Inquilab Logo Happiest Places to Work

کاروباریوں کو سال میں ۲؍ہزار کروڑ روپے کے مالی فوائد فراہم کیے: امیزون بزنس

Updated: March 13, 2026, 7:33 PM IST | New Delhi

ای کامرس پلیٹ فارم امیزون بزنس نے کہا ہے کہ اس نے سال ۲۰۲۵ ؍میں ہندوستان کے صنعت و تجارت کے شعبے کی اکائیوں کو ۲؍ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے مالی فوائد حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔

Amazon.Photo:INN
امیزون۔ تصویر:آئی این این

 ای کامرس پلیٹ فارم امیزون بزنس نے کہا ہے کہ اس نے سال ۲۰۲۵ ؍میں ہندوستان کے صنعت و تجارت کے شعبے کی اکائیوں کو ۲؍ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے مالی فوائد حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔
کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے ساتھ جڑ کر چھوٹے کاروباروں سے لے کر بڑی کمپنیوں تک کو اس کے پلیٹ فارم پر کیش بیک انعامات، بڑی مقدار میں رعایتوں اور خصوصی سودوں کے ذریعے فائدہ ملا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان اکائیوں کو اس قدر کا ایک بڑا حصہ امیزون بزنس پر دستیاب آسان جی ایس ٹی کے مطابق انوائسنگ کی سہولت سے بھی حاصل ہوا ہے۔
امیزون بزنس کے ڈائریکٹر مترنجن بھدوری نے کہا کہ ہر ادارہ چاہے وہ کسی دور دراز پہاڑی علاقے کا ایک خصوصی ریستوران ہو یا فارچون ۵۰۰؍کمپنی، سب کم وسائل میں زیادہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ امیزون بزنس وسیع انتخاب، مسابقتی قیمتوں اور ڈیجیٹل خریداری کی سہولت فراہم کرکے انہیں اس میں مدد دیتا ہے۔ ۲۰۲۵ءمیں ہمارے صارفین کو ۲؍ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا مالی فائدہ حاصل ہوا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب کوئی ادارہ بہتر ڈھانچہ اور سہولیات تیار کرکے شفاف طریقہ کار اور صارف مرکز حکمت عملی اپناتا ہے تو حقیقی فائدہ سامنے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:روہت شرما اس وقت سب سے فٹ اور مضبوط کھلاڑی ہیں: آکاش چوپڑا


انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ان کے پلیٹ فارم کے ذریعے کل فروخت میں ۴۰؍ فیصد سے زیادہ مرکب سالانہ شرح نمو کے ساتھ اضافہ ہوا ہے، جبکہ مجموعی فروخت میں تقریباً ۳۵؍ فیصد اور رجسٹرڈ صارفین کی تعداد میں ۳۰؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سب سے مضبوط رجحان ٹئیر-۲؍ اور ٹئیر-۳؍شہروں میں دیکھا گیا ہے، جیسے شمال اور مغرب میں سورت اور لدھیانہ، اور جنوب میں کوئمبٹور اور کوچی جیسے شہر۔ یہ شہر اس کے صارفین کی بنیاد میں ۷۰؍ فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ آن لائن خریداری کی طرف تبدیلی اب صرف میٹرو شہروں تک محدود نہیں رہی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK