Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہ مسئلہ سنگین ہے اس پر توجہ کون دیگا؟

Updated: April 03, 2026, 2:36 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

نہ سنجیدہ گفتگو نہ سنجیدہ غور و خوض۔ ایک جملے میں یہ ہمارا طرز عمل ہے۔ ہم ایک مسئلہ کو لے کر بیٹھتے ہیں اور دوسرے سے غافل رہتے ہیں ، تیسرے کے بارے میں ہمارا احساس اور شعور ابھی بیدار نہیں ہوا ہے اور چوتھے پانچویں کو تو ہم مسئلہ سمجھتے ہی نہیں ہیں ۔

INN
آئی این این
  نہ سنجیدہ گفتگو نہ سنجیدہ غور و خوض۔ ایک جملے میں  یہ ہمارا طرز عمل ہے۔ ہم ایک مسئلہ کو لے کر بیٹھتے ہیں  اور دوسرے سے غافل رہتے ہیں ، تیسرے کے بارے میں  ہمارا احساس اور شعور ابھی بیدار نہیں  ہوا ہے اور چوتھے پانچویں  کو تو ہم مسئلہ سمجھتے ہی نہیں  ہیں ۔ اس طرح آگے بڑھتے رہئے، بے حسی دس سوالوں  کا جواب دینے کے بجائے پکار اٹھے گی کہ میں  یہاں  بھی ہوں  اور وہاں  بھی۔ افسوس کیجئے کہ کئی مسائل تشویشناک اور سنگین صورت اختیار کرچکے ہیں  مگر ہم بے فکر ہیں  کیونکہ ان مسائل کو ہم نے سمجھا ہی نہیں  ہے جبکہ اُن کا ضرر ہمیں  مسلسل پہنچ رہا ہے۔
اس تمہید کے بعد اگر ہم براہ راست اپنے موضوع پر آجائیں  تو ممکن ہے قارئین چونک پڑیں  یا یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں  کہ بات تو مسائل کی ہورہی تھی۔ اس کا احتمال اس لئے ہے کہ ہم لوگ غربت اور معاشی ناہمواری، فرقہ پرستی، سیاست کی پیدا کردہ مشکلات (مثلاً وقف قانون، مسلمانوں  کے ریزرویشن کی فائل کا بند کر دیا جانا، لوَ جہاد قانون) وغیرہ ہی کو مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ بلاشبہ یہ مسائل ہیں  جو توجہ طلب بھی ہیں  اور حل طلب بھی مگر ان کیخلاف ملت کو جوڑنے، سرگرم ہونے، اپنا بچا کھچا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے اور قانونی مدد لینے کا وقت بھی ہمارے پاس ہے یا ہوتا ہے۔ جس مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرانا اس کالم میں  مقصود ہے وہ اپنی اور دوسروں  کی جان بچانے سے متعلق ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں  کہ اپنی اور دوسروں  کی جان بچانے کی فکر بہت اہم اور بڑی ذمہ داری ہے۔ یہ دینی فریضہ بھی ہے اور دنیوی تقاضا بھی مگر بڑھتے سڑک حادثات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں  کہ اس فریضے اور تقاضے کو پورا کرنے میں  ہم سب بری طرح ناکام ہیں ۔
اگر یہ مسئلہ ہے تو آپ ہی بتائیے اس کے حل میں  معاشرہ کیا کردار ادا کررہا ہے؟ والدین اپنے بیٹوں  کو مہنگی سے مہنگی بائیک دلوا دیتے ہیں  یا بیٹا اپنے پیسوں  سے خرید لیتا ہے تو اس کو شاباشی دیتے ہیں  مگر یہ بھول جاتے ہیں  کہ بائیک کیسے چلائی جائے یا بائیک چلاتے وقت اصولوں  کی پاسداری کتنی ضروری ہے یہ سمجھانا اور ایسی باتوں  کی تلقین کرنا بھی ان کا فرض ہے۔ لڑکے بائیک یا کار اس طرح چلاتے ہیں  جیسے ہوا سے باتیں  کئے بغیر بائیک یا کار چلائی تو ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب بھی بائیک سے بائیک، کار سے کار، بائیک سے کار، کار سے بائیک یا بائیک یا کار انسان سے ٹکراتی ہیں  تو کسی کی جان جاتی ہے اور کسی کا ہاتھ پیر ٹوٹتا ہے۔ جس کی جان جاتی ہے اس کے اہل خانہ پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے اور جس کا ہاتھ پیر ٹوٹتا ہے وہ شدید اذیت سے گزرنے کے باوجود کبھی تو مکمل صحتمند نہیں  ہوپاتا اور کبھی مستقل طور پر معذور ہو جاتا ہے۔ بائیک ٹکرا کر فرار ہو جانے والا زخمی ہو جانے والے کی بابت کبھی نہیں  جان پاتا کہ وہ کتنے دن اسپتال میں  رہا اور کتنی اذیتوں  سے دوچار ہوا۔ معاشرہ کو چاہئے کہ بڑھتے حادثات کو مسئلہ مانے۔ اگر یہ مسئلہ ہے اور سنگین ہے تو اس کے حل کی تدابیر پر غورو خوض اور گاڑیاں  چلانے والوں  کی ذہن سازی ہو تاکہ حادثات کے تدارک میں  ہم اپنا کردار ادا کرسکیں ۔ رب العالمین کا ارشاد ہے کہ ’’اپنے ہاتھوں  ہلاکت میں  نہ پڑو‘‘۔ کیا بے اعتدالی سے گاڑیاں  چلانا اپنے ہاتھوں  ہلاکت میں  پڑنا نہیں  ہے؟ کیا یہ فرمان خداوندی ہمیں  یاد نہیں ؟ یا ہم یہ سمجھتے ہیں  کہ سڑک حادثات پر اس فرمان کا اطلاق نہیں  ہوتا؟  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK