتی کیونکہ ’’غلطی‘‘ کو ’’سدھارا‘‘ جاسکتا تھا اس کیلئے استعفےٰ کیوں لیا گیا؟
دھنکر نے صحت کو بنیاد بناکر استعفےٰ دیا ہے جبکہ اُن کے صحتمند ہونے میں کسی کو شبہ نہیں، اس لئے بھی نہیں کہ وہ ایوان میں ہشاش بشاش تھے۔ اسی لئے قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ ہو نہو کوئی بات ضرور ہے جس کی بناء پر اُنہوں نے اتنا بڑا قدم اُٹھایا۔ جب تک خود دھنکر اصل وجہ نہیں بتاتے کوئی کچھ بھی کہے وہ قیاس آرائی ہی کہلائیگا۔ بہرحال دھنکر صاحب آناً فاناً استعفےٰ نہ دیتے اگر سب کچھ ٹھیک ہوتا۔ اُن کے پاس ابھی اپنے عہدہ کی دو سالہ مدت باقی تھی۔ یہی نہیں، ہمارے ہاں نائب صدر سے صدر کے عہدہ پر ترقی کی روایت موجود ہے۔ یہ موقع دھنکر کے پاس بھی تھا۔ جس انداز سے اُنہوں نے مغربی بنگال کے گورنر کی حیثیت سے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کیا یا جس طرح وہ ایوان کی کارروائی چلاتے تھے وہ حکمراں جماعت کی مرضی و منشاء کے عین مطابق تھا۔ ایوان کے اندر بھی اور باہر بھی اُن کے سلسلۂ جنبانی سے یہی تاثر ملتا رہاکہ وہ مزید عہدوں کے متمنی ہیں۔ اس لئے اُن کا حکمراں جماعت کی ’’گڈ بُک‘‘ میں ہونا شک و شبہ سے باہر تھا۔ اس کے باوجود اُنہوں نے استعفےٰ دیا جو فوری طور پر قبول ہوگیا۔ اُن سے یہ تک نہیں کہا گیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ پردہ کے پیچھے ضرور کچھ ایسا ہے جو نہ تو پردہ پر آرہا ہے نہ پردہ ہٹ رہا ہے۔ کیا وہ طے کرچکے تھے کہ استعفےٰ دینا ہے اسی لئے اُنہوں نے کھرگے کو وہ باتیں کہنے کا موقع دیا جو وہ کہنا چاہتے تھے؟
ہرچند کہ موجودہ سیاست میں اب تک کی بہت سی روایتو ںکو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے مثلاً سپریم کورٹ کے چیف جسٹس راجیہ سبھا کی رُکنیت قبول کرلیتے ہیں یا جج صاحب گورنری کو اعزاز سمجھ لیتے ہیں مگر یہ ممکن نہیں کہ دھنکر صاحب ایسا کوئی عہدہ قبول کریں۔ یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اُنہیں اُس خلاء کو پُر کرنے کیلئے فارغ کیا گیا ہو جو بی جے پی میں گزشتہ دو سال سے ہے یعنی پارٹی کا صدر۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ، جو فی الحال کسی پارٹی کے ممبر نہیں ہیں، کسی بی جے پی مخالف پارٹی میں شامل ہوجائیں، اُن کا ماضی تو غیر بی جے پی ہی رہا ہے، مگر کیا بی جے پی کے عطیات (گورنری اور نائب صدر جمہوریہ کا عہدہ) قبول کرنے اور بی جے پی نیز آر ایس ایس کی مدح سرائی کرنے کے بعد وہ ایسا کرپائینگے۔